کالمز

حضرت مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ کا مجاہدانہ کردار اور دینی خدمات

حضرت مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ
حضرت مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ

علماء اور اولیاء: انبیاء علیہم السلام کے حقیقی وارث

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے تخلیق فرمایا۔ جب سے یہ کائنات بنی ہے، تب سے یہ نظام چلتا آ رہا ہے کہ جب بھی انسان راہِ راست سے بھٹکا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ یہ سلسلہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہوا۔ اب قیامت تک کوئی نبی یا رسول نہیں آ سکتا۔

چونکہ انسان خطا کا پتلا ہے، اس لیے وہ گناہوں کی طرف راغب ہوتا ہے، لہٰذا ضروری تھا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد بھی ایسی جماعت یا ایسے لوگ موجود ہوں جو لوگوں کو ہدایت کے راستے پر چلنے کی دعوت دیں۔ اس کام کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اولیاء و صالحین کو منتخب فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ

"بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں۔" (جامع ترمذی: 2682)

جب بھی لوگ راہِ راست سے بھٹکتے ہیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ ایسے رجال پیدا فرماتا ہے جو دعوت و تبلیغ یا جہاد کے ذریعے لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف لے کر آتے ہیں۔ انہی نیک ہستیوں میں سے ایک نام حضرت مجدد الفِ ثانی کا ہے۔

تصوف کی اصلاح اور وحدت الشہود کا نظریہ

آپ کے دور میں تصوف کے نام پر بہت سی غیر شرعی رسومات رائج ہو چکی تھیں۔ آپ نے فرمایا کہ شریعت اور طریقت الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ طریقت شریعت ہی کے مطابق ہوتی ہے۔ چنانچہ آپ نے تصوف کے نام پر رائج غیر شرعی اعمال کی اصلاح فرمائی۔ شیخ احمد سرہندی کا سب سے اہم کارنامہ تصوف اور اہلِ تصوف کی اصلاح ہے۔ آپ تصوف کی تاریخ میں وہ پہلے عظیم صوفی ہیں جنہوں نے صوفیاء کے روحانی سفر کی حقیقت بیان کی، اس کے مختلف مراحل کی خصوصیات پر روشنی ڈالی، اور اس کی اہمیت پر تفصیلی کلام کیا۔ اسی طرح وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے خدا تک پہنچنے کے نبوی طریقے اور صوفی طریقے میں امتیاز کیا اور مؤخر الذکر پر طریقِ نبوت کی روشنی میں تبصرہ کیا۔ آپ نے وحدت الوجود کے فلسفے کو ہدفِ تنقید بنایا اور اسلامی عقائد، اقدار و اعمال پر اس کے برے اثرات سے آگاہ کیا، اور اس کی جگہ وحدت الشہود کا نظریہ پیش کیا، جو شریعت سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ (ماخوذ از مکتوباتِ امام ربانی)

بدعات کا رد اور سنتِ نبوی ﷺ کا احیاء

عہدِ اکبری میں تصوف و طریقت کے جو افکار و رسوم ہوا پرست صوفیوں نے وضع کر لیے تھے، جن میں فلسفۂ یونان، حکمتِ اشراق، عجمی و ہندی تصورات کی ایسی آمیزش کر لی گئی تھی، جس سے اسلامی تصوف کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ جاہل صوفیوں نے شریعت و طریقت کو الگ الگ خانوں میں بانٹ رکھا تھا۔ شیخ سرہندی نے اس طرف خاص توجہ فرمائی اور شریعت کی برتری کا احساس دلایا۔ علما و صوفیا کے درمیان مسئلۂ وحدت الوجود کے تعلق سے جو صدیوں سے اختلاف تھا، اس کو آپ نے صرف لفظی قرار دیا۔ (مقالاتِ سعیدی)

اکبر بادشاہ کے عہد میں خواجہ باقی باللہ نے نقشبندی سلسلے کو ہندوستان میں استحکام بخشا۔ اُن کے حلقۂ مریدین میں سے ایک نہایت نامور شخصیت شیخ احمد سرہندی، مجدد الفِ ثانی ہیں۔ اس سلسلے کی ترویج و اشاعت میں آپ نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ تحریکِ تصوف میں مجدد صاحب کی ایک بڑی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے شریعت اور سنت کی اتباع پر زور دے کر رسمی طور پر داخل ہو جانے والے غیر اسلامی عناصر کو اسلامی فکر سے بالکل علیحدہ کر دیا اور تحریکِ تصوف میں پھر سے نئی جان ڈال دی۔ (ویکی پیڈیا)

بدعات کا رد:

آپ کے زمانے میں مسلمان بہت سی بدعات کا شکار ہو چکے تھے۔ آپ نے اسلام کے اصولوں پر کاربند کرنے کے لیے بدعات کا رد فرمایا اور لوگوں کو مکمل طور پر اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے کوشاں رہے۔ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے دور میں بہت سی ہندوانہ رسوم و رواج اور عقائد اسلام میں شامل ہو گئے تھے۔ اسلام کا تشخص ختم ہو چکا تھا اور اسلام اور ہندومت میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ آپ کے مطابق دین میں ہر نئی بات بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے۔ آپ اپنے ایک مکتوب میں بدعات کی شدید مخالفت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

لوگوں نے کہا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیئہ بدعتِ دافعِ سنت ہے۔ اس فقیر کو ان بدعات میں سے کسی بدعت میں حسن و نورانیت نظر نہیں آتی، اور سوائے ظلمت اور کدورت کے کچھ محسوس نہیں ہوتا۔ (مکتوبات)

علمِ حدیث پر کام:

حضرت مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے احادیثِ مبارکہ پر بھی اپنی خدمات پیش کیں۔

آپ نے سنت اور احوالِ صوفیا سے متعلق امور کو حدیث کی روشنی میں ثابت کیا۔ متنِ حدیث میں ایک اربعین، یعنی چالیس منتخب احادیث کا مجموعہ، آپ کی تالیف ہے۔ مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ مکتوباتِ شریف میں آپ نے تقریباً 336 احادیث نقل کی ہیں، جنہیں جناب ابو کلیم محمد صدیق فانی صاحب نے تخریجِ احادیثِ المکتوبات میں جمع کیا ہے۔

مکتوبات و دیگر رسائل میں لبعض مقامات پر آپ نے اصولِ حدیث کے فنی مباحث، جیسے صحیح، حسن، خبرِ واحد، خبرِ متواتر اور راویوں پر جرح وغیرہ کے حوالے سے بھی گفتگو کی ہے۔ عصرِ حاضر کے نامور محدث، شارحِ بخاری و مسلم، مفسرِ قرآن علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک حدیث کے مفہوم کو اس لیے صحیح قرار دیا کہ مکتوبات میں شیخ سرہندی نے اسے نقل کیا ہے۔ علامہ سعیدی لکھتے ہیں:

"ان (شیخ سرہندی) کے نزدیک حدیث 'لولاک لما خلقتُ الأفلاک' معنًی صحیح اور ثابت ہے۔"

(مقالاتِ سعیدی، ص: 138)

اکبر کے دینِ الٰہی کے خلاف جہاد:

1552ء میں علمائے سوء، درباری و سرکاری علماء کی مشاورت سے ایک نئے مذہب دینِ الٰہی کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ دین، اسلام، اسلامی عقائد و تعلیمات، قرآن و سنت کے فرامین و ارشادات، دینی اقدار اور اسلام کی حقیقی روح کے خلاف دربارِ اکبری کی ذہنی اختراع اور جدت کی انتہا تھا۔ اس نئے مذہب کے اصول و عقائد فرنگیوں، پارسیوں اور ہندوؤں سے ماخوذ تھے۔ اس طرح ریاستی اصولوں کو شریعت پر برتر اور غالب قرار دیا گیا۔ دربارِ شاہی میں غیر اسلامی، ہندوانہ رسوم و بدعات رائج کی گئیں اور ایک ایک کرکے اسلامی شعائر رخصت کر دیے گئے۔ حلال و حرام کی نئی، خود ساختہ شریعت وضع کی گئی۔ سود کو حلال قرار دے دیا گیا، عائلی قوانین بدل دیے گئے، حلال جانوروں کا گوشت حرام اور حرام جانوروں کا گوشت حلال قرار دیا گیا۔

عربی پڑھنے اور پڑھانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ فقہ، تفسیر، حدیث اور دیگر اسلامی علوم پڑھنے پڑھانے والوں کو مردود و مطعون قرار دیا گیا۔ اس تحریک کا مرکزی کردار درحقیقت درباری و سرکاری علمائے سوء کا وہ طبقہ تھا جو اکبر کے دربار میں مشاورت کے مناصب پر فائز تھا اور شاہ سے بڑھ کر شاہ کا وفادار ہونے کا کردار ادا کر رہا تھا۔ علمائے سوء بے دینی اور گمراہی کی اس تحریک کا ہر اول دستہ تھے۔ ان میں حاجی ابراہیم سرہندی، قاضی خان بدخشانی، ملا عالم کابلی، ملا ابو سعید، تاج الدین اجودھنی، ملا شریف آملی، ملا ابوالفضل فیضی، ملا عبداللہ سلطان پوری وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔

حاجی ابراہیم سرہندی نے بادشاہِ وقت کو سجدہ کرنے کا فتویٰ دیا۔ ملا عبداللہ سلطان پوری نے حج کے اسقاط کا فتویٰ دیا۔ ابوالفضل نے اکبر کے لیے بادشاہِ دوراں اور پیشوائے دو جہاں کا تصور وضع کیا۔ غرض کلمہ تک بدل دیا گیا۔ ان حالات میں امام ربانی، حضرت مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے سیف و قلم کے ذریعے اس الحادی تحریک اور باطل کے خلاف جہاد میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ حضرت مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے عہدِ اکبری اور دورِ جہانگیری کی بدعات، خود ساختہ رسوم، دینی اقدار اور اسلامی شعائر کے منافی امور اور گمراہیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسلامی شریعت کی ترویج اور مسلم نشاۃِ ثانیہ کے لیے جو کوششیں کیں، تجدید و اصلاح کی تاریخ میں انہیں بے حد اہمیت حاصل ہے۔ (ویب سائٹ)

آپ کی دن رات کی مسلسل کاوشوں سے اکبر کا نام نہاد دین اپنی موت آپ مر گیا۔

قید و بند:

تاریخ گواہ ہے کہ جو بھی حق کا ساتھ دے یا حق کے لیے میدانِ عمل میں نکلے، اسے ضرور مصائب و تکالیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا:

خونِ حسین کی قسم، یہی ہے ارضِ کربلا

لاکھوں یزید ہیں یہاں، کلمۂ حق اٹھا کے دیکھ

آپ نے چونکہ حق کے راستے میں وقت کے بادشاہ سے ٹکر لی، اس وجہ سے آپ کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی تبلیغ کا سلسلہ جس قدر بڑھتا جا رہا تھا، اسی قدر آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے مخالفین کی سازشوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ان لوگوں نے بادشاہ کو آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلاف بھڑکایا، اور آخرکار اس نے آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کو بلا بھیجا۔ جب حضرت مجدد پاک رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ جہانگیر سے ملاقات کے لیے گئے تو آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے نہایت معقول جوابات دیے، جس پر جہانگیر لاجواب ہو گیا۔ اس دوران بادشاہ سے کسی نے کہا کہ: "شیخ کا تکبر تو ملاحظہ کیجیے کہ آپ کو سجدہ نہیں کیا، حالانکہ آپ ظلُّ اللہ اور خلیفہ اعلیٰ ہیں۔" اس پر جہانگیر غضب ناک ہوا اور اس نے آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کو قلعۂ گوالیار میں قید کروا دیا۔ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا گوارا کیں، لیکن بادشاہ کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔

علامہ اقبال نے آپ کو کیا ہی خوب صورت انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے

حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر

وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک مطلعِ انوار

اس خاک کے ذروں سے ہیں پوشیدہ ستارے

اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اسرار

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے

جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیِ احرار

مجدد الفِ ثانی کو اپنے مشن کی تکمیل کے لیے دورِ ابتلا سے بھی گزرنا پڑا۔ بعض امرا نے مغل بادشاہ جہانگیر کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور یقین دلایا کہ آپ باغی ہیں، اور اس کی نشانی یہ بتائی کہ آپ بادشاہ کو تعظیمی سجدہ کرنے کے قائل نہیں ہیں، چنانچہ آپ کو دربار میں طلب کیا گیا۔ جہانگیر نے مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کو دربار میں طلب کر لیا۔ آپ نے بادشاہ کو تعظیمی سجدہ نہ کیا۔ جب بادشاہ نے وجہ پوچھی تو آپ نے کہا:

"سجدہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حق ہے، جو اس کے کسی بندے کو نہیں دیا جا سکتا۔"

بادشاہ نے ہر ممکن کوشش کی کہ شیخ جھک جائیں، لیکن مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ بعض امرا نے بادشاہ کو آپ کے قتل کا مشورہ دیا۔ غیر معمولی اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تو نہ ہو سکا، البتہ آپ کو قلعۂ گوالیار میں نظر بند کر دیا گیا۔ آپ نے قلعے کے اندر ہی تبلیغ شروع کر دی، اور وہاں کئی غیر مسلم مسلمان ہو گئے۔ قلعے میں متعین فوج میں بھی آپ کو کافی اثر و رسوخ حاصل ہو گیا۔ بالآخر جہانگیر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے آپ کو رہا کر دیا۔ رہائی کے بعد جہانگیر نے آپ کو اپنے لشکر کے ساتھ ہی رکھا۔

(ویکی پیڈیا)

دربار میں رسائی سے مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کو سرکاری سطح پر تبلیغ کا موقع ملا۔

اہلِ تشیع کا رد:

اہلِ تشیع، جو منبر و محراب پر بیٹھ کر صحابۂ کرام کے بارے میں گستاخیاں کرتے ہیں، اس پر آپ نے ان کا رد کیا اور انہیں کافر قرار دیا۔

علمائے ماوراء النہر نے فرمایا کہ جب شیعہ حضرات شیخین، ذوالنورین اور ازواجِ مطہرات کو گالی دیتے ہیں اور ان پر لعنت بھیجتے ہیں تو بروئے شرع کافر ہوئے۔ لہٰذا بادشاہِ اسلام اور نیز عام لوگوں پر، بحکمِ خداوندی اور اعلائے کلمۃ الحق کی خاطر، واجب و لازم ہے کہ ان کو قتل کریں، ان کا قلع قمع کریں، ان کے مکانات کو برباد و ویران کریں اور ان کے مال و اسباب کو چھین لیں۔ یہ سب مسلمانوں کے لیے جائز و روا ہے۔ (ردِّ روافض)

تصانیف:

آپ نے نہ صرف میدانِ عمل میں جہاد کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے قلم کے ذریعے بھی جہاد کیا اور بہت سی شاندار کتب تصنیف کیں، جو درج ذیل ہیں:

1. اثبات النبوۃ

2. رسالۂ تہلیلیہ

3. ردِّ روافض

4. شرحِ رباعیات

5. معارفِ لدنیہ

6. مبدأ و معاد

7. مکاشفاتِ عینیہ

8. مکتوباتِ امام ربانی

9. رسالۂ جذب و سلوک

10. تعلیقاتِ عوارف المعارف

11. رسالۂ آداب المریدین

12. رسالۂ اثبات الواجب

13. رسالۂ علمِ حدیث

14. رسالۂ حالاتِ خواجگانِ نقشبند

مجدد کا لقب:

جس وقت مسلمان اپنے دین سے بالکل دور ہو چکے تھے اور اسلام کی صحیح شکل بالکل بدل کر رکھ دی گئی تھی۔ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اصلاحِ امت کا بیڑا اٹھایا اور امت کو پھر سے دین کی صحیح صورت کی طرف راغب کر دیا۔ اسی وجہ سے آپ کو مجدد کا لقب دیا گیا۔

بعض روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر ہزار سال کے بعد تجدیدِ دین کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مجدد مبعوث فرماتا ہے۔ چنانچہ علما کا اتفاق ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے بعد دوسرے ہزار سال کے مجدد آپ ہی ہیں، اسی لیے آپ کو مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کہا جاتا ہے۔ (ویکی پیڈیا)

وصال:

حضرت مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کا وصال 28 صفر المظفر 1034ھ میں ہوا۔ اس طرح ایک عہد پورا ہوا اور آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ ایک تاریخ رقم کر گئے۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

آج کا دور بھی مسلمانوں کے لیے نہایت کٹھن دور ہے اور مسلمان روز بروز کسمپرسی کی حالت میں جا رہے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو حضرت مجدد الفِ ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ سے متعارف کروائیں، تاکہ ہم بھی ان کے نقشِ قدم پر چل سکیں اور ہماری نوجوان نسل یہ جان سکے کہ ہمارے اسلاف نے دین کی تبلیغ کے لیے کتنی کوششیں کیں اور کتنے مصائب برداشت کیے، اور وہ حق کے راستے سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے، خواہ ان کی ٹکر وقت کے بادشاہ سے ہی کیوں نہ ہو جاتی۔

آخر میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں دین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

(علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ )

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0