کالمز

حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کا فیض اور حیاتِ مبارکہ

حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ
حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کا تعارف اور تاریخی پس منظر

حضرت داتا گنج بخش کا اصل نام شیخ علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ تھا۔ آپ کی کنیت ابوالحسن اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی عثمان بن علی تھا۔ آپ کا تعلق غزنی کے مشہور شہر جلاب اور مضافاتی بستی ہجویر سے تھا۔

آپ کا عہد سلطان محمود غزنوی (998ء تا 1030ء) کا دور تھا۔ آپ کے حالاتِ زندگی شیخ نظام الدین اولیاء کے ملفوظات میں بھی ملتے ہیں۔

تصنیف کشف المحجوب کی علمی و روحانی اہمیت

آپ کی عالمگیر شہرت یافتہ کتاب کشف المحجوب فارسی زبان میں تصوف کی سب سے گراں مایہ اور پہلی مستند کتاب شمار ہوتی ہے۔

  • دارا شکوہ کا قول: دارا شکوہ اپنی تصنیف میں لکھتا ہے کہ "کشف المحجوب کامل ہدایت کی کتاب ہے۔ تصوف میں ایسی باکمال کتاب فارسی میں کبھی نہیں لکھی گئی۔"

  • مسجدِ داتا دربار اور قبلہ کی سمت: داتا صاحب نے لاہور میں مسجد تعمیر فرمائی۔ جب لوگوں نے سمتِ قبلہ پر اعتراض کیا تو آپ نے از راہِ کرامت معترضین کو بیت اللہ شریف کا براہِ راست مشاہدہ کرا دیا۔

ایک مرتبہ آپ آذربائیجان سے اپنے پیر کے ہمراہ گزر رہے تھے تو آپ نے دیکھا کہ دو تین آدمی درویشانہ لباس میں گیہوں کے کھلیان کے قریب دامن پھیلائے کھڑے ہیں کہ زمیندار دانے ڈال دے۔ شیخ کی ان پر نظر پڑی تو یہ آیتِ کریمہ پڑھی:

"یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی۔" (البقرۃ: 16)

شیخ نے اس عمل کو ناپسند فرمایا۔

سفرِ معرفت اور سلسلۂ طریقت

آپ کرمان، ترکستان، ایران، عراق، شام اور فلسطین تک تشریف لے گئے۔ حرمین شریفین کا تذکرہ بھی آپ نے کشف المحجوب میں کیا ہے۔ سفر کے دوران مسجد یا خانقاہ میں رات گزارنا پسند فرماتے۔ کسی خانقاہ کا کوئی جاہل خادم آپ کو کسی زمیندار کے گھر ٹھہرانے کے لیے لے جاتا تو آپ ناپسند فرماتے۔ آپ کے کپڑے چونکہ پھٹے ہوئے ہوتے، ہاتھ میں لاٹھی اور چھاگل ہوتی، اس لیے یہ حلیۂ مبارک دیکھ کر بعض دفعہ لوگ آپ کو باسی روٹی کھانے کو دیتے اور آپ پر خربوزے کے چھلکے پھینکتے۔ آپ نے جو سفر کیا، اس کا مقصد علم و معرفت حاصل کرنا تھا۔ اکثر آپ سفر پر رہا کرتے تھے۔ آپ کا سلسلۂ طریقت تین واسطوں سے حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچتا ہے۔ آپ کے پیر حضرت ابوالفضل محمد بن الحسن الختلی تھے، جن کا وطن دریائے جیحوں کے بالائی علاقے ختلان میں تھا۔

دارا شکوہ نے آپ کی وفات کا سال 465ھ بمطابق 1073ء تحریر کیا ہے۔ آپ کی کتاب کشف المحجوب کا ترجمہ پروفیسر نکلسن نے انگریزی زبان میں کیا۔ یہ ترجمہ 1911ء میں لندن سے شائع ہوا اور بین الاقوامی قدر و منزلت کا حامل ہے۔

داتا صاحب کا روحانی فیض:

پیشتر اس کے کہ میں داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے روحانی فیض کا ذکر کروں، قرآنِ حکیم اور جدید علوم کی رو سے روح کی حقیقت اور تصوف کے بارے میں روشنی ڈالتا ہوں، تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں۔

حوالہ:اردو دائرۂ معارفِ اسلامیہ، دانش گاہِ پنجاب، لاہور، جلد 9، 1996ء ایڈیشن، مقالہ: داتا گنج بخش، ص 96۔

روح کی حقیقت: قرآن، تصوف اور پیراسائیکالوجی

قرآنی ارشادات اور علمائے اسلام کی آراء

قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

"وہ تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دو کہ روح میرے پروردگار کے حکم سے ہے، اور تم لوگوں کو (روح کے بارے میں) بہت ہی کم علم دیا گیا ہے۔" (بنی اسرائیل)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی حجۃ اللہ البالغہ میں تحریر کرتے ہیں:

"اصل روحِ انسانی غیر مادی شے ہے، جو ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ یہ روحِ حیوانی (نسمہ) تو دراصل روحِ انسانی کے لیے بمنزلۂ سواری ہے، بلکہ اس کا غلاف یا اس کا خول ہے۔ روحِ حیوانی یا نسمہ اپنی استعداد کے مطابق روحِ انسانی کے توسط سے عالمِ قدس کا فیض اخذ کرتا ہے۔ براہِ راست اسے اس تک رسائی نہیں۔ نسمہ اور روحِ قدسی کا تعلق موت کے بعد بھی قائم رہتا ہے۔"

شاہ صاحب کے نزدیک روح کو سر بھی کہا جاتا ہے۔ سر یا روح کا وصف حقائقِ علوی کا مشاہدہ بھی ہے۔

روح یا اس قسم کے معاملات کے بارے میں اگر کوئی علم ہے تو وہ پیراسائیکالوجی (Parapsychology) ہے۔ اگر اس علم کا مطالعہ کیا جائے تو روح کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 3، ص 260، تعمیرِ انسانیت، مترجم) کے مطابق روح کے موضوع پر بہترین کتاب حافظ ابن مندہ کی الروح ہے۔ حافظ ابن القیم کی کتاب الروح بھی اس موضوع پر ایک اعلیٰ کتاب ہے۔

میں نے پیراسائیکالوجی پر ڈیوڈ ہیمنڈ (David Hammond) کی کتاب The Search for Psychic Power کو بڑا مفید پایا۔ اس کتاب میں بے شمار واقعات درج ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ روح کو فنا نہیں اور روحوں سے ملاقات اہلِ دنیا کرتے رہتے ہیں۔

Encyclopedia of Religion کا فاضل مقالہ نگار تحریر کرتا ہے کہ بعض ارواح اہلِ دنیا سے رابطہ رکھتی ہیں۔ ایسے رابطے کو Necromancy کہا جاتا ہے۔ صفحہ 345، جلد 10 ملاحظہ ہو:

«Necromancy presupposes belief in a form of life after death and continued interest of the dead in the affairs of the living.

حافظ ابن القیم نے روح کے بارے میں عجیب و غریب انکشافات کیے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد روح باقی رہتی ہے، مگر جسم عموماً گل سڑ کر مٹی میں مل جاتا ہے۔ ہاں، انبیائے کرام علیہم السلام کے اجسام پر مٹی حرام ہے، یا جنہیں اللہ تعالیٰ باقی رکھنا چاہے۔ روح کا اپنے جسم کے ذرات اور قبر سے تعلق رہتا ہے۔ روحیں انتہائی تیز رفتار ہیں۔ زندوں اور مردوں کی روحوں میں اس طرح ملاقات ہوتی ہے جس طرح زندوں کی روحیں آپس میں ملتی جلتی ہیں۔

حضرت داتا گنج بخشؒ کی کرامات اور ایمان افروز واقعات

1.میلہ رام کے بیمار بیٹے کی شفایابی کا واقعہ (تقریباً 1905ء)

یہ اوائلِ صدی کا واقعہ ہے (قریباً 1905ء/1906ء) کہ لاہور کی ایک مشہور، معزز اور معروف شخصیت میلہ رام داتا صاحب کے دربار کے قریب رہتی تھی۔ میلہ رام کی ایک فیکٹری بھی اسی جگہ قائم تھی۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں آج کل ضیائے حرم کی دکان، ایک مسجد، مارکیٹ اور گامے شاہ واقع ہیں، یعنی داتا گنج بخش روڈ۔ ان دنوں بجلی نئی نئی آئی تھی۔ میلہ رام کی رہائش گاہ پر، یا گورنر ہاؤس اور چند دیگر معروف مقامات پر ہی بجلی تھی۔ ہر جگہ بجلی نہیں تھی۔ اس سے میلہ رام کی مالی حیثیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ایک دن میلہ رام کے بیٹے کو سخت بخار ہوا۔ اس کی عمر دس، گیارہ سال کے لگ بھگ تھی۔ بیماری بڑھتی گئی۔ آخر ایک شب بچے کی حالت بگڑ گئی۔ یہ جان کنی کا مرحلہ تھا۔ میلہ رام اور اس کی بیگم اپنے بچے کے پاس بیٹھے زار و قطار رو رہے تھے، کیونکہ وہ قریب المرگ تھا۔

رات تین بجے کا وقت تھا کہ ایک سفید ریش بزرگ ان سے ملنے آئے۔ وہ بزرگ بھی بچے کے پاس بیٹھ گئے۔ میلہ رام نے پوچھا: "آپ کون ہیں، اور اس وقت آپ نے کیسے تکلیف کی؟"

اس بزرگ نے کہا: "میں آپ کا پڑوسی علی ہجویری ہوں، اور آپ کے بیٹے کے لیے دعا گو ہوں۔"

انہوں نے اس بچے کی صحت کے لیے دعا کی اور چلے گئے۔ بچے کی حالت بہتر ہونا شروع ہو گئی اور وہ جلد ہی صحت یاب ہو گیا۔

میلہ رام نے سوچا کہ میں داتا صاحب کے دربار کی کیا خدمت کروں؟ آخرکار انہوں نے یہ طے کیا کہ وہاں بجلی مہیا کرتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے عقیدت کے طور پر داتا صاحب کے دربار پر بجلی مہیا کی۔

اس واقعہ کے راوی علامہ اقبال کے ساتھ بیٹھنے والے شیخ عبدالشکور ہیں، جو شیخِ لاہور کے طور پر معروف تھے۔ ان کی وفات چند سال پہلے ہوئی۔

2.حضرت علامہ اقبالؒ اور خادم علی بخش کا واقعہ

حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے گھر پر رات دو بجے کسی نے دستک دی۔ خادم باہر نکلا کہ دیکھوں کون ہے۔ دیکھا تو ایک سفید ریش بزرگ ہیں۔ وہ فرمانے لگے کہ علامہ اقبال سے ملنا ہے۔ خادم نے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کو اطلاع دی۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ اس وقت اپنے لاہور والے گھر میں پہلے ہی کسی کے منتظر بیٹھے تھے۔ آپ اس سفید ریش بزرگ سے ملے۔اس بزرگ نے فرمایا: "مجھے لسی پلاؤ۔"

علامہ اقبال نے خادم سے کہا کہ ایک جگ لسی لاؤ۔ خادم پریشان ہوا کہ یہ کیسی فرمائش ہے؟ دسمبر کی ٹھٹھرتی رات، دو بجے، میں لسی کہاں سے لاؤں گا؟ اتنی دیر میں علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے جلال میں آ کر کہا:

"علی بخش! جلد لسی لاؤ۔"

علی بخش جگ لے کر باہر نکلا تو سڑک کے کنارے ایک گیس لیمپ جل رہا تھا اور ایک شخص دہی کے کونڈے رکھے ہوئے تھا۔ علی بخش نے لسی مانگی تو اس شخص نے فوراً دہی سے لسی تیار کر دی اور اس میں برف بھی ڈالی۔ علی بخش حیران تھا کہ رات گئے لسی کس طرح مل گئی۔ گھر داخل ہوا اور اس بزرگ کو لسی پلائی۔

جب وہ بزرگ چلے گئے تو علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ سے علی بخش نے پوچھا کہ وہ بزرگ کون تھے؟ آپ نے فرمایا:

"وہ سفید ریش بزرگ حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ تھے۔"

نیز یہ بھی بتایا کہ دہی بیچنے والی ہستی حضرت میاں میر رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ علی بخش کہتا ہے کہ میں نے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں یہ واقعہ کسی کو نہیں بتایا۔

3. 1965ء کی جنگ اور راوی کے پل کی حفاظت

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ہفت روزہ آئین کے ایک شمارے میں ایک بڑا ایمان افروز واقعہ درج کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ 1965ء کی جنگ میں ہندوستان سے کئی طیارے بمباری کے لیے پاکستان آئے۔ ایک ہندوستانی پائلٹ نے راوی کے پل پر کئی حملے کیے۔ آخرکار اس کا جہاز تباہ ہو گیا اور وہ پائلٹ گرفتار کر لیا گیا۔ وہ پائلٹ ہندوستان کے پہلے جنرل کریاپا کا بیٹا تھا، جو مودودی کا دوست تھا۔ پائلٹ کو میو ہسپتال میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا۔ مودودی نے اپنے دوست کا بیٹا سمجھتے ہوئے اس کی بیمار پرسی کی۔ وہاں تشریف لے گئے۔ پائلٹ نے انہیں بتایا کہ وہ ہندوستان کے ایک کہنہ مشق اور قابل ترین پائلٹ ہیں۔ راوی کے پل پر بار بار بم پھینکے، لیکن سبز کپڑوں میں ملبوس ایک بزرگ بم کو پل پر گرنے ہی نہ دیتے تھے۔ اس طرح اس کے کئی بم ضائع ہوئے، حالانکہ راوی کا پل نشانے کی زد میں تھا۔ آخرکار پائلٹ تھک گیا اور اس کے سب نشانے خطا ہو گئے۔ پائلٹ نے مودودی سے یہ سارا واقعہ سنایا اور اس کی توضیح چاہی، لیکن مودودی کہتے ہیں کہ یہ عجیب واقعہ سن کر میں اس کی وضاحت پائلٹ کے سامنے نہ کر سکا۔

4. داتا دربار میں موتیے کے ہار اور تبرک کا غیبی اشارہ

پروفیسر عبدالجبار شاکر میرے بزرگ دوست ہیں۔ آپ معروف شاعر بھی ہیں اور ایک مذہبی اسکالر بھی۔ آج کل ڈائریکٹر لاء (پنجاب لائبریریز) تعینات ہیں۔ مسلک کے لحاظ سے اہلِ حدیث ہیں، لیکن حضورِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس سے والہانہ عشق اور غایت درجے کا احترام ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔

ایک دفعہ میں اُن سے چکوال کا ایک واقعہ بیان کر رہا تھا کہ وہاں جب میں ڈپٹی کمشنر تعینات تھا تو ایک شام بابا عبدالشکور کے مزار، واقع اوڈھر وال، پر حاضری کا موقع ملا۔ میرے ہمراہ ضلع کچہری چکوال کی مسجدِ معصومیہ کے امام بھی تھے۔ ہم نے مزار پر حاضری دی اور جیپ پر بیٹھنے لگے تو دربار کی بیرونی دیوار کے اندر سے دو بزرگ سفید کپڑوں میں ملبوس نظر آئے۔ ان کے ہاتھ میں ٹارچ تھی، جسے وہ ہلا رہے تھے۔ یہ منظر نہ صرف میں بلکہ امامِ مسجدِ معصومیہ بھی دیکھ رہے تھے۔ ہم دوڑ کر گئے تو اس جگہ کوئی شخص نہ تھا۔ جب میں نے یہ واقعہ پروفیسر عبدالجبار شاکر کو سنایا تو انہوں نے فرمایا کہ ایسا ممکن ہے، روح کو فنا نہیں۔

1986ء کی بات ہے۔ میں سول سیکرٹریٹ لاہور میں بطور ڈپٹی سیکرٹری تعینات تھا۔ ایک شب سوچا کہ فقہ پر ایک کتاب تو میری شائع ہو چکی ہے، اب کس موضوع پر کام کروں؟ رات کو سونے سے پہلے دو نوافل پڑھے اور استخارے کی دعا پڑھی۔ خواب میں اشارہ ہوا کہ اسلام کے انتظامی قانون پر کام کیا جائے۔

صبح جمعہ تھا۔ میں داتا دربار حاضری کے لیے گیا۔ نوافل پڑھنا شروع کر دیے۔ جب سلام پھیرنے لگا تو عجیب و غریب وسوسے اور خیالات ذہن میں آنا شروع ہو گئے۔ جلدی میں پیسے گھر بھول آیا تھا۔ صرف جوتوں کی حفاظت کے لیے دو تین روپے میرے پاس تھے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ نماز کے دوران بار بار خریدنے کی خواہش مناسب نہیں، پوری توجہ نماز کی طرف ہونی چاہیے۔ ان خیالات کو ذہن سے جھٹک دیا۔ نوافل مکمل ہوئے تو سلام پھیرا۔ جونہی سلام پھیرا تو ایک شخص، جس کے ہاتھ میں جھاڑو تھا، مجھے معنی خیز انداز میں دیکھ کر پنجابی میں مخاطب ہوا:

"تسی آپ ای لمبے لمبے نفل نیت لیے نیں۔ تہانوں موتیے دے ہار وی چاہیدے نیں۔ ایہہ تے میں تہاڈے لئی رکھے ہوئے نیں۔"

یعنی: "آپ نے خود ہی لمبے لمبے نوافل کی نیت کی ہے۔ آپ کو موتیے کے ہار بھی چاہییں۔ یہ تو میں نے آپ کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔"

پھر اُس شخص نے اپنی جیب سے موتیے کے ہار نکال کر مجھے دیے۔ میں نے فوراً وہ ہار قبول کیے، شکرِ الٰہی ادا کیا اور فوراً اُس شخص سے گلے ملا۔ جب گلے مل رہا تھا تو میرے قلب کی عجیب سی کیفیت تھی۔ اپنے جسم کے اندر میں عجیب کرنٹ محسوس کر رہا تھا۔ وہ شخص ہاتھ میں جھاڑو تھامے دور والی صفوں کی طرف چلا گیا۔

میں حیران تھا کہ یہ شخص کون ہے؟ پھر اُسے کیونکر معلوم ہو گیا کہ مجھے ہاروں کی ضرورت ہے؟ میں تو صرف چند سیکنڈ پہلے نماز میں سوچ رہا تھا۔ یہ کیسا رابطہ تھا؟ اُس پُراسرار شخص کو میرے خیالات کا علم کیسے ہوا؟ اتنی جلدی ہار کیسے لے آیا؟ کیا میں نے جو نوافل حضورِ اکرم ﷺ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور ازواجِ مطہرات کے لیے پڑھے تھے، وہ کیسے ان کی ارواحِ مبارکہ تک نہ پہنچے ہوں گے؟

آج کل فیکس کے ذریعے دنیا کے دور دراز علاقوں تک تحریریں بھیج دی جاتی ہیں، جو آنِ واحد میں متعلقہ جگہ پر پہنچ جاتی ہیں۔ یہ تحریریں فضاؤں میں بکھر جاتی ہیں، پھر من و عن اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ وصول کرنے والا انہیں وصول کر لیتا ہے۔ میرے نوافل بھی یقیناً فیکس ہو رہے ہوں گے۔

میں نے نوافل سے فارغ ہو کر دعائیں مانگیں، پھر داتا صاحب کے مزارِ اقدس پر فاتحہ پڑھی۔ جب قدمینِ شریفین کی طرف سے واپس جانے لگا تو خیال آیا کہ والدہ صاحبہ کے لیے تو موتیے کے ہار مل گئے، بچوں کے لیے خالی ہاتھ جا رہا ہوں۔ کوئی شیرینی مل جاتی تو یہ تبرک بچوں کو دیتا۔ بچے ہیں، خوش ہو جاتے۔

ابھی یہ آرزو کر ہی رہا تھا کہ اُس شخص نے ہوا میں جھاڑو لہراتے ہوئے دور سے میری طرف اشارہ کیا، پھر جلدی جلدی آیا اور مسکرا کر کہنے لگا:

"تبرک کی ضرورت ہے تو وہ بھی لو۔"

اُس نے جیب سے پھلیاں اور الائچی دانہ نکالا اور میرے حوالے کر دیا۔ یوں لگتا تھا کہ میری خواہشات اور میری آرزوئیں اس کے دل پر القا ہو رہی ہیں۔ میں جو بھی خواہش کرتا ہوں، وہ اس کے دل و دماغ پر فیکس ہو جاتی ہے۔

میں داتا دربار سے باہر آیا اور بہاولپور ہاؤس اپنے دوست سید جاوید اکبر سے ملنے پہنچا۔ شاہ صاحب ایس اینڈ جی اے میں ڈپٹی سیکرٹری تعینات تھے۔ ایک تجربہ کار PCS آفیسر ہیں اور اللہ والے بھی۔ میں بیٹھا تو انہوں نے چائے منگوائی۔ میں نے بتایا کہ گزشتہ شب استخارہ کیا تھا کہ فقہ کے کس موضوع پر کام کروں۔ یہ خواب دیکھا ہے، اس کی تعبیر بتائیں۔

شاہ صاحب خود کھلکھلا کر ہنسے۔ میں نے پوچھا: "کیا تعبیر ہے؟"

وہ ہنستے رہے، پھر کہنے لگے: "کل بتاؤں گا۔"

اگلے دن کہنے لگے: "جب تم میری کوٹھی پر آئے تو میں سوچ رہا تھا کہ نیازی ملے تو اسے کہوں کہ وہ اسلام کے انتظامی قانون پر کتاب تحریر کرے، کیونکہ وہ خود سول سروس کا بھی ایک آفیسر ہے، فقہ سے بھی واقف ہے اور انتظامی قوانین سے بھی۔ اس موضوع پر بطرزِ احسن کام کر سکتا ہے۔"

شاہ صاحب کہنے لگے: "میں ہنس اس لیے رہا تھا کہ جو بات میں نے کہنی تھی، وہ نیازی نے خود کہہ دی۔"

رہا یہ سوال کہ ہاتھ میں جھاڑو تھامے شخص کو موتیے کے ہاروں کی خواہش کا کیسے علم ہو گیا؟ اسی طرح سید جاوید اکبر کو کیسے اندازہ ہوا کہ فقہ کے کس موضوع پر مجھے کام کرنا ہے؟ اس کا جواب میں یہ سمجھتا ہوں، جس کی توضیح ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی نے اپنی تفسیر فیوض القرآن میں کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ غیبِ کلی کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے، لیکن جہاں وہ چاہے، اپنے بندوں کو غیبِ جزوی کا علم دے دیتا ہے۔

پیراسائیکالوجی میں مندرجہ ذیل علوم اس ضمن میں پڑھے جا سکتے ہیں:

1. Extra Sensory Perception (ESP)

2. Clairvoyance

3. Precognition

پہلی صورت غیبی علوم کے بارے میں ہے۔ دوسری صورت اس وقت رونما ہوتے ہوئے واقعات کو محسوس کر لینے کی ہے، اور تیسری صورت میں آئندہ آنے والے واقعات کا علم ہے، جو متعلقہ شخص پر منکشف ہو جاتا ہے۔

داتا صاحب کا روحانی فیض آج بھی جاری ہے

حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کا فیض آج بھی جاری و ساری ہے۔ آپ کی کاوشوں سے دین کی تبلیغ و ترویج کا اہتمام ہوا۔ راوی کے اُس پار مقبرۂ جہانگیر ہے، جہاں نور جہاں آرام فرما ہیں۔ وہاں دن کو بھی شب کی سیاہی کا سماں ہے۔ وہاں کوئی چراغ نہیں جلتا۔ کوئی قرآن خوانی نہیں ہوتی، نہ ہی ذکر کی محفلیں ہوتی ہیں۔ ہر سو ویرانی ہی ویرانی نظر آتی ہے، لیکن راوی کے اس پار داتا صاحب کا دربار ہر وقت ذکرِ الٰہی سے گونج رہا ہے۔ قرآن خوانی ہو رہی ہے۔ نہ جانے ہر سال کتنے ہزار قرآنِ پاک یہاں پڑھے جاتے ہیں۔ کتنی دعائیں اللہ تعالیٰ کے حضور مانگی جاتی ہیں۔ کتنے ٹوٹے ہوئے اور دکھی دل یہاں آ کر اطمینان کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں ہر سال نوافل پڑھے جاتے ہیں، صدقات دیے جاتے ہیں اور کھانے پکائے جاتے ہیں، جو مفلوک الحال لوگوں کو سیر کرتے ہیں۔ کتنی ذکرِ الٰہی کی محفلیں منعقد ہوتی ہیں اور کتنے ہی بزرگ ملک کے کونے کونے سے آتے ہیں، جن کے پند و نصائح سے لوگ فیض یاب ہوتے ہیں۔ درودِ پاک کی کتنی بارونق محفلیں منعقد ہوتی ہیں۔ علماءِ کرام اور مشائخِ عظام یہاں تشریف لا کر اسلام کی تعلیمات سے لوگوں کو کثیر تعداد میں روشناس کراتے ہیں۔ دربار سے ملحقہ مسجد اسلامی عظمتوں اور سطوتوں کا مظہر نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے یہ جگہ روحانی سکون کی آماجگاہ ہے۔

آج ہندوستان کے شہنشاہ اور ملکہ کے مزار ویران نظر آتے ہیں، مگر اس روحانی شہنشاہ کا مزار مرجعِ خلائق ہے۔ یہ روحانی فیض کا سرچشمہ ہے، جو ہر وقت جاری و ساری ہے:

نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا

وہ نگاہ کی تیغ بازی، یہ سپاہ کی تیغ بازی

(علامہ اقبال)

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0