ولادت، تعلیمی پس منظر اور علمی مقام
علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ پاکستان کے ایک جلیل القدر عالم، شیخ الحدیث اور خطیب تھے۔
تفصیلات | معلومات |
تاریخ و مقامِ ولادت | 22 جون 1966ء، نکہ کلاں (تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک) |
تعلیمی قابلیت | حافظِ قرآن، فاضل جامعہ نظامیہ لاہور |
علمی درک | شیخ الحدیث، متبحر عالم، اور پنجابی، اردو، عربی و فارسی زبانوں پر کامل عبور |
تاریخِ وفات | 19 نومبر 2020ء (بروز جمعرات، لاہور) |
عملی سیاست، تحریکِ لبیک اور ناموسِ رسالت ﷺ کی چوکیداری
علامہ خادم حسین رضویؒ نے ممتاز قادری رہائی تحریک اور تحریکِ فدائیانِ ختمِ نبوت کی سرپرستی سے اپنے سفر کا آغاز کیا، جس کے بعد تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) کی بنیاد رکھی۔
عملی سیاست میں قدم: 2017ء میں عملی سیاست کا آغاز کیا اور مختصر عرصے میں ملکی سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر دیا۔
عام انتخابات 2018ء: انتخابات میں حصہ لے کر اپنی عوامی مقبولیت اور نظریاتی طاقت سے حیرت انگیز نتائج دیے اور کروڑوں دلوں میں جگہ بنائی۔
بنیادی مقصد: آپ کا مقصد دین کو اقتدار میں لانا تھا تاکہ اسلامی اقدار، تحفظِ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ بلا کسی مصلحت کے کیا جا سکے۔
جرات مندانہ خطابت اور مذہبی حلقوں کا فکری انقلاب
علامہ خادم حسین رضویؒ کی بے باک، پرتاثیر اور علامہ اقبال کے اشعار سے مزین خطابت نے مذہبی حلقوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔
خوابیدہ ضمیروں کی بیداری: محض خانقاہوں اور روایتی وعظ تک محدود رہنے والوں کو ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے عملی میدان میں آنے کی دعوت دی۔
غیرتِ ایمانی کا بیدار ہونا: آپ کے انوکھے طرزِ بیان نے دینی قوتوں کے لہجے بدل دیے اور امت کے نوجوانوں کے کردار میں جرأت اور حرارت پیدا کر دی۔
اقبال کا شاہین: علامہ اقبالؒ کے اشعار کو عوامی سطح پر زندہ کرنے اور نوجوانوں کو ان کے اصل مقصد سے روشناس کرانے میں آپ کا مرکزی کردار رہا۔
فکرِ ایوبی کا وارث": فلاحی و سماجی خدمات
جسمانی معذوری کے باوجود علامہ خادم حسین رضویؒ کا عزم و حوصلہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد تازہ کرتا تھا۔
مظلوم مسلمانوں کی امداد: برما، کشمیر، شام اور لبنان کے مظلوم مسلمانوں کے لیے امدادی سامان، ادویات اور غذائی اجناس کی روانگی کے انتظامات کیے۔
بین الاقوامی اعتراف: ترکی کے صدر سمیت دنیا بھر کی دینی و فلاحی شخصیات نے ان کی رفاہی و سماجی سرگرمیوں کی تحسین کی۔
مہاجرین کی آباد کاری: بے گھر اور مظلوم مسلمان مہاجرین کی امداد کے لیے شب و روز کوشاں رہے۔
انجمنِ اساتذۂ پاکستان کے سابق صدر جناب سید ارشد گیلانی صاحب سے لاہور میں ملاقات ہوئی، اور انجمنِ نعمانیہ لاہور میں موجود اپنے مرشدِ گرامی حضرت خواجہ محمد معصوم رحمتہ اللہ علیہ کے زمان طالب علمی کے ریکارڈ کے لیے وہاں جانا طے پایا، لیکن شاہ صاحب نے فرمایا:
"اب تو انجمنِ نعمانیہ لاہور کا نظم و انتظام علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ہے۔ آپ اگلی دفعہ آئیں گے تو چلیں گے، تب تک ہم وقت لے لیتے ہیں۔"
لیکن قدرت نے انہیں مہلت نہ دی اور وہ ۱۹ نومبر ۲۰۲۰ء، بروز جمعرات لاہور میں انتقال فرما گئے۔
تاریخی جنازہ اور صاحبزادے کی قیادت
نمازِ جنازہ: مینارِ پاکستان کے تاریخی گراؤنڈ میں لاکھوں کی تعداد میں موجود عاشقانِ رسول ﷺ نے شرکت کی، جس کی امامت آپ کے صاحبزادے اور جانشین علامہ حافظ محمد سعد حسین رضوی (مرکزی امیر TLP) نے کرائی۔
میڈیا اور صحافتی ردِعمل: اس تاریخی اجتماع نے ملک بھر کے صحافتی و سیاسی حلقوں کو ششدر کر دیا اور آپ کی بے پناہ عوامی مقبولیت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔
بعد ازاں ۲۱ نومبر ۲۰۲۰ء، بروز ہفتہ، ہم جناب ڈاکٹر افضل رضا، عاصم نعیم، باذان احمد بانی اور سید ارشد گیلانی کی معیت میں آپ کے مزارِ انور پر حاضر ہوئے، فاتحہ پڑھی، اور اس احساس کے ساتھ واپس لوٹے کہ جیتے جی ہمیں آپ کی زیارت اور خدمت کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔
گفتارِ صدق مایۂ آزار میشود
چوں حرفِ حق بلند شود، دار میشود
حاصلِ کلام
علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک بیدار کن تحریک کا نام تھے۔ ان کا مشن، یعنی تحفظِ ختمِ نبوت اور نفاذِ دین کا جذبہ، ان کے پیروکاروں اور امتِ مسلمہ کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے اور ان کی چھوڑی ہوئی فکری میراث آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔
تبصرے 0