سرزمینِ فلسطین کو اسلام میں بہت عظیم فضیلت حاصل ہے۔ یہ زمین تاریخی، دینی اور روحانی اعتبار سے ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کے کئی فضائل بیان کیے گئے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
قرآن و حدیث کی روشنی میں فلسطین کے فضائل
1 : قرآنِ مجید میں ذکر:
اللہ تعالیٰ نے فلسطین کو ارضِ مقدسہ کہا ہے:
وَيَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ (المائدۃ: 21)
یعنی: "اے میری قوم! مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ۔"
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ فلسطین کو اللہ تعالیٰ نے برکت عطا فرمائی ہے۔ مسجدِ اقصیٰ کا ذکر کرتے ہوئے ربِّ کریم کا ارشاد ہے:
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ (بنی اسرائیل: 1)
"پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی، جس کے گرد و نواح کو ہم نے برکت دی۔"
2: مسجدِ اقصیٰ اور قبلۂ اول
مسجدِ اقصیٰ اسلام کا قبلۂ اول ہے۔ مسلمان پہلے اسی کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ یہ مسلمانوں کے تین مقدس ترین مقامات میں شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى (صحیح بخاری: 1189، صحیح مسلم: 1397)
"سفر صرف تین مساجد کے لیے کیا جائے: مسجدِ حرام، میری یہ مسجد (مسجدِ نبوی) اور مسجدِ اقصیٰ۔"
3: انبیائے کرام کی سرزمین
فلسطین وہ سرزمین ہے جہاں کئی انبیائے کرام پیدا ہوئے ، ان کی بعثت ہوئی اور وہیں مدفون ہیں، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام اور دیگر انبیائے کرام
4: آخری زمانے اور قیامت کے احوال
فلسطین کو قیامت کے قریب بھی ایک اہم مقام حاصل ہوگا۔ کئی احادیث میں ذکر ہے کہ دجال کا خاتمہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اسی خطے میں ہوگا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ۔ (صحیح مسلم: 2937)
"پھر عیسیٰ ابنِ مریم دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے پاس نازل ہوں گے۔"
5: عالمِ انسانیت کے لیے بابرکت زمین
فلسطین کو بابرکت زمین قرار دیا گیا ہے:
وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ (الأنبیاء: 71)
"اور ہم نے ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف نجات دی جسے ہم نے جہان والوں کے لیے بابرکت بنایا تھا۔"
خلاصہ:
فلسطین کو اللہ تعالیٰ نے روحانی برکتوں، انبیائے کرام کی موجودگی اور اسلام کے مقدس مقامات کی وجہ سے خاص فضیلت عطا فرمائی ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ ایمان اور عقیدت کا مرکز ہے، اور اس کی حفاظت اور اس کے لیے دعائیں کرنا ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔
قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ میں یہود کے بارے میں واضح احکامات اور ان کے اعمال کی مذمت کا ذکر موجود ہے، خاص طور پر ان کے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ رویے، اللہ کے احکامات سے انحراف اور فساد پھیلانے کے حوالے سے۔ ان نصوص کا مقصد اصلاح، رہنمائی اور ان برائیوں سے بچنے کی تنبیہ ہے۔ ذیل میں ان قرآنی آیات اور احادیث کا ذکر کیا گیا ہے:
قرآن و حدیث میں یہود کی مذمت اور ان کا انجام
قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ میں یہود کی تحریفات، نافرمانیوں اور فساد کے حوالے سے واضح نصوص موجود ہیں:
قرآنی آیات کی روشنی میں
تحریف اور نافرمانی: ﴿يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ﴾ (النساء: 46) — وہ اللہ کے کلام کو اس کی جگہوں سے بدل دیتے ہیں۔
انبیاء کی نافرمانی اور قتل: ﴿وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ﴾ (البقرۃ: 61) — اور وہ انبیاء کو ناحق قتل کرتے ہیں۔
سود خوری اور فساد فی الارض: ﴿وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ﴾ (النساء: 161) اور ﴿وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا﴾ (المائدۃ: 64)۔
احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
یہودیوں کی عہد شکنی:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود کے ساتھ ہمیشہ عہد شکنی کا معاملہ رہا ہے۔ (بخاری: 3947)
آخری زمانے میں یہودیوں کے انجام کا ذکر:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں کے خلاف نہ لڑیں، یہاں تک کہ پتھر اور درخت پکار اٹھیں گے: اے مسلمان! میرے پیچھے ایک یہودی چھپا ہوا ہے، اسے قتل کر۔" (صحیح مسلم: 2922)
یہودیوں کی جادوگری: یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا تھا، جس کا ذکر احادیث میں ملتا ہے۔ اس واقعے میں لبید بن اعصم نامی یہودی نے جادو کیا، جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ ﷺ کو شفا عطا فرمائی۔
سود اور بدعنوانی کی مذمت:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ نے یہود پر لعنت کی، کیونکہ انہوں نے سود کھایا اور دوسروں کو بھی کھلایا۔" (مسند احمد: 16691)
یہودیوں کا حسد:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود فلسطین پر ہونے والے صیہونی ظلم کی داستان ایک طویل اور دلخراش تاریخ پر مبنی ہے، جو فلسطینی عوام کے حقوق، ان کی زمین اور ان کی آزادی کو سلب کرنے کے واقعات سے عبارت ہے۔ یہ کہانی مظلومیت، مزاحمت اور قربانی کی ان گنت مثالوں پر مشتمل ہے، جنہیں فلسطینی شہداء نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر امر کر دیا۔
1۔ فلسطین پر صیہونی قبضے کی ابتدا:
بنیادی پس منظر:
19ویں صدی کے آخر میں صیہونی تحریک کے آغاز سے فلسطین کو ایک یہودی ریاست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت ہزاروں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر مہاجر بنا دیا گیا۔ یہ واقعہ "النکبہ" (تباہی) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
صیہونی ظلم و ستم:
صیہونی فورسز نے ہزاروں فلسطینی دیہاتوں کو تباہ کر دیا، جن میں دیر یاسین جیسے قتلِ عام شامل ہیں، جہاں درجنوں بے گناہ فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ پر قبضہ کر لیا، اور فلسطینیوں کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیلی حکومت کے غیر قانونی یہودی آبادکاری منصوبوں اور فلسطینی زمینوں پر قبضے نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا۔
2۔ صیہونی ظلم کی نوعیت:
زمینوں پر قبضہ: فلسطینی زمینوں پر غیر قانونی یہودی آبادکار بستیاں قائم کی گئیں۔
قتلِ عام: اسرائیلی فوج اور صیہونی ملیشیاؤں نے کئی بار فلسطینی مظاہرین اور عام شہریوں پر حملے کیے، جن میں عورتیں، بچے اور بوڑھے بھی شامل تھے۔
ناکہ بندی: غزہ کی پٹی پر اسرائیل نے سخت ناکہ بندی عائد کی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔
عبادت کی آزادی کی خلاف ورزی: مسجدِ اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات پر بارہا حملے کیے گئے۔
گرفتاریاں اور تشدد: ہزاروں فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
3۔ شہداء کا کردار:
فلسطینی عوام نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہمیشہ مزاحمت کی، اور اس جدوجہد میں شہداء کا کردار اہم رہا ہے۔
شہداء کی قربانیاں:
فلسطینی شہداء نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر اپنی سرزمین، عزت اور مقدس مقامات کا دفاع کیا۔ بچوں، خواتین اور نوجوانوں نے اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر اسرائیلی ظلم کے خلاف مزاحمت کی۔ ہر فلسطینی شہید اسرائیلی مظالم کے خلاف جدوجہد کی علامت بن گیا۔
شہادت کے واقعات:
انتفاضہ تحریکیں: 1987ء کی پہلی انتفاضہ اور 2000ء کی دوسری انتفاضہ میں ہزاروں فلسطینی شہید ہوئے، جنہوں نے پتھروں سے لیس ہو کر اسرائیلی فوج کا مقابلہ کیا۔
غزہ کی جنگیں: غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید ہوئے، جن میں اکثر معصوم بچے شامل تھے۔
شہید رہنما: فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں یاسر عرفات، احمد یاسین اور دیگر رہنما شہادت یا اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے۔
4۔ شہداء کی مزاحمت کے اثرات:
فلسطینی تشخص کا احیا: شہداء نے فلسطینی عوام کو ان کی زمین اور آزادی کے لیے متحد رکھا۔
عالمی حمایت: ان کی قربانیوں نے دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں آوازیں بلند کیں۔
مظلومیت کی علامت: فلسطینی شہداء دنیا بھر میں صبر، قربانی اور مزاحمت کی مثال بنے۔
جدوجہد کی نئی روح: ہر شہید نے فلسطینی نوجوانوں کو مزاحمت کی نئی تحریک دی۔
5۔ عالمی برادری کا ردِ عمل اور فلسطینی مزاحمت:
عالمی بے حسی: بیشتر عالمی طاقتیں اسرائیلی مظالم کے خلاف خاموش رہی ہیں یا اسرائیل کی حمایت کرتی ہیں۔
فلسطینی مزاحمت: حماس، جہادِ اسلامی اور دیگر گروہ شہداء کی قربانیوں سے متاثر ہو کر مزاحمت کر رہے ہیں۔
نتیجہ:
فلسطین پر صیہونی ظلم ایک ناقابلِ معافی جرم ہے، جس نے لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔
شہداء کی قربانیوں نے نہ صرف فلسطینی عوام کو جینے کی امید دی ہے بلکہ دنیا کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہونے کی دعوت دی ہے۔ شہداء کی داستان فلسطینی عوام کی مزاحمت، جرأت اور قربانی کی لازوال علامت ہے۔
تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) کا مؤقف اور کردار
فلسطین میں جاری حالیہ تنازعے کے دوران، تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے مختلف سرگرمیوں کے ذریعے اپنی حمایت اور مؤقف کا اظہار کیا ہے۔ ان سرگرمیوں میں ترجیحاً شامل ہیں:
احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے: ٹی ایل پی نے ملک کے مختلف شہروں میں فلسطینی عوام کے حق میں ریلیاں نکالیں۔ مثال کے طور پر، ملتان میں تحفظِ قرآن و فلسطین ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقررین نے قرآن کی بے حرمتی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی۔
جہاد کی حمایت: ٹی ایل پی کے رہنماؤں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کی آزادی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ امیرِ تحریک لبیک ضلع مظفرآباد، میر فرہاد احمد قادری رضوی نے حکومت سے فی الفور جہاد کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بیت المقدس کی آزادی کے لیے وہ اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں۔
عوامی شعور بیدار کرنا: ٹی ایل پی نے مختلف پلیٹ فارمز پر فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھائی، تاکہ عوام میں اس مسئلے کے حوالے سے شعور بیدار ہو۔
ان سرگرمیوں کے ذریعے تحریک لبیک پاکستان نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی اور اسرائیلی اقدامات کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔
فلسطین میں جاری حالیہ تنازعے کے دوران، تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے مختلف سرگرمیوں کے ذریعے اپنی حمایت اور مؤقف کا اظہار کیا ہے۔ ان سرگرمیوں میں شامل ہیں:
فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور عملی مدد:
کسی کے مالی، جسمانی یا سماجی حالات سے قطعِ نظر ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہے۔ اگرچہ ہم ظاہری طور پر کمزور محسوس کر سکتے ہیں، لیکن کئی ایسے اقدامات ہیں جو ہم فلسطینی عوام کی جدوجہد کے لیے کر سکتے ہیں۔
1۔ شعور بیدار کریں:
مسئلہ سمجھیں: فلسطین کی تاریخ، صیہونی ظلم اور موجودہ حالات کے بارے میں علم حاصل کریں۔
لوگوں کو آگاہ کریں: اپنے گھر، دوستوں، اسکول یا دفتر میں فلسطینی عوام کی مشکلات اور ان کی جدوجہد کے بارے میں بات کریں۔
سوشل میڈیا استعمال کریں: فلسطینی عوام کی آواز کو آگے بڑھائیں اور اسرائیلی مظالم کی حقیقت دنیا تک پہنچائیں۔
2۔ مالی معاونت:
مستند تنظیموں کو عطیات دیں: کئی بین الاقوامی اور مقامی تنظیمیں فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد فراہم کرتی ہیں۔
یتیموں کی کفالت: فلسطین میں کئی بچے اپنے والدین کھو چکے ہیں۔ ان کے لیے کفالت کے منصوبوں میں حصہ لیں۔
انسانی ہمدردی کے پروجیکٹس: غزہ یا مغربی کنارے میں اسپتالوں، اسکولوں یا پناہ گزین کیمپوں کی مدد کے لیے عطیات دیں۔
3۔ بائیکاٹ کریں:
اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ: اسرائیلی مصنوعات نہ خریدیں اور دوسروں کو بھی اس کے بارے میں آگاہ کریں۔
بی ڈی ایس (BDS: Boycott, Divestment and Sanctions) تحریک کی حمایت کریں۔
اسرائیل پر معاشی اور اخلاقی دباؤ ڈالنے کے لیے یہ ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
4۔ فلسطینی ثقافت اور شناخت کو فروغ دیں:
فلسطینی شاعری، ادب، آرٹ اور موسیقی کو سیکھیں اور شیئر کریں تاکہ ان کی شناخت زندہ رہے۔ فلسطینیوں کی زمین اور تاریخ کو یاد رکھنے کے لیے ان کی کہانیاں سنائیں اور محفوظ کریں۔
5۔ سیاسی دباؤ ڈالیں:
حکومت پر دباؤ ڈالیں: اپنے ملک کی حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ فلسطین کے حق میں مؤقف اپنائے اور اسرائیلی مظالم کی مذمت کرے۔
عالمی تحریکوں میں شامل ہوں: فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں اور ریلیوں میں شرکت کریں۔
پٹیشنز پر دستخط کریں: اقوامِ متحدہ یا دیگر عالمی اداروں میں فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے مہمات کا حصہ بنیں۔
6۔ دعا اور روحانی مدد:
دعا کریں: فلسطینی عوام کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ انہیں ظلم سے نجات دے اور ان کی مدد فرمائے۔
قرآن و احادیث کی روشنی میں عمل: مظلوموں کی مدد کے ہر ممکن طریقے اپنائیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔
7۔ فلسطینی مصنوعات خریدیں:
فلسطین میں بنی مصنوعات، جیسے زیتون کا تیل، کپڑے یا دیگر اشیاء خریدیں تاکہ ان کی معیشت کو تقویت ملے۔
8۔ میڈیا میں مثبت کردار ادا کریں:
جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ کریں: اسرائیل کے جھوٹے بیانیے کا سچائی سے جواب دیں۔
فلسطینی صحافیوں کی مدد کریں: ان کی ویڈیوز، تصاویر اور رپورٹس کو پھیلائیں تاکہ دنیا حقیقت جان سکے۔
نتیجہ:
فلسطین کا ساتھ دینے کے لیے طاقتور ہونا ضروری نہیں؛ نیت اور عمل اہم ہیں۔ اگر ہم اپنی استطاعت کے مطابق علم پھیلائیں، دعا کریں، مالی مدد کریں اور انصاف کے لیے آواز بلند کریں، تو یہ چھوٹے اقدامات بڑے اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، آپ کی ہر چھوٹی کوشش فلسطینی عوام کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہے۔
تبصرے 0