قانونِ فطرت اور مرد و زن کے دائرۂ کار کی حد بندی
اللہ جل شانہٗ کی فیضانِ قدرت نے کارخانۂ عالم کو چند اٹل اُصولوں کے تحت قائم کیا ہے۔ ان بیش بہا اُصولوں میں سے ایک اُصول یہ ہے کہ جس چیز میں، جس صنعت میں، جو قابلیت، صلاحیت اور طبیعت ودیعت کی گئی ہے، اسے ان قابلیتوں، صلاحیتوں اور طبیعتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے زیرِ استعمال لایا جائے۔ یہ ایک اٹل اُصول ہے اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اُصولِ فطرت سے سرتابی بہت تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہے۔
قدرتِ خداوندی نے نظامِ انسانیت کو صحیح نہج اور درست سمت پر چلانے کے لیے عورت اور مرد کے اندر بھی جداگانہ قابلیتیں، متنوع صلاحیتیں اور مختلف طبیعتیں ودیعت کر دی ہیں اور دونوں کے دائرۂ کار کی حد بندی کر دی ہے۔
مرد کو عورت کا حاکم بنایا ہے اور اہل و عیال کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اس سے وابستہ کی ہے۔ نبوت و امامت اور سلطنت و حکومت کا گراں بار ڈالا ہے، اور عورت کو اپنے خاوند کے گھر بار، اموال و اسباب کا ذمہ دار، اس کی تسکینِ خاطر کا ذریعہ اور اس کی اولاد کی حسین تربیت کا زینہ بنایا ہے۔
مرد اور عورت میں فطری و جسمانی تفاوت (Scientific & Physical Differences)
عورت کا دل اور پھیپھڑے، مرد کے دل اور پھیپھڑوں سے چھوٹے ہوتے ہیں، جس کے بعض غدود بھی دونوں میں حدِ امتیاز قائم کرتے ہیں۔ عورت کے قد کا اوسط طول، مرد کے قد کی اوسط درازی سے بارہ سینٹی میٹر کم ہوتا ہے۔ عورت کے جسم کا متوسط ثقل، مرد کے جسم کے متوسط ثقل سے پانچ کلو کم ہوتا ہے۔ خواسِ خمسہ جن پر انسان کی عقلی اور دماغی نشوونما کا دار و مدار ہے، عورت کے حواسِ خمسہ مرد کے مقابلے میں ضعیف ہیں۔ مرد کی صوتی رگیں عورت کی صوتی رگوں سے لمبائی میں دوگنی ہوتی ہیں۔ عورت کے دل کی دھڑکن مرد سے تیز ہوتی ہے۔ مرد کے جسم میں ۸۷ فیصد قوت اور باقی گوشت، چربی ہوتی ہے، جبکہ عورت میں قوت کا تناسب صرف ۵۴ فیصد ہے۔ مرد کے مقابلے میں عورت جلدی تھک جاتی ہے۔ عورت میں وزن اُٹھانے کی استعداد بھی مرد کے مقابلے میں کم ہے۔ مرد کے مقابلے میں عورت کے بدن کی نشوونما تیزی سے ہوتی ہے۔ عورت جلد مضطرب اور خائف ہو جاتی ہے، جبکہ مرد نہیں۔ عورت مرد کی بہ نسبت جذبات کی رو میں جلد بہہ جاتی ہے۔ اثر لینے کا مادہ بھی اس میں زیادہ ہے۔ خواب دیکھنے کی عادت مرد کے مقابلے میں عورت کو زیادہ ہوتی ہے۔ مرد کا ذہن عملی نوعیت کا ہوتا ہے۔ وہ حقیقت کی دنیا میں رہ کر سوچتا ہے اور ٹھوس نتائج برآمد کرتا ہے، جبکہ عورت ایسی نہیں۔ عورت میں عقل کی کمی ہے، جبکہ مرد عقل میں بڑھے ہوئے ہیں۔
ان تمام تر تفصیلات سے دل میں یہ بات نقش ہو گئی ہوگی کہ مرد اور عورت دونوں میں کتنا امتیازی اختلاف موجود ہے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس کے اعتبار سے ان کی صلاحیتیں اور دائرۂ کار ہوں، اور یہ دائرۂ کار اللہ جل شانہٗ کی شانِ فیاضی نے خود بتا دیا ہے۔ ان تمام چشم کشا حقائق سے سرِ مو انحراف کر کے مرد و زن میں مساوات کے نعرے لگانا، حجابِ نسواں کو دقیانوسیت سے تعبیر کرنا بذاتِ خود جہالت، ناانصافی، حقائق سے چشم پوشی اور مغرب پسندی ہے۔
حجابِ نسواں: ایک قدیم اور فطری روایت
حجابِ نسواں ایک فطری امر ہے۔ حجاب کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود نوعِ انسان قدیم ہے۔ دورِ جاہلیت کے عرب شرفاء بے پردگی اور مرد و زن میں آزادانہ اختلاط کو معیوب سمجھتے تھے۔ ارضِ ہند میں ہندو، بدھ مت اور دیگر مشرکانہ مذاہب میں بھی مردوں اور عورتوں کا بے جا اختلاط گوارا نہ تھا۔
انسانِ اوّل سے لے کر گزشتہ دو اڑھائی صدی پہلے تک عورت چراغِ خانہ اور گھر کی زینت رہی، لیکن جب فرنگی اقتدار نے یہاں اپنے پنجے گاڑے تو اپنے نظامِ تعلیم کا ڈنکا بجایا۔ اب تمام سابقہ روایات دم توڑ گئیں۔ خاتونِ خانہ صحن کی پری بن گئی۔ گھر کی ریاست کی مالکہ بازاروں کی زینت بننے لگی اور نام نہاد تہذیب و تمدن کی ترقی میں برسرِ بازار حصہ لینے لگی۔ اب کیا تھا؟ قانونِ قدرت سے انحراف اپنی تاریخ مرتب کرنے لگا۔ شرم و حیا جاتی رہی۔ غیرت کا جنازہ نکل گیا۔ وہ نوجوان جو پاکیزہ معاشرے کا ایک ستون تھا، اس کی مضبوطی میں ضعف رسنے لگا۔ اس کی نظر و فکر بدل گئی۔ قلب و دماغ میں شہوانی جذبات کروٹیں لینے لگے، زنا کی کثرت ہو گئی، ناجائز اولاد کا ریلا عامد آیا، قحبہ خانے آباد ہونے لگے، گھریلو زندگی اُجڑ گئی، معاشرے سے سکون ختم ہو گیا، قبیلوں کے قبیلے بکھر گئے۔ غرض نقاب اترا، حیا اتری تو سر کا آنگن سرک گیا۔ رفتہ رفتہ چست اور عریاں لباس زیبِ تن کیے جانے لگے اور یوں پورا معاشرہ بے چینی، بے قراری اور ابتری میں مبتلا ہو گیا۔
لیکن وہی مغربی تہذیب، جس کی اندھی تقلید مغرب زدہ مسلمانوں نے اپنے لیے شعار بنا لیا ہے، اب گھٹنے ٹیک رہی ہے۔
مغربی تہذیب کا اعتراف: گورباچوف کی "پیریسترائیکا"
سوویت یونین کے آخری صدر مخائل گورباچوف اپنی مشہور کتاب "پیریسترائیکا" (Perestroika) میں تحریر کرتے ہیں:
”مغربی سماج میں عورت کو گھر سے باہر نکالا گیا۔ اسے آزادی دینے کے نتیجے میں یقیناً ہمیں معاشی فوائد حاصل ہوئے اور پیداوار میں کچھ اضافہ ہوا، کیونکہ مرد بھی کام کر رہے ہیں اور عورتیں بھی۔ مگر پیداوار میں اضافہ کے باوجود عورت کی آزادی کا جو لازمی نتیجہ برآمد ہوا، وہ یہ ہے کہ ہمارا فیملی سسٹم تباہ ہو گیا، اور فیملی سسٹم کی تباہی کے نتیجے میں ہمیں جو نقصان پہنچا ہے، وہ ان فوائد سے زیادہ ہے جو پیداوار میں اضافہ کے نتیجے میں ہمیں حاصل ہوئے تھے۔
اس لیے میں اپنے ملک میں پیریسترائیکا کے نام سے ایک تحریک شروع کر رہا ہوں۔ اس سے میرا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عورت جو گھر سے باہر نکلی ہے، اسے واپس گھر میں لایا جائے۔ اس کے لیے ہمیں طریقے سوچنے پڑیں گے، تاکہ فیملی سسٹم کی تباہی سے کہیں ہماری قوم تباہی سے دوچار نہ ہو جائے۔“
حاصلِ کلام (Conclusion)
حجابِ نسواں عورت کی آزادی میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کی عزت، عصمت اور پرامن خاندانی نظام کی ضمانت ہے۔ جب تک معاشرہ شرم و حیا، چادر و چاردیواری کے تحفظ اور اسلامی حدود پر کاربند نہیں ہوتا، تب تک حقیقی سماجی سکون کا قیام ممکن نہیں ہے۔
تبصرے 0