حامداً ومصلياً ومسلماً، أما بعد، فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم۔
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِجَالِكُمْ وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (سورۃ الأحزاب: 40)
ترجمہ: نہیں ہیں محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ ، لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں میں آخری ہیں، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي»
ترجمہ: میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
عقیدۂ ختمِ نبوت مسلمانوں کے لیے انتہائی اہم، ضروری اور بنیادی نوعیت کا حامل ہے۔
عہدِ رسالت سے لے کر آج تک کئی بدبختوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کیے، جن میں اشارۂ فرنگی پر ضمیر فروش، انگریز کا خود کاشتہ پودا مرزا قادیانی بھی ہے۔
مرزا قادیانی کی ابتدائی زندگی اور پیش گوئی
مرزا قادیانی 1835ء میں ضلع گورداس پور کے گاؤں قادیان میں پیدا ہوا، اور بعد ازاں عربی، فارسی اور طب میں معمولی استعداد حاصل کر کے 1864ء میں سیالکوٹ کی کچہری میں 15 روپے ماہوار کے عوض ملازمت اختیار کی۔ ابتدائی زندگی میں مرزا کے عقائد جمہور مسلمانوں جیسے تھے۔
حضرت خواجہ محمد خان عالم نے اس کے بے ایمان ہو کر مرنے کی پیش گوئی فرما دی تھی۔ اس اہم پیش گوئی کا انکشاف مولانا محمد امام الدین مرحوم، سکنہ چک دولت، ضلع جہلم کی قلمی یادداشتوں سے ہوتا ہے، جو انہوں نے اپنے مرشدِ برحق حضرت خواجہ غلام محی الدین دائمی، سجادہ نشین باولی شریف کے حالات کے سلسلے میں قلم بند کی تھیں۔ ان یادداشتوں کی ایک نقل خانقاہِ سلطانیہ، جہلم کے ذخیرۂ کتب میں محفوظ ہے۔ اس میں مولانا محمد امام الدین رحمہ اللہ اپنی قلمی یادداشت میں یوں لکھتے ہیں:
حضرت خواجہ فقیر محمد چورہ شریف والے اور حضرت خواجہ محمد خان عالم المعروف باباجی ایک دفعہ سیالکوٹ تشریف لے گئے۔ سیالکوٹ میں اس وقت مرزا غلام احمد، جو بعد میں مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے مشہور ہوا، ایک معمولی کلرک تھا۔ وہ حضرت خواجہ فقیر محمد علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ آپ مجھے بیعت کریں۔
آپ نے فرمایا: "کل آؤ۔"وہ دوسرے دن گیا، پھر فرمایا: "کل آؤ۔"تیسرے دن گیا تو آپ نے باباجی صاحب، حضرت خواجہ محمد خان عالم علیہ الرحمہ سے فرمایا: "آپ اسے بیعت فرمائیں۔"
آپ کے حکم کے مطابق اسے بیعت تو کر لیا، مگر فرمانے لگے: "اس شخص کے سینے میں ایمان کی خوشبو نہیں ہے، اس میں بے دینی کی بدبو ہے۔ یہ آدمی بیعت کے لائق نہ تھا۔"
باباجی علیہ الرحمہ نے اسے بیعت کے بعد توجہ دی تو مرزا نے قے کر دی۔ پھر فرمایا: "میں نے تو کوئی فرق نہیں رکھا، مگر اس کے اندر رب تعالیٰ کا نام نہیں سماتا۔" (حالات و کرامات حضرت خواجہ غلام محی الدین، خطی، ص 40، تقدیم: مفتی محمد علیم الدین صاحب، دایہ ملیہ)
مرزا قادیانی کے باطل دعاوی کا تدریجی ارتقا
1879ء - 1884ء (براہینِ احمدیہ): 50 جلدوں کا اشتہار دے کر چندہ جمع کیا، لیکن صرف 4 جلدیں شائع کیں اور مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔
1891ء (مثیلِ مسیح و مسیحِ موعود): حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا اور مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا۔
1900ء (دعویٰٔ نبوت): اپنی جھوٹی نبوت کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔
اس صورتِ حال کو مسلمانوں نے آج تک کبھی بھی برداشت نہیں کیا تھا۔ ہماری تاریخ کا ایک ایک دن گواہ ہے کہ ملتِ اسلامیہ نے کسی شخص کے دعویٰٔ نبوت کو قبول نہیں کیا۔ حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد ایسے مدعی کو اتفاقِ رائے سے جھوٹا اور کافر قرار دیا۔مرزا جس سزا کا مستحق تھا، وہ سزا اسے اس لیے نہیں ملی کہ اس کی نبوت کی پرورش برطانوی سامراج کے زیرِ سایہ ہوئی، لیکن ہمارے اسلافِ کرام، علماءِ اہلِ سنت و جماعت نے بے مثال جرأت و بہادری کا مظاہرہ کیا اور لازوال کردار ادا کیا۔
مرزا قادیانی کی زندگی سراپا شرمندگی تھی۔ متعدد علماء و مشائخِ اہلِ سنت نے اس کے باطل دعاوی کا علمی محاسبہ فرمایا۔
اکابرِ اہلِ سنت کا تاریخی و علمی رد
1: پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی اور لاہور کا تاریخی مناظرہ
مرزا قادیانی نے 22 جولائی 1900ء کو ایک اشتہار شائع کیا، جس میں 26 علماء کو دعوتِ مناظرہ دی، جن میں پیر سید مہر علی شاہ کا نام بھی شامل تھا۔
مناظرہ کا موضوع عربی میں قرآنی آیات کی تفسیر لکھنا قرار دیا گیا۔ تاجدارِ گولڑہ نے مناظرہ کا چیلنج قبول فرمایا۔ 25 اگست 1900ء کو لاہور میں مناظرہ ہونا تھا۔ بادشاہی مسجد لاہور میں علماءِ کرام، بشمول پیر سید مہر علی شاہ صاحب جمع ہو گئے۔ بالاتفاق علماء نے تاجدارِ گولڑہ کو مناظرِ اسلام مقرر کیا۔ بار بار اعلان اور تقاضے کے باوجود مرزا نے راہِ فرار اختیار کی۔ نہ خود آیا اور نہ ہی کوئی نمائندہ بھیجا۔
1904ء میں مرزا سیالکوٹ میں اپنے باطل عقائد کی تبلیغ کرنے لگا تو پیر سید مہر علی شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے، اپنی علالت کے باوجود، ایک ماہ سیالکوٹ میں قیام فرمایا۔ خود بھی مرزا کا رد کیا اور علماءِ اہلِ سنت کو بلا بلا کر مرزائیت کے رد میں تقریریں کروائیں۔ علماء کے دلائل سے عاجز آ کر مرزا اس کے بعد سیالکوٹ میں داخل ہونے کے قابل نہ رہا۔
ایک دفعہ مولانا غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمہ سے مرزا نے مباہلہ کے لیے کہا۔ حضرت مولانا بروقت پہنچے، مگر مرزا مباہلہ کرنے سے بھاگ گیا۔
2: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کا شرعی فتویٰ
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ سے کسی نے دریافت کیا: "کیا مرزا مجدد ہو سکتا ہے؟"
آپ نے فرمایا: "مجدد کا کم از کم مسلمان ہونا ضروری ہے۔ مرزا تو کافر اور مرتد ہے۔"
آپ نے پھر اس عقیدے کو ایسی اہمیت دی کہ جس نے کہا کہ نبیِ پاک ﷺ کے بعد اگر کوئی نبی آ جائے تو خاتمیتِ محمدی میں کچھ فرق نہیں آتا، آپ نے اس کو بھی کافر قرار دیا۔
3: امیرِ ملت پیر سید جماعت علی شاہ اور عبرت ناک موت
22 مئی 1908ء کو حضرت امیرِ ملت سید جماعت علی شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے بادشاہی مسجد لاہور میں جمعہ المبارک کے خطبہ میں مرزا قادیانی کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ مرزا لاہور میں موجود تھا، مگر بار بار اعلان کے باوجود سامنے نہ آیا۔
حضرت امیرِ ملت علیہ الرحمہ نے 25/26 مئی کی درمیانی شب پیش گوئی فرمائی کہ مرزا چوبیس (24) گھنٹوں کے اندر اندر عبرت ناک موت مر جائے گا۔ آپ کی پیش گوئی کے مطابق مرزا 26 مئی کو دوپہر کے وقت ہیضہ کی حالت میں عبرت ناک موت سے واصلِ جہنم ہوا۔
مرزا قادیانی کو ہمارے اسلافِ کرام نے علمی دلائل سے بھی عاجز کر دیا تھا۔ پنجاب میں مرزا قادیانی پر سب سے پہلا فتویٰ لگانے والے مردِ حق مولانا غلام قادر بھیروی سنی عالمِ دین تھے۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ کی دس تصانیف رد مرزائیت میں مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں طبع ہو کر لاجواب ثابت ہوئیں، اور مرزا کے رد میں پیر سید مہر علی شاہ صاحب علیہ الرحمہ سمیت کئی علماء نے مرزا کی زندگی میں درجنوں کتابیں اس کے رد میں لکھیں، اور وہ لاجواب رہیں۔
تحریکاتِ ختمِ نبوت کا تاریخی تسلسل
1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت
1952ء میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری علیہ الرحمہ کو مجلسِ عمل کا متفقہ صدر منتخب کیا۔
1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری علیہ الرحمہ، مولانا ابوالبرکات سید احمد قادری علیہ الرحمہ، شیخ الاسلام خواجہ محمد قمر الدین سیالوی علیہ الرحمہ، غزالیٔ زماں سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ، پیر سید فیض الحسن شاہ صاحب علیہ الرحمہ، مولانا مفتی محمد حسین نعیمی علیہ الرحمہ، مولانا سید خلیل احمد قادری علیہ الرحمہ، مولانا غلام علی اوکاڑوی علیہ الرحمہ، مولانا عبد الستار خان نیازی علیہ الرحمہ، اور حضرت علامہ مولانا حافظ شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ جیسے عظیم علماء و مشائخ شامل تھے۔ان مجاہدینِ ختمِ نبوت میں مارشل لا کی طرف سے مولانا عبد الستار خان نیازی اور مولانا سید خلیل احمد قادری رحمہ اللہ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ لیکن انہوں نے عقیدۂ ختمِ نبوت پر سودے بازی نہ کی۔
1974ء کی پارلیمانی فتح
1974ء میں پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے جس قرارداد کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا، اس قرارداد کو پیش کرنے والے ہمارے اسلاف میں درخشندہ ستارے مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ تھے۔
1953ء اور 1974ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں مؤثر انداز میں سرگرمِ عمل رہنے والے، اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے، ہمارے ہی اسلاف تھے۔
2017ء کا فیض آباد دھرنا اور ناموسِ رسالت کا تحفظ
2017ء میں جبکہ ختمِ نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی گئی تو شمعِ رسالت کے پروانے مجاہدانہ کردار ادا کرتے ہوئے امیر المجاہدین علیہ الرحمہ کے ساتھ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لانگ مارچ کرتے ہوئے فیض آباد، راولپنڈی جمع ہوئے۔ مطالبات میں سرفہرست وفاقی وزیر زاہد حامد کا استعفیٰ تھا۔
طاغوتی طاقت نے ہر نسخہ آزمایا، لیکن جن عشاق کا سودا بازارِ مصطفیٰ ﷺ میں ہو چکا تھا، وہ کیسے انہیں خرید سکتی تھی۔
محمد ہیں متاعِ عالمِ ایجاد سے پیارے
پدر و مادر، جان و مال، اولاد سے پیارے
بالآخر 12 ہزار شیلوں کی بارش، سیدھی گولیوں کی تڑتڑاہٹ، پانی بند، ایک طرف آگ اور پھر شیلنگ کا دھواں، کربلائے معلیٰ کی یاد تازہ کرتے ہوئے، عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ نعرۂ تکبیر، نعرۂ رسالت، اور تاجدارِ ختمِ نبوت کے آفاقی نعرے لگاتے ہوئے رینجرز، پولیس اور FC اہلکاروں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹے رہے۔ ﴿زُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا﴾ کی یاد تازہ کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کے محافظین کوہِ ہمالیہ کا منظر پیش کر رہے تھے۔
اسٹیج سے حضور قبلہ امیر المجاہدین علیہ الرحمہ کا پُراخلاص مجاہدانہ نعرہ "لبیک یا رسول اللہ ﷺ" اور "تاجدارِ ختمِ نبوت زندہ باد، زندہ باد، غلامانِ مصطفیٰ ﷺ" کے ایمان کو تازگی بخش رہا تھا۔ آٹھ (8) عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کی شہادت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر غالب آئی۔
اصحابِ خندق والوں کی ہوا کا جھونکا آیا، ہوا کا رخ بدلا، شیلنگ کا دھواں اِدھر اُدھر پھیلنے لگا۔ پورا پاکستان بند ہو گیا، اہلِ وطن کی زندگی اجیرن ہوئی، نظامِ سلطنت درہم برہم ہوا، بالآخر طاغوتی طاقت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی۔ وفاقی وزیرِ قانون کے استعفے کا مطالبہ منظور ہوا، جو ناممکن کے درجے سے بھی بڑھ کر تھا۔
حلف نامہ اپنی اصلی حالت میں آیا، غلامانِ مصطفیٰ ﷺ سرخرو ہوئے۔ پھر اپنے کیا، بیگانے بھی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ کربلا کا بیان تو سب کرتے ہیں، جس نے اپنی کربلا سجا کر دکھائی وہ حضرت امیر المجاہدین ہیں۔
پھر تجزیہ نگاروں، صحافیوں اور کالم نگاروں کا تجزیہ سامنے آیا کہ اس دھرنے کی وجہ سے مرزائیت کی سو سالہ محنت پر پانی پھر گیا، بلکہ وہ مزید سو (100) سال پیچھے چلی گئی۔ یہ تھے ہمارے اسلاف، جنگِ یمامہ کے تسلسل کی ایک کڑی اور وفا کا نمونہ۔
کتے کو کسی نے کہا تھا، جس کا مالک مر گیا، وہ اس کی لاش پر بیٹھ گیا۔ یوں مخاطب ہوا:
کیوں لاش پر آقا کی مرتا ہے تو
ہوٹل کی طرف جا، غذا بھی ہے کوئی چیز
کتے نے کہا:
ہو یہ جہالت، باالعصب، لیکن
میرے نزدیک وفا بھی ہے کوئی چیز
حضور امیر المجاہدین نور اللہ تعالیٰ مرقدہ بسا اوقات خود اپنے لیے یہ شعر برملا فرمایا کرتے تھے:
کتا پاکِ رسول اللہ ﷺ دا
بھونکے، شور مچاوے
ناموسِ رسالت گلشن اندر
کوئی سور نہ پھیرا پاوے
اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اپنے اسلافِ کرام، بالخصوص حضور قبلۂ امیر المجاہدین علیہ الرحمہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حاصلِ کلام
ہمارے اسلاف کی یہ تاریخی جدوجہد جنگِ یمامہ کا تسلسل اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی لا زوال مثال ہے۔ حکیم الامت علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ نے اسی حقیقت کو خوبصورت اشعار میں بیان فرمایا ہے:
پس خدا بر ما شریعت ختم کرد
بر رسولِ ما رسالت ختم کرد
رونق از ما محفلِ ایام را
او رسل را ختم و ما اقوام را
لا نبی بعدی از احسانِ خداست
پردۂ ناموسِ دینِ مصطفیٰ است
خدا تعالیٰ نے ہم پر شریعت ختم کر دی، اور ہمارے رسول ﷺ پر رسالت ختم کر دی۔ اب زمانے کی محفل میں رونق ہمارے ہی دم سے رہے گی۔ ہمارے رسول ﷺ رسولوں کے خاتم تھے، اور ہم قوموں کے خاتم ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ: "میرے بعد کوئی نبی نہیں۔" یہ خدا کا احسان ہے، اور یہ دینِ مصطفیٰ کی ناموس کا پردہ ہے۔
(اقبال)
تبصرے 0