کالمز

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ: سیرت، واقعۂ کربلا اور لازوال قربانی

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

شہادتِ عظمیٰ اور فلسفۂ حیاتِ ابدی

شہادت وہ نعمتِ عظمیٰ ہے جس کی آرزو ہر صاحبِ ایمان کے دل میں ہر آن مچلتی رہتی ہے۔ اس کائنات میں آنکھ کھولتے ہی ہر مسلمان غازی اور شہید کے رتبے سے آشنا ہو چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہادت کی تمنا اہلِ حق کا جزوِ ایمان بن جاتی ہے۔ تاریخِ اسلام ایسے عظیم نفوسِ قدسیہ کے لہو رنگ تذکروں سے آباد ہے جنہوں نے اپنی متاعِ زندگی کو حیاتِ اُخرویٰ کی خاطر مسکراتے ہوئے موت کی تلخیوں کی نذر کر دیا۔ ان شہدائے عظام کے پیشِ نظر یہی مقصد تھا کہ ہم شہادت کی سعادت کو اپنا مقدر بنا کر فی الحقیقت اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ انہی شہدائے قدسیہ کے قافلے کے امیر، سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت نے بطورِ خاص رہتی دنیا تک کے لیے اہلِ ایمان کو باور کرا دیا کہ جس کشتِ ایمان کو شہداء کے مقدس لہو کا نم عطا ہوا ہو، وہ کبھی ویران نہیں ہو سکتی۔

سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بے مثال قربانی حق و صداقت کی پاسداری کی لازوال داستان ہے۔ اس قربانی نے وقت کی پیشانی پر یہ فیصلہ تحریر کر دیا کہ حق و انصاف کا کارواں کبھی بھی رک نہیں سکتا۔ یہ ہر آن اور ہر ساعت پامردی کے ساتھ منزل کی جانب رواں دواں رہتا ہے۔ باطل چاہے کتنی رکاوٹیں کھڑی کر لے، زبانوں پر چاہے کس قدر تالے لگا دے، سچائی کا گلا گھونٹنے کے جس قدر حربے چاہے اختیار کر لے، صداقت کا آوازہ بہرصورت بلند ہو کر رہتا ہے اور سچائی کا پرچم زمانے کی وسعتوں میں اپنی سربلندی کا اعلان کر کے رہتا ہے۔ سچائی مصلوب ہو کر بھی زندہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میدانِ کربلا میں شہادت کے رتبے پر فائز ہو کر بھی اپنی حیاتِ ابدی کا احساس دلا رہے ہیں۔

سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبه اور احادیثِ مبارکہ

یہ کون حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں کہ جن کی لازوال داستانِ صبر و استقامت سے تاریخِ اسلام جگمگا رہی ہے۔ یہ وہی حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، جنہیں سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دوشِ اقدس پر سواری کا شرف حاصل ہے۔ یہ وہی حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، جنہیں میرے آقا ﷺ سونگھتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جنت کے پھولوں کی مہک آتی ہے۔ یہ وہی حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، جنہیں جوانانِ جنت کا سردار ہونے کی بشارت عطا ہوئی۔ یہ وہی حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، جنہیں خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوش میں تربیت نصیب ہوئی تھی، اور علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے صف شکن نے آدابِ دلاوری سکھائے تھے۔ یہ وہی حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، جن کے لیے سرورِ کائنات ﷺ نے فرمایا تھا کہ "حسین منی و أنا من الحسین"، یعنی حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اور پھر ارشاد فرمایا: "اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔" یہ وہی حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، جنہیں آتے دیکھ کر نانا محترم ﷺ خطبہ منقطع کر کے منبر سے نیچے اُتر آتے اور انہیں اُٹھا لیا کرتے تھے۔

اسی حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت کی سربلندی تقاضا کر رہی تھی کہ انہیں شخصیت کے غیر معمولی محاسن کے شایانِ شان منصب عطا ہو۔ چنانچہ تقدیر نے ان کی قسمت میں شہادتِ عظمیٰ کی سعادت لکھ دی۔ ایسی شہادت، جو استبدادیت کے قصرِ طاغوت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نیست و نابود کرنے کا باعث بن جائے، اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا ہی کر دکھایا۔ بقولِ اقبال:

موجِ خونِ او چمن ایجاد کرد

تا قیامت قطعِ استبداد کرد

یزیدی دورِ حکومت اور اخلاقی و سیاسی زوال

تاریکی جس قدر گہری ہو، روشنی کی ضرورت اتنی ہی زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔ یزید کا دورِ حکومت اسلامی تاریخ کا بدترین دور تھا۔ حرام و حلال کی تمیز اُٹھ رہی تھی، خلافت کو ملوکیت میں بدلا جا چکا تھا۔ انصاف کے بدلے ظلم و ستم کو رواج دیا جا رہا تھا۔ اسلامی شعائر کی سرِعام توہین ہو رہی تھی۔ رعایا کے حقوق پامال ہو رہے تھے۔ ریاست کا ہر عامل اور افسر خود کو خدا کا نائب تصور کر رہا تھا۔ یزید تختِ حکومت پر متمکن ہو کر غرور و تکبر کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا۔ اہلِ ایمان کی زبانوں پر تالے لگائے جا رہے تھے۔ برائیوں کو رواج دیا جا رہا تھا۔ اسلامی معاشرہ گناہوں اور برائیوں کی دلدل میں دھنس رہا تھا۔ یہ سب کچھ ایک منظم سازش کے تحت ہو رہا تھا۔ یزید اور اس کے حواری اسلام کے قانونِ احتساب کو طاقِ نسیاں کی نذر کر چکے تھے۔ شاہی خزانے کے منہ کھول دیے گئے تھے اور مسلمانوں کے ضمیر اور دل کے سودے ہو رہے تھے۔ مصلحت پسندوں کی بن آئی تھی۔ دولت پرست اپنے نام نہاد ایمان کے دام کھرے کر رہے تھے۔ یزید اقتدار کے نشے میں بدمست ہو کر "أنا ولا غيري" کا نعرہ لگائے ہوئے مطمئن ہو چکا تھا کہ اب اس کی بداعمالیوں پر روکنے کے لیے کوئی آواز نہیں اُبھرے گی۔

امام حسین رضی اللہ عنہ کی صدائے حق اور باطل سے نبرد آزمائی

وقت کے اس ظلمت کدے میں سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صدائے حق روشنی کی کرن بن کر اُبھری، اور دیکھتے ہی دیکھتے اس روشنی سے اہلِ ایمان کے دل پھر منور ہونے لگے۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پکار کر کہا: "یزید! تم جھوٹے ہو، نہ تمہاری حکومت جمہوری ہے اور نہ تمہیں قیادت کا حق پہنچتا ہے۔ میرے ناناﷺ کی شریعتِ قدسی میں مداخلت کا تمہیں کوئی حق نہیں۔" حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز دلوں کو چیرتی ہوئی انسانی احساسات کو جھنجھوڑنے کا باعث بن گئی۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باطل قوتوں کے سامنے نبرد آزما ہو کر بتلا دیا کہ سچائی کا راستہ نہیں روکا جا سکتا، اور جو اسلام کو مٹانے کی کوشش کرے گا، خود حرفِ غلط کی طرح مٹ جائے گا۔

شاہ است حسین، بادشاہ است حسین

دین است حسین، دین پناہ است حسین

سر داد، نہ داد دست در دستِ یزید

حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسین

معرکۂ کربلا: اقتدار کی نہیں، حق و باطل کی جنگ

کربلا میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یزید کے لشکر سے جنگ اقتدار کے حصول کی جنگ نہیں تھی، یہ تو حق و باطل کا معرکہ تھا۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہرگز اقتدار کے خواہاں نہیں تھے۔ اگر ان کے خاندان کو اقتدار اتنا ہی عزیز ہوتا تو ان کے برادرِ اکبر سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُمتِ مسلمہ کو تفرقہ اور خونریزی سے بچانے کے لیے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں حکومت سے دستبردار نہ ہوتے۔ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تختِ شاہی کو امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے کر کے گوشۂ عافیت کو ترجیح دی۔ اسی طرح سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں بعض احکامات پر تنقید تو کی، مگر تلوار اُٹھا کر میدانِ عمل میں نہ آئے، کیونکہ وہ اقتدار کے خواہاں نہیں تھے۔

یزیدی تسلط اور صحابۂ کرام کا موقف

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یزید کو اپنا جانشین مقرر کر دیا اور اس فاسق و فاجر کے حق میں بیعت لینا شروع کر دی تو اُمتِ مسلمہ میں اضطراب کی لہریں پیدا ہونے لگیں۔ پھر یزید نے لوگوں سے جبری بیعت لینے کے لیے جو مظالم اہلِ ایمان پر ڈھائے، ان کا تذکرہ انتہائی ہولناک ہے۔ مدینہ منورہ جیسے شہرِ امن پر یزید کا حملہ استبداد کی بدترین مثال ہے۔ اس مقدس شہر کو شامیوں نے خوب لوٹا۔ مسجدِ نبوی ﷺ کو جانوروں کا اصطبل بنا دیا گیا۔ شہداء میں کئی جید صحابۂ کرام اور سات سو حفاظِ قرآن تھے۔ مدینہ کے کل شہداء کی تعداد 1,249 بتائی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ یزید کی جبری بیعت لینے کے لیے کیا گیا تھا۔ بیعت کے الفاظ یہ تھے:

"یزید چاہے تم کو بیچے، چاہے تم کو آزاد کرے، چاہے خدا کی عبادت کی طرف بلائے، چاہے معصیت کی طرف بلائے، تم اس کی اطاعت سے منہ نہ موڑو گے۔"

ظاہر ہے، ملوکیت کی بیعت کوئی بھی اہلِ ایمان دل سے قبول نہیں کر سکتا تھا۔ اس وقت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مصلحت پسندی کو اپنا شعار بنا سکتے تھے، لیکن اب پانی سر سے اونچا ہو چکا تھا۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سائے نبوت میں پرورش پائی تھی۔ وہ حکومت کو موروثی بنانے اور اہلِ ایمان پر ظلم و ستم کب برداشت کر سکتے تھے۔ وہ بڑے باپ کے بڑے بیٹے اور تاریخِ انسانیت کے محسنِ اعظم ﷺ کے نواسے تھے۔ ان کے شایانِ شان یہی تھا کہ وہ میدانِ عمل میں آ کر ملوکیت کو جھنجھوڑ دیں اور اسے باور کرائیں کہ بیعت لینے کا یہ عمل سراسر غیر اسلامی اور غیر آئینی ہے۔

72: نفوسِ قدسیہ اور تسلیم و رضا کی مثال

آج حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جدوجہد پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کی تمام تگ و دو محض اقتدار اور تختِ حکومت کے لیے تھی۔ الزام تراشنے والوں کو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حسب و نسب، پُرامن شہری کی حیثیت سے گزشتہ زندگی اور یزید کے ملوکانہ عزائم کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اگر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جنگ اقتدار کے لیے تھی تو کیا وہ اتنے ہی گئے گزرے تھے کہ علمِ بغاوت بلند کرتے تو لوگ ان کا ساتھ نہ دیتے؟ ابھی وہ لوگ زندہ تھے جنہوں نے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دوشِ نبوت پر سواری کرتے دیکھا تھا۔ وہ لوگ باقی تھے جنہوں نے حضور ﷺ کو حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لبوں کے بوسے لیتے دیکھا تھا۔ اگر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیعت کے خواہاں ہوتے تو کیا لوگ اسے سعادت سمجھ کر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت نہ کر لیتے؟

حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمجھتے تھے کہ اگر انہوں نے بیعت لینی شروع کر دی تو پھر اسے اقتدار کی جنگ کہا جائے گا، اور نہ معلوم پھر مسلمانوں کی خونریزی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ کب تک جاری رہے۔ اس لیے آپ نے کلمۂ حق کو بلند کرنے کا تمام بوجھ اپنی اور اپنے خاندان کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے میدانِ کرب و بلا میں کود پڑنے کا عزم کر لیا۔ اقبال نے اسی حقیقت کو بیان کیا ہے۔

آبروئے ما ز نامِ مصطفیٰ است

سلطنتِ ما از نظامِ مصطفیٰ است

مردِ غازی در صفِ اقوام و ملل

از "اگر خود" نہ کرد با چوں و چرا سفر

یہ حقیقت ہے کہ اگر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی خلافت کا اعلان کرتے تو مملکتِ اسلامیہ کے بے شمار نفوس آپ کے پرچم تلے جمع ہو جاتے۔ آپ کا مقصود ہرگز حصولِ اقتدار نہیں تھا۔ اقتدار کے حصول کے آرزومند کبھی بھی اپنے خاندان کے ہمراہ مقتل کی طرف نہیں بڑھتے، بلکہ وہ تو مصلحت اندیش جنگ آزماؤں کی طرح اپنے چاہنے والوں کو میدانِ جنگ کی دہکتی ہوئی بھٹی میں جھونکتے ہیں۔

لیکن یہاں تو تسلیم و رضا کے تقاضوں کی بجا آوری کا منظر تھا۔

  • بہتر نفوسِ قدسیہ کا قافلہ تھا

  • ان میں محترم خواتین بھی تھیں اور معصوم بچے بھی

  • علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھرانے کی خواتین، جن کے چہروں کی جھلک سورج کی آتشیں آنکھ نے بھی نہیں دیکھی تھی، صبر و استقامت کی مشکل ترین ساعتوں میں مردوں کو ہمت و حوصلہ عطا کر رہی تھیں

  • عون و محمد جیسے معصوم بچے کربلا کے لہو رنگ نظاروں سے خوف زدہ ہونے کی بجائے سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اپنی جان وارتے ہوئے فخر محسوس کر رہے تھے

  • علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی جوانیاں سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پروقار بڑھاپے پر تصدق کر رہے تھے

  • اہلِ بیت کو پانی پلانے کی آرزو میں جان دینے والے عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرے پر فاتحانہ تبسم رقصاں تھا۔

  • شہزادہ علی اصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی ننھی جان کا نذرانہ پیش کر کے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے موقف کو کہیں زیادہ مضبوط و مستحکم کر چکے تھے

شہادتِ حسین اور آزادیِ حیات کا سرمدی اصول

حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جانثار ایک ایک کر کے کٹ رہے تھے۔ یزیدی لشکر کے قائدین بار بار اپنا مطالبہ دہراتے کہ یزید کی بیعت کر لیں، مگر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک ہی موقف تھا کہ یزید فاسق و فاجر ہے، باطل کا نمائندہ ہے، میں اس کی بیعت کیسے کر سکتا ہوں۔

کہا جاتا ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا کہ مجھے یزید کے پاس لے چلو، میں اس کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا۔ یہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے یہ فرمایا تھا:

"مجھے یزید کے پاس جانے دو، پھر اسے فیصلہ کرنے دو، خواہ وہ میرے قتل ہی کا فیصلہ دے۔"

بعض لوگ کہتے ہیں کہ بعض دوسرے صحابہ نے تو بیعت کر لی تھی، حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیوں نہیں کی؟ اور وہ اس بنا پر ان پر طعن کرتے ہیں۔ جب کوئی مسلمان حکومت پورے دبدبہ اور جاہ و جلال کے ساتھ قائم ہو تو اس کے خلاف ایک عام آدمی آواز بلند کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ صرف وہی پرچم بلند کر سکتا ہے جو ابتدائی قدم پر ہی موت کو سینے سے لگا کر آگے بڑھے۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ایسا اعتراض کرنے والوں کو صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی طرف سے صفائی پیش کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بے مثال قربانی کی اہمیت کو کم کرنا حقائق سے صریحاً انحراف کے مترادف ہے۔ سچ تو یہ ہے:

کرتی رہے گی پیش شہادت حسین کی

آزادیِ حیات کا یہ سرمدی اصول

چڑھ جائے کٹ کے سر ترا نیزے کی نوک پر

لیکن یزیدیوں کی اطاعت نہ کر قبول

سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لازوال قربانی حق و صداقت کی پاسداری کے لیے تھی۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کس طرح برداشت کر سکتے تھے کہ جس دین کو ان کے عظیم المرتبت نانا جان ﷺ نے عرب و عجم میں بسنے والے انسانوں کے دلوں کی دھڑکن بنا دیا تھا، اسے بازیچۂ اطفال بنا کر کھلے بندوں اس کا مذاق اُڑایا جائے۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مقدس لہو سے کشتِ اسلام کو اس طور سیراب کر دیا کہ اب اس پر کبھی خزاں نہیں آ سکے گی۔ انہوں نے اپنے اور اہلِ بیتِ اطہار کے خون سے عظمتِ اسلام کی ایک ایسی شمع روشن کی ہے جسے کفر و باطل کی آندھیاں کبھی بھی بجھا نہیں سکیں گی۔ ان کی قربانی ایک ایسی ناقابلِ فراموش داستان ہے کہ جس کو دل میں جگہ دینے والے اہلِ ایمان اسلامی اقدار کی سربلندی کا پرچم ہمیشہ اوجِ وقت پر لہراتے رہیں گے۔

حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادتِ عظمیٰ کی خلعتِ جاودانی پا کر اسلام میں ملوکیت کے باطل تصور کو فنا کی نذر کر دیا۔ ان کی قربانی حضور ﷺ کے اس فرمان کو دلوں میں اُجاگر کر گئی کہ:

"قیصر ہلاک ہو گیا اور اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا، اور کسریٰ ہلاک ہو گیا اور اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا۔"

حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قربانی ایمان کی صداقتوں کو سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ابدی سرخروئی اور جاودانی عظمت عطا کر دی، جبکہ یزید ہمیشہ کے لیے گمنامی اور بدنامی کے گہرے تاریک غار میں دفن ہو گیا۔

نہ یزید کا وہ ستم رہا، نہ زیاد کی وہ جفا رہی

جو رہا تو نام حسین کا، جسے زندہ رکھتی ہے کربلا

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ حق و صداقت کے پاسدار زمانے کے شدائد اور حالات کی سختیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ وہ دشمن کے سامانِ حرب و ضرب سے ہراساں نہیں ہوتے۔

نقصان اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر وہ شہادت گہِ الفت میں مسکراتے ہوئے قدم رکھتے ہیں۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کربلا کے میدان میں شہید کر دیے گئے، مگر تقدیر نے انہیں شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربار کی تاجوری عطا کر دی۔ اگر اس وقت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ باطل کے آگے جھک جاتے تو آج سچائی کا وجود ایک داستانِ پارینہ بن چکا ہوتا۔

جب تک چاند، سورج اور ستارے دمکتے رہیں گے، جب تک صداقت کا حسن دلوں کو متاثر کرتا رہے گا، جب تک سچائی اور انصاف کی تب و تاب انسانی دلوں کو ضوفگن کرتی رہے گی، اس وقت تک امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لازوال قربانی دلوں کو ایمان و یقین کے عملی تقاضوں سے آشنا کرتی رہے گی۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام آج آزادی و حریت کی علامت بن چکا ہے۔ جب بھی کوئی قوم آزادی کی رفعتوں سے ہمکنار ہونے کے لیے اپنے تن، جان و مال کا نذرانہ لے کر لہو رنگ داستان رقم کرنے کے لیے آگے بڑھتی ہے تو اس قوم کے حریت پسند حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قربانی و ایثار کا روشن استعارہ جان کر خراجِ عقیدت پیش کرنا اپنا فرضِ اولین سمجھتے ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ:

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0