عاشقِ رسول ﷺ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیرُ التابعین کا لقب حضورِ اکرم ﷺ کی زبانِ مبارک سے عطا ہوا۔ آپ یمن کے ایک گاؤں قرن میں، قبیلہ مراد میں پیدا ہوئے۔ آپ کا پورا نام اویس بن عامر قرنی ہے۔ کنیت ابو عمرو ہے۔ آپ کے والدِ محترم آپ کی اوائلِ عمری میں وفات پا گئے تھے۔ بحالتِ یتیمی آپ کی والدہ نے آپ کی پرورش و دیکھ بھال میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ آپ کا قد درمیانہ، سینہ چوڑا، رنگ گندمی، داڑھی سینے تک پھیلی ہوئی، نگاہیں جھکی ہوئی تھیں اور دنیا والوں کے سامنے گمنام تھے۔
والدہ کی بے مثال خدمت اور مقبولیتِ بارگاہِ الٰہی
جب حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہوش سنبھالا تو اپنی والدہ کو بیمار اور نابینا پایا، لہٰذا اسی وقت سے آپ نے اپنی والدہ کی خدمت و اطاعت کو اپنا فریضہ بنا لیا اور اس میں کبھی کسی قسم کی کمی یا کوتاہی نہ کی۔ والدہ کی فرمانبرداری اور خدمت ہی کی بنا پر آپ کو بارگاہِ الٰہی اور بارگاہِ نبوی ﷺ میں مقبولیت ملی۔
حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اصل شہرت عشقِ رسول ﷺ کی نسبت سے ہے۔ باقی نسبتیں اویس قرنی سے تعلق کی بنیاد پر قابلِ ذکر تو ہو سکتی ہیں، لیکن ان کا اصل نسب نامہ عشقِ رسول ﷺ ہی ہے۔ رہتی دنیا تک جب کبھی عشقِ رسول ﷺ کا تذکرہ ہوگا، وہ آپ کے نامِ نامی کے ذکر کے بغیر ادھورا رہے گا۔ عشقِ رسول ﷺ کی اہمیت اور فنا فی الرسول کی بات ہوگی تو حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ لازماً ہوگا۔
تاریخِ اسلام میں علمائے کرام نے حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے آپ کی نیکی، تقویٰ، پرہیزگاری اور زہد کے بہت سے واقعات تحریر کیے ہیں۔ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنی والدہ کی خدمت، ان کی اطاعت و محبت میں فریفتہ رہنا، اور خصوصاً ان کی خدمت میں مشغول رہنا قابلِ رشک ہے۔ اسی بے مثال محبتِ مادر اور ان کی خدمت میں مستغرق رہنے نے آپ کو عاشقِ فنا سے عاشقِ بقا بنا دیا۔ آپ کا شمار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے مخلص بندوں میں ہوتا ہے۔ آپ نے عہدِ نبوی کا دور پایا، لیکن حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دیدار سے فیض یاب نہ ہو سکے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اپنی والدہ کی ضعیفی اور نابینا ہونے کی وجہ سے انہیں چھوڑ کر سفر نہیں کر سکتے تھے۔ لہٰذا حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تابعی ہیں، صحابی نہیں۔ لیکن دو جہانوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے آپ کی آنحضرت ﷺ سے محبت اور ماں کی خدمت کو اپنا فریضہ بنانے پر خراجِ تحسین پیش فرمایا۔
صحابۂ کرام کو دعائے مغفرت کی ہدایت
حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کرکے رسولِ اکرم ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ تم میں سے جو بھی اویس قرنی سے ملے، اس سے دعا کرائے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خاص طور پر یہ حکم دیا کہ: "اے عمر! جب تم اویس قرنی سے ملو تو اسے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ وہ تمہارے لیے دعائے مغفرت کرے، کیونکہ وہ قبیلۂ ربیعہ اور مُضَر کے برابر لوگوں کی شفاعت کرے گا۔"
دوسری روایت میں ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امیرالمؤمنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، دونوں کو حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دعا کی درخواست کرنے کا حکم دیا گیا تھا، اور دونوں صاحبان نے حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اپنے لیے دعا کروائی۔
روایت بیان کی جاتی ہے کہ روزِ قیامت کوئی حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں دیکھ سکے گا، کیونکہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دنیا میں اس طرح چھپ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی کہ کوئی شخص انہیں پہچان نہ سکے۔ سو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شکل میں جنت میں داخل فرمائے گا، تاکہ مخلوق انہیں نہ دیکھ پائے، سوائے اس شخص کے جسے اللہ تعالیٰ چاہے، اسے آپ کی زیارت نصیب ہوگی۔
حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ روایت بیان کرتے ہیں، جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ: "میں یمن کی طرف سے نسیمِ رحمت آتی ہوئی محسوس کرتا ہوں۔"
وصالِ رسولِ اکرم ﷺ کے دس سال بعد تک حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلاش جاری رہی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دورِ خلافت گزر گیا، لیکن حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تلاش نہ کیا جا سکا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت بلال بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلاش کا حکم دیا۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ملاقات حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوگئی۔ آپ نے فرمایا: "اے اویس! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ سے ملاقات کے متمنی ہیں۔" اس کے بعد حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "اے اویس! آپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "اے اویس! آپ نے رسولِ خدا ﷺ کی زیارت کیوں نہ کی؟"
جواب میں حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "آپ دونوں حضرات نے زیارت کی ہے، بتائیے حضرت محمد ﷺ کے ابروئے مبارک پیوستہ تھے یا نہیں؟" آپ دونوں جواب میں خاموش رہے۔
حضرت اویس قرنی نے پھر سوال کیا: "جنگِ اُحد کے دن حضورِ اکرم ﷺ کے کون سے دندانِ مبارک شہید ہوئے تھے؟" اس کے بعد حضرت اویس قرنی نے اپنا منہ کھول کر دکھایا تو آپ کے تمام دانت ٹوٹے ہوئے تھے۔ حضرت اویس قرنی نے فرمایا: "میرے علم میں نہیں تھا کہ آنحضرت ﷺ کے کون سے دندانِ مبارک شہید ہوئے تھے، اس لیے میں نے اپنے سب دانت توڑ ڈالے، تب جا کر مجھے قرار آیا۔" حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ باتیں سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رقت طاری ہوگئی۔
فضیلت بحوالہ صحیح مسلم
حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ خود نبیِ کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کا مقام بیان فرمایا۔ صحیح مسلم کی حدیثِ مبارک میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اہلِ یمن سے ایک شخص تمہارے پاس آئے گا جسے اویس کہا جاتا ہے۔ یمن میں اس کی والدہ کے علاوہ اس کا کوئی رشتہ دار نہیں ہے، اور والدہ کی خدمت اسے یہاں آنے سے روکے ہوئے ہے۔ اسے برص کی بیماری تھی، جس کے لیے اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرما دی، صرف ایک درہم کے برابر نشان باقی رہ گیا۔ تم میں سے جس شخص کی اس سے ملاقات ہو، وہ اس سے کہے کہ وہ تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرے۔"
آپ عاشقانِ رسول ﷺ کے سردار ہیں۔ جو بھی مسلمان عشقِ رسول ﷺ سے سرشار ہے، وہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بجا طور پر فخر کرتا ہے۔ عشقِ رسول ﷺ کا وہ جذبہ، جو حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سینے میں موجزن تھا، تاریخِ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
زیارتِ مدینہ اور جذبۂ عشقِ رسول ﷺ
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسولِ اکرم ﷺ کے دیدار کا شوق اس قدر پیدا ہوا کہ انہوں نے مدینۂ منورہ آنے کا ارادہ کیا۔ ادھر انہوں نے ارادہ کیا اور اُدھر رسولِ اکرم ﷺ کو کسی غزوہ میں شرکت کے لیے مدینۂ منورہ سے باہر تشریف لے جانا پڑا۔ روانگی سے قبل آپ ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ میرے جانے کے بعد اگر کوئی مہمان یہاں آئے تو اس کی خوب خاطر مدارت کی جائے اور ہر طرح سے اس کا خیال رکھا جائے، کیونکہ وہ بڑا پارسا انسان ہے۔ میرے آنے تک اسے روکنے کی کوشش کی جائے، اور اگر وہ نہ رکنا چاہے تو اسے مجبور نہ کیا جائے، البتہ اس کی شکل و صورت یاد رکھ لی جائے۔ یہ ہدایت دے کر آپ ﷺ اس اہم غزوہ کے لیے تشریف لے گئے۔
بعد میں حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینۂ منورہ تشریف لائے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ مدینۂ منورہ میں موجود نہیں ہیں تو انہوں نے واپسی کا قصد کیا۔ انہیں روکنے کی بہت کوشش کی گئی، مگر آپ نہ رکے، اگرچہ آپ کی خوب خاطر مدارت بھی کی گئی۔
جب نبیِ اکرم ﷺ واپس تشریف لائے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا: "کیا کوئی مہمان آیا تھا؟"
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ! ایک شخص یمن سے آیا تھا۔ اس کی شکل و صورت چرواہوں جیسی تھی۔ وہ آپ ﷺ سے ملاقات کی غرض سے آیا تھا، مگر آپ ﷺ کو نہ پا کر فوراً واپس لوٹ گیا۔"
آپ ﷺ نے فرمایا: "عائشہ! کیا تم جانتی ہو وہ کون تھا؟"
انہوں نے عرض کیا: "میں بالکل نہیں جانتی۔"
تو حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "وہ اویس قرنی تھا۔ مجھے ملنے آیا تھا، لیکن دیدار کی حسرت دل میں لیے ہی واپس چلا گیا۔ اس کی ماں بوڑھی اور نابینا ہے، اور اس کے علاوہ اس کی نگہداشت کرنے والا کوئی نہیں۔ اس لیے اسے ہر حال میں واپس جانا تھا۔ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا سچا چاہنے والا ہے۔ اسے صرف یادِ الٰہی سے غرض ہے اور دنیا کی کوئی شے اسے مرعوب نہیں کرتی۔"
منظوم خراجِ تحسین
منزلِ عشق کا مینار اویس قرنی
عاشقِ سیدِ ابرار اویس قرنی
رحمتِ حق کے طلب گار اویس قرنی
ہم گناہ گاروں کے غم خوار اویس قرنی
ظاہری آنکھوں سے دیدارِ محمد ﷺ نہ ہوا
پھر بھی کرتے تھے بہت پیار اویس قرنی
دل کے آئینے میں حبیبِ حق کا دیدار تھا
روز کر لیتے تھے دیدار اویس قرنی
شہادت اور حاصلِ کلام
آپ 11 صفر المظفر 37 ہجری کو جنگِ دیلم میں شہید ہوئے، اور آپ کا مزارِ مبارک قرن میں بتایا جاتا ہے۔ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی ہمارے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہماری خواہش کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو، وہ والدین کی خدمت میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔
تبصرے 0