آج مسلکِ اہلسنت والجماعت جس نازک اور کٹھن دور سے گزر رہا ہے، اس میں سب سے بڑا المیہ دشمن کی طاقت نہیں بلکہ ہماری اپنی فکری پراگندگی، ترجیحات کا انتشار اور باہمی فاصلے ہیں۔ ہم نے اپنے وجود کو تنظیمی وابستگیوں اور مصلحتوں کے ایسے دائروں میں محدود کر لیا ہے کہ اب ہمیں اپنے وجود پر لگنے والی ضرب بھی اُس وقت تک محسوس نہیں ہوتی جب تک وہ ہماری اپنی تنظیمی دیوار پر نہ لگے۔
تنظیمی تعصبات اور باہمی بکھراؤ
ذرا ایک لمحے کے لیے تنظیمی تعصبات اور ذاتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر خالص مسلکی درد کے ساتھ اس صورتحال پر غور کیجیے۔ جب میدانِ عمل میں "کرین پارٹی" ناموسِ رسالت ﷺ، عقیدۂ ختمِ نبوت اور آئینِ پاکستان کے تحفظ کے لیے قربانیاں دیتی ہے، تو بعض حلقے اسے صرف ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ سمجھ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح جب دینی و اصلاحی میدان میں مختلف سنی دینی و تبلیغی تحریکیں امت کی اصلاح، تعلیم اور تربیت کے لیے شب و روز محنت کر رہی ہوتی ہیں، تو کئی طبقات ان سے فکری یا تنظیمی فاصلے قائم رکھتے ہیں۔
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ طرزِ فکر کس کے مفاد میں ہے؟ دشمن بخوبی جانتا ہے کہ اہلسنت کو براہِ راست شکست دینا ممکن نہیں، اس لیے اس نے ہماری قوت کو مختلف خانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ یہی بکھراؤ آج ہماری کمزوری بن چکا ہے، اور اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر حکومتیں اتنی دلیر ہو چکی ہیں کہ ہمارے نظریاتی مراکز، مساجد اور مزارات پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت کر رہی ہیں۔
مساجد اور مزاراتِ اولیاء کے تحفظ کا مسئلہ
اب صورتحال بالکل واضح ہو چکی ہے۔ چاہے محکمہ اوقاف کے ذریعے داتا صاحب اور عبداللہ شاہ غازی جیسے عظیم مزاراتِ اولیاء کے سنی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششیں ہوں، یا گزشتہ کئی ماہ سے "مزارِ بابا جان" اور "جامع مسجد رحمتہ للعالمین" پر قائم جابرانہ سرکاری بندش — یہ سب الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ جب ظ۔ال۔م یہ دیکھتا ہے کہ لاہور کے قلب میں ایک فعال جامع مسجد مسلسل بند ہے اور پورا اہلسنت مصلحت کی چادر اوڑھے خاموش ہے، تو اس کے حوصلے اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ وہ دیگر دینی مراکز کی طرف بھی بڑھنے لگتا ہے۔ یاد رکھیے! مظلوم کی خاموشی اکثر ظالم کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
بیداریِ فکر اور اتحادِ اہلسنت کی ضرورت
اب بھی وقت ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں۔ ماضی میں اگر کسی نے مصلحت، تنظیمی فاصلے یا کسی اور وجہ سے آواز بلند نہیں کی تو اب اس پر شکوہ کرنے کے بجائے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا کسی ایک جماعت یا تنظیم کا فریضہ نہیں بلکہ پورے اہلسنت کی اجتماعی غیرت اور دینی حمیت کا تقاضا ہے۔ جب تک ہم الگ الگ دائروں میں بٹے رہیں گے، دشمن ہمیں ایک ایک کر کے کمزور کرتا رہے گا۔ ہماری بقا صرف اتحاد، باہمی اعتماد اور مشترکہ حکمتِ عملی میں ہے۔
علماء و مشائخ سے دردمندانہ اپیل
آئیے! تمام فروعی، سیاسی اور تنظیمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مسلکِ اہلسنت کے وسیع تر مفاد کے لیے ایک صف میں کھڑے ہو جائیں۔ جامع مسجد رحمتہ للعالمین کی بحالی، مزاراتِ اولیاء کے تحفظ اور دینی تشخص کے دفاع کو اپنا مشترکہ مقصد بنائیں۔ تمام علمائے کرام، مشائخِ عظام اور دینی قائدین سے دردمندانہ اپیل ہے کہ آگے بڑھیں، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں اور اس جابرانہ طرزِ عمل کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ اگر ہم آج متحد ہو کر حق اور انصاف کے لیے کھڑے ہو گئے، تو ان شاء اللہ مسلکِ حق کا پرچم ہمیشہ سربلند رہے گا۔
تبصرے 0