کالمز

مسئلہ عقیدۂ ختمِ نبوت، آئینِ پاکستان اور قادیانی ایجنڈا

مسئلہ عقیدۂ ختمِ نبوت
مسئلہ عقیدۂ ختمِ نبوت

عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ: قرآن و حدیث کی روشنی میں

عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کا بنیادی اور بنیادی ترین رکن ہے، جس پر امتِ مسلمہ کا روزِ اول سے کامل اتفاق رہا ہے۔

قرآنی ارشاد

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں خاتم النبیین ﷺ کی ختمِ نبوت کا اعلانیہ اعلان ان الفاظ میں فرمایا:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَااَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠

"محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام انبیاء کے خاتم (آخری نبی) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔" — (سورۃ الاحزاب: 40)

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وآله وسلم: أنا خاتم النبيين لا نبي بعدي

"میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔" — (سنن الترمذي: 2219)

آئینِ پاکستان اور 1974ء کی تاریخی دوسری ترمیم

پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ہر شخص آئین و قانون کا پابند ہے۔ آئینِ پاکستان نے عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کو مکمل قانونی اور آئینی تحفظ فراہم کیا ہوا ہے:

  • تاریخی فیصلہ (7 ستمبر 1974ء): پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک متفقہ تاریخی قرارداد کے ذریعے دوسری آئینی ترمیم منظور کی، جس کی قیادت علامہ شاہ احمد نورانیؒ اور دیگر جلیل القدر علماء و پارلیمنٹرینز نے کی۔

  • آرٹیکل 260 شق (3): اس شق کے مطابق جو شخص حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتا، وہ دائرۂ اسلام سے خارج اور آئینی طور پر غير مسلم اقلیت شمار ہوتا ہے۔

  • قادیانیت اور شعائرِ اسلام: آئینِ پاکستان کے تحت غیر مسلم اقلیتوں کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت کی آزادی حاصل ہے، لیکن قادیانیوں کی جانب سے اسلامی شعائر کا استعمال اور خود کو مسلمان ظاہر کرنا آئینِ پاکستان اور امتناعِ قادیانیت قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

حالیہ اعزازات کی تقسیم اور عوامی و آئینی تحفظات

حالیہ دنوں میں سرکاری سطح پر سول اعزازات (ستارۂ امتیاز / ستارۂ فضیلت) کی تقسیم کے موقع پر کچھ ایسی شخصیات کو نامزد کرنے یا ایوارڈ دینے پر شدید عوامی و مذہبی تحفظات سامنے آئے ہیں جو آئینی حدود اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے حوالے سے متنازعہ موقف رکھتی ہیں۔

  1. ستارۂ امتیاز کا وقار: ستارۂ امتیاز ریاست کا تیسرا بڑا سول اعزاز ہے، جو ملک کی نظریاتی و آئینی بنیادوں کے احترام سے مشروط ہونا چاہیے۔

  2. شہری کی تعریف اور آئین کی پابندی: آئینی ماہرین اور قومی رہنماؤں کا موقف رہا ہے کہ جو شخص آئینِ پاکستان کی بنیادی شقوں (بالخصوص عقیدۂ ختمِ نبوت سے متعلق 1974ء کی ترمیم) کو تسلیم نہ کرے، وہ ریاستی اعزازات کا حقدار نہیں ہو سکتا۔

  3. محبِ وطن شہریوں کا تحفظ: حبِ وطنی اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے والے علماء اور شہریوں کو تحفظ دینے کے بجائے نظر انداز کرنا تشویشناک امر ہے۔

دفاعِ ختمِ نبوت کی تاریخی جدوجہد

ختمِ نبوت کے تحفظ کی تاریخ قربانیوں اور استقامت سے بھری پڑی ہے:

  • سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے عہدِ مبارک میں معرکۂ یمامہ سے لے کر۔

  • 1953ء اور 1974ء کی تحریکاتِ ختمِ نبوت (علامہ شاہ احمد نورانیؒ و دیگر اکابرین)۔

  • اور حالیہ ادوار میں علامہ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے رفقاء کی جرات مندانہ جدوجہد۔

حاصلِ کلام (Conclusion)

پاکستان ایک اسلامی و نظریاتی مملکت ہے جس کی بنیاد کلمۂ طیبہ پر رکھی گئی ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ 1974ء کی آئینی ترمیم کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائے اور سول اعزازات کی تقسیم سمیت تمام اہم فیصلوں میں آئینِ پاکستان کے بنیادی اسلامی احکامات کا احترام قائم رکھے۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0