کالمز

23 ماہ کا معاشی عذاب اور حکومت کا غریب کش ایجنڈا

معاشی عذاب
معاشی عذاب

مئی 2026ء کی معاشی رپورٹ اور افراطِ زر کے اعداد و شمار

وفاقی ادارۂ شماریات کی جاری کردہ مئی 2026ء کی معاشی رپورٹ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کا عکس پیش کرتی ہے۔ 23 ماہ کے عرصے میں بنیادی سہولیات اور افراطِ زر کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

مد (Category)

نرخوں میں اضافہ / مجموعی صورتحال

متاثرہ طبقہ

پٹرول کی قیمتیں

55% اضافہ

عام شہری، ٹرانسپورٹ، اور دیہاڑی دار طبقہ

بجلی کے نرخ

36.47% اضافہ

گھریلو صارفین اور صنعتی و تجارتی طبقہ

بنیادی خوراک (آٹا، پیاز، گندم)

60% سے زائد اضافہ

خطِ غربت کے قریب زندگی گزارنے والے شہری

سرکاری کم از کم اجرت

37,000 روپے

مڈل کلاس اور سفید پوش طبقات

معاشی پالیسیاں اور عام عوام پر مالی دباؤ

موجودہ معاشی ماڈل اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے نتیجے میں عام عوام کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی ہے:

  1. ٹیکسوں اور لیوی کا بوجھ: بلاواسطہ (Indirect) ٹیکسوں کی وجہ سے اشیائے خور و نوش اور ادویات عام شہری کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔

  2. شاہانہ اخراجات: ایک طرف عوام کے لیے سبسڈیز اور سہولیات کو ختم کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف سرکاری سطح پر مفت پٹرول، بجلی اور شاہانہ پروٹوکول کا سلسلہ جاری ہے۔

  3. سفید پوش طبقے کی مشکلات: ساڑھے 37 ہزار کی بنیادی اجرت پر گزر اوقات کرنے والے خاندانوں کے لیے بجلی کے بل اور خوراک کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔

مہنگائی کا متبادل معاشی حل اور عوامی احتجاج

معاشی بحران اور قرضوں کے عذاب سے نکلنے کے لیے مختلف سیاسی و مذہبی حلقوں بالخصوص تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) اور اس کے امیر علامہ حافظ سعد حسین رضوی نے اہم تجاویز اور الٹی میٹم پیش کیے تھے:

  • پاکستان بچاؤ مارچ: مئی 2023ء میں مہنگائی اور سودی قرضوں کے خلاف عوامی بیداری مہم کا آغاز کیا گیا۔

  • اخراجات میں کمی کی تجاویز: وزراء، بیوروکریسی اور دیگر اداروں کو ملنے والا مفت پٹرول اور بجلی فوراً بند کی جائے۔

  • متبادل سستے ذرائع: بین الاقوامی سطح پر متبادل اور سستے ذرائع سے ایندھن کی در آمد یقینی بنا کر اس کا فائدہ بلاواسطہ عوام تک پہنچایا جائے۔

آئی ایم ایف سے نجات اور "نظامِ مصطفیٰ ﷺ" کی اہمیت

پاکستان کو معاشی غلامی اور سودی عذاب سے نکالنے کا دائمی اور پائیدار حل اسلامی معاشی قوانین کا نفاذ ہے:

"جب تک اس ملک سے سود کی لعنت کا جڑ سے خاتمہ کر کے، زکوٰۃ، عشر اور مصطفوی معاشی قوانین کو نافذ نہیں کیا جائے گا، تب تک معاشی مساوات اور حلال روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو سکتے۔"

عدلِ فاروقی اور مصطفوی معیشت کا قیام ہی ایسا واحد راستہ ہے جس کے ذریعے معاشی ناانصافی ختم کی جا سکتی ہے اور ملک کو حقیقی معنی میں خودکفیل بنایا جا سکتا ہے۔

حاصلِ کلام (Conclusion)

پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کا حل وقتی سبسڈیز یا مزید سودی قرضوں میں نہیں، بلکہ پائیدار معاشی اصلاحات، حکومتی اخراجات میں ڈرامائی کمی، اور اسلامی عدل کے نظام میں مضمر ہے۔ عام شہری کو معاشی ریلیف دینا اور اس کی عزتِ نفس کا تحفظ کرنا کسی بھی فلاحی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0