وفاقی بجٹ 2026-27 اور بی آئی ایس پی (BISP) کے اعداد و شمار
وفاقی بجٹ 27-2026 میں نون لیگ کی حکومت کی جانب سے "بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام" کے فنڈز میں گزشتہ سال کے مقابلے میں یکمشت 17 فیصد کا بھاری اضافہ کر کے اسے 838 ارب روپے تک پہنچانا غریب پروری نہیں، بلکہ غریب کشی پر پردہ ڈالنے کی ایک سیاسی چال ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس پروگرام کے تحت 12 ملین (ایک کروڑ 20 لاکھ) خاندانوں کو اس امداد کے جال میں پھنسانے کا جو ہدف رکھا ہے، وہ درحقیقت ان کی معاشی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ اعداد و شمار فخر کے لیے نہیں بلکہ ڈوب مرنے کے لیے ہیں کہ حکومت نے اپنی غلط معاشی پالیسیوں سے ملک کی ایک بہت بڑی آبادی کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے اور اب انہیں چند ہزار روپوں کا محتاج بنا کر اپنی سیاست چمکائی جا رہی ہے۔
ٹیکسوں کا بوجھ بمقابلہ نقد امداد کا جال
اس نام نہاد مالی امداد کے پیچھے نون لیگی اشرافیہ کا اصل ایجنڈا انتہائی بھیانک ہے۔ حکومت نے ایک ہاتھ سے پٹرولیم لیوی کی مد میں 1,677 ارب روپے اور ایف بی آر ٹیکسوں کی مد میں 15,264 ارب روپے کا تاریخی بوجھ غریب عوام کی جیبوں پر ڈالا، اور دوسرے ہاتھ سے چند ہزار روپے کی بھیک تھما کر انہیں مستقل بھکاری بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کا اصل مقصد غریب کو روزگار دے کر اپنے پیروں پر کھڑا کرنا نہیں، بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے خیرات کا عادی بنا کر اپنا سیاسی غلام اور ووٹر بینک برقرار رکھنا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا وہ بدترین ہتھکنڈہ ہے جہاں عوام کو اتنا مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق مانگنے کے بجائے صرف اس چند ہزار کی امداد کو ہی اپنی کُل کائنات سمجھ بیٹھیں۔
تقسیم کار کے نظام کی خامی اور خواتین کی مشکلات
اس سیاسی ایجنڈے کی سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس رقم کی تقسیم کے لیے کوئی عادلانہ اور شفاف طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا۔ حکومت نے اربوں روپے تو مختص کر دیے، لیکن تقسیم کار کا کوئی باوقار اور پردہ دار نظام نہیں بنایا۔ نتیجتاً، اس کڑی دھوپ اور شدید موسم میں ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں چند ٹکوں کی خاطر تپتی سڑکوں، ڈسٹری بیوشن سینٹرز اور ایجنٹوں کے ڈیروں پر لمبی لمبی قطاروں میں ذلیل و خوار ہو رہی ہیں۔ تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر کوئی ایسا باوقار انتظامی ڈھانچہ موجود نہیں جو ان مستورات کو چادر اور چاردیواری کے تحفظ کے ساتھ ان کا حق ان کی دہلیز تک پہنچا سکے۔ یہ امداد کے نام پر صنفِ نازک کا بدترین استحصال اور ان کی نسوانیت و خودداری کا سرِعام جنازہ ہے، جہاں کٹوتی مافیا اور افسر شاہی کا تکبر غریب کی سفید پوشی کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔اس ذلت آمیز خیرات کے نظام کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے۔
خیرات کے بجائے روزگار: پائیدار معاشی حل
حکومت ان اربوں روپوں کو نقد بانٹ کر وقتی تسکین دینے اور قوم کو مانگنے پر لگانے کے بجائے، ان خاندانوں کے مردوں اور نوجوانوں کو چھوٹے پیمانے کی صنعتوں، بلاسود قرضوں اور مستقل روزگار کے مواقع فراہم کرے تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں اور انہیں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ جب تک غریب کو خیرات کے بجائے اس کا معاشی حق اور روزگار نہیں ملتا، ملک سے غربت کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔
نظامِ مصطفیٰ ﷺ اور فلاحی ریاست کا تصور
ان تمام مسائل کا واحد اور حتمی حل صرف اور صرف "نظامِ مصطفیٰ ﷺ" کا نفاذ ہے۔ اسلام وہ واحد دین ہے جو عورت کو معاشرے میں سب سے بلند مقام، عزت، تکریم اور چادر و چاردیواری کا تحفظ عطا کرتا ہے۔ نظامِ مصطفیٰ ﷺ میں ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو اس کی دہلیز پر باوقار روزگار اور معاشی انصاف فراہم کرے، نہ کہ ماؤں بہنوں کو سڑکوں پر لا کر ان کی تذلیل کرے۔ تحریکِ لبیک پاکستان اس فرسودہ، ظالمانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور ملک میں اسلامی عدل و انصاف کے نظام کے قیام تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، جہاں کسی بیٹی کو چند ہزار روپے کے لیے کسی ظالم اشرافیہ کی قطار میں کھڑا نہیں ہونا پڑے گا۔
تبصرے 0