کالمز

بجٹ 2026-2027: آئی ایم ایف کے اشاروں پر عوام پر نئے ٹیکسوں کی سونامی

بجٹ 2026-2027
بجٹ 2026-2027

2027-2026 کا بجٹ ایک مرتبہ پھر ایسے وقت میں پیش کیا جارہا ہے جب مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ پہلے ہی عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔ یہ عوامی فلاح کا بجٹ کم اور بین الاقوامی مالیاتی تقاضوں کی تکمیل کا بجٹ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے 215 ارب روپے جبکہ صوبوں کی جانب سے 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں، یوں مجموعی طور پر 645 ارب روپے کا اضافی بوجھ بالآخر عام شہری کی روزمرہ زندگی پر پڑنے جارہا ہے۔

غربت کی چیخیں اور قرضوں کا بوجھ

رواں مالی سال میں 11 ارب ڈالر کے ریکارڈ قرضے لیے گئے، مگر یہ قرضے آخر گئے کس کے پیٹ میں، عام شہری یہ سوال کرنے پر مجبور ہے کہ ان قرضوں کے ثمرات آخر کہاں نظر آتے ہیں؟ ایک طرف عوام غربت کی چکی میں اس قدر پس چکی ہے کہ ماں اپنے بچے کے دودھ کی فکر میں مبتلا ہے، مزدور دن بھر محنت کرنے کے باوجود شام کو اپنے گھر کا چولہا جلانے سے قاصر ہے۔ کہیں ایک باپ بیٹی کے جہیز کو بیچ کے بجلی کے بل کی ادائیگی کر رہا ہے

دوسری جانب حکمران طبقے کی شاہانہ مراعات، پروٹوکول، سرکاری اخراجات اور آسائشیں عروج پر ہیں۔ ایر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر غریب کے چولہے بجھانے کے فیصلے کرنے والوں کی اپنی اولادیں لندن میں عیاشی کر رہی ہیں جبکہ دوسری طرف ہماری آنے والی نسلیں بھی قرضوں کی زنجیروں میں جکڑی جا رہی ہیں۔

آئی ایم ایف اور معاشی خودمختاری پر سوالات

یہ بجٹ آئی ایم ایف سے بجٹ مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد پیش ہو رہا ہے۔ یعنی پاکستان کے فیصلے اب اسلام آباد میں نہیں واشنگٹن میں ہونگے۔ 77 سال بعد بھی ہم معاشی غلامی کی زنجیر نہیں توڑ سکے وجہ اس نظام سے دوری ہے جو رسول اللہﷺ دے کرگئے۔

اور سب سے بڑا جرم سود پر سود اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے اعلانِ جنگ کے بعد ہم کس ترقی کے خواب دیکھ رہے ہیں؟ قرآن میں یہ بات واضح ہے کہ سود لینے والا اللہ سے جنگ کرتا ہے۔ جس نظام کی بنیاد ہی جنگ پر ہو، وہاں برکت کیسے آئے گی؟ وہاں خوشحالی نہیں بلکہ معاشی بحران جنم لیتا ہے۔

پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا حقیقی حل

حقیقت یہ ہے کہ IMF کے نسخے 77 سال سے آزمائے جارہے ہیں۔ ہر بار قرض بڑھا، ہر بار عام عوام پسی۔ اس ملک کو قوم کی ترقی اورخوشحالی IMF کے اشاروں پر عمل کرنے میں نہیں، بلکہ نظامِ مصطفٰی ﷺ میں ہے ایسا نظام جو سود، کرپشن، طبقاتی فرق سے پاک نظام ہے جہاں وقت کا حاکم بادشاہ نہیں بلکہ قوم کا خادم ہوتا ہے جہاں ضروریات زندگی عوام کی دہلیز پر پہنچائی جاتی ہیں۔ جب تک ہم اس نظام کی طرف نہیں لوٹیں گے، ہر بجٹ پچھلے بجٹ سے زیادہ ظالمانہ ہو گا۔

اب بھی وقت ہے لوٹ آؤ اس نظام کی طرف جہاں حکمرانوں کی عیاشیوں کے لیے عوام کو سولی نہیں چڑھایا جاتا۔ جہاں وقت کے حاکم کے کاندھوں پہ اناج کی بوری رکھ کے غریب کی دہلیز تک پہنچا دی جاتی ہے۔ جہاں بیت المال پر حق عوام کا ہوتا ہے نہ کہ اسکو حکمرانوں کی ذاتی جاگیر سمجھا جاتا ہے۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0