کالمز

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

شمعِ ہدایت کے پروانوں کا سلام

کائناتِ عالم کا ذرہ ذرہ اس روشن حقیقت کا شاہد و گواہ ہے کہ 12 ربیع الاول شریف وہ ساعتِ ہمایوں ہے جس میں آفتابِ رسالت، مہتابِ نبوت، سیدِ عالم، نورِ مجسم، ہادیٔ سبل، ختمُ الرسل، احمدِ مجتبیٰ، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے محفلِ عالم میں قدمِ رنجہ فرمایا اور آپ کی ضیاء پاشیوں سے کائنات کا کونہ کونہ بقعۂ نور بن گیا۔

عیدِ میلاد النبی ﷺ: حقیقی مسرت کا دن

یہ مقدس ساعت، جس میں حضورِ انور صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوعِ اجلال فرمایا، دنیا بھر کے مسلمانوں کی عید اور حقیقی عید ہے۔ اس عید کو عیدِ میلاد سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس تقریبِ سعید کو دنیا کے کروڑوں فرزندانِ توحید، عاشقانِ رسول نہایت تزک و احتشام سے مناتے ہیں اور آپ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی منانے میں راحتِ ابدی محسوس کرتے ہیں۔

  • جشن و چراغاں: پاکستان اور دنیا بھر کے شہروں، قصبوں اور گلیوں کو دلہن کی طرح سجایا جاتا ہے۔

  • محافل و جلوس: جگہ جگہ جلوس اور سیرت النبی ﷺ کے جلسے منعقد ہوتے ہیں، جن میں سردارِ دو جہاں کی سیرت، صورت، فضائل و مناقب پر تقاریر ہوتی ہیں۔

  • خدمتِ خلق: غرباء پروری اور تقسیمِ طعام کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔

  • درود و سلام: مؤمنینِ مخلصین باادب کھڑے ہو کر شہنشاہِ کائنات کے حضور میں ہدیۂ درود و سلام پیش کرتے ہیں۔

ہاں ہاں! جب سے آمنہ خاتون کے نورِ نظر اور حضرت عبداللہ کے دُرِّ یتیم نے اس دارِ فانی میں قدمِ رنجہ فرمایا ہے، تب سے لے کر جب تک اسلام قائم ہے، اسلام کے کروڑوں فرزندوں نے آپ کی ولادتِ باسعادت کے جشن منانے کو ذریعۂ نجات تصور کیا ہے۔

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آج ہم آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ ولادت کا یومِ سعید پاکستان کی آزاد فضا میں منا رہے ہیں۔ آج راعی اور رعایا ایک ہی سطح پر ایستادہ ہو کر حضور نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کی عنایات اور اُن کے ربِ کریم کے انعامات کا شکر بجا لاتے ہیں۔ یہی وہ پاکیزہ جذبہ اور حقیقی اطاعت ہے جس پر عابد کا رفیع الشان قصر تعمیر ہوتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ ستودہ صفات ہی وہ پاکیزہ ہستی ہے جس نے گمراہ انسان کو ذلت سے اٹھا کر انسانیت کی اس بلندی پر پہنچا دیا جہاں ملائکہ بھی رشک کرتے ہیں۔

آؤ! ہم اور آپ مل کر بخلوصِ قلب دعا کریں کہ اللہ رب العزت جل مجدہٗ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی مسرت و انبساط کے طفیل دین و دنیا کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے اور ہمیں آپ کی سیرتِ پاک کو اپنانے اور آپ کے بتائے ہوئے مقدس راستے پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آج دنیا میں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔

12 ربیع الاول وہ مقدس دن ہے جس میں آسمانِ نبوت کے نیرِ اعظم، حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم، عزت و جلال کے ساتھ تشریف فرما ہوئے۔ یہ مقدس دن تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔ اس کی تعظیم و تکریم علامتِ ایمان ہے اور اس مقدس دن کی یاد روح و جسم، دونوں کی عید ہے۔

12 ربیع الاول کو پورے پاکستان میں اس تقریبِ سعید کو پورے عز و وقار سے منایا جاتا ہے۔ اس دن پاکستان کے تقریباً ہر شہر، ہر قصبے اور گاؤں میں جلوس نکالے جاتے ہیں اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسے منعقد کیے جاتے ہیں۔ گلی کوچے اور بازار رنگ برنگی جھنڈیوں، خوبصورت محرابوں اور دروازوں سے سجائے جاتے ہیں۔ رات کو جشنِ چراغاں ہوتا ہے اور ہر مسلمان اپنے ہادیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گلہائے محبت و عقیدت پیش کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس یومِ سعید کی یادگار قائم رکھنا علاماتِ ایمان سے ہے۔ یہ یومِ مبارک ایک مؤمن کے لیے اس کے جسم و روح، دونوں کی عید ہے۔ حضورِ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر، ہم سے پہلوں پر اور ہماری آئندہ آنے والی نسلوں پر جو احسانِ عظیم فرمایا ہے، سچ تو یہ ہے کہ اس کا حقِ شکرگزاری ادا کرنا ناممکن ہے۔ ہمارے قلوب آپ کی محبت و عقیدت سے جس قدر لبریز رہیں اور ہماری زبانیں جس قدر اپنے عظیم المرتبت ہادی کی یاد میں رطب اللسان رہیں، کم ہی ہے۔

میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی تبلیغی افادیت اور معترضین کا رد

عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریبات، جہاں آپ کی یاد قائم رکھنے کا ایک طریقہ ہیں، وہاں آپ کی ہدایات و ارشادات کی تبلیغ و اشاعت کا بھی ایک نہایت ہی نفیس ذریعہ ہیں۔ سیرت کے مقدس جلسوں میں ہی سال کے بعد ایک ایسا موقع مل جاتا ہے جس میں ہر طبقۂ مسلمانوں تک دینِ اسلام کی باتیں پہنچ جاتی ہیں اور دین کی کافی تبلیغ ہو جاتی ہے، لیکن حیرت ہوتی ہے ان افراد پر جو عیدِ میلاد کی مجالس کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کو بدعت کہہ کر ایک عظیم تبلیغی سلسلے کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ بعض تو اس معاملے میں اس قدر غلو پر اتر آئے ہیں کہ عیدِ میلاد کی تقریب انہیں کسی صورت گوارا نہیں ہوتی اور ماہِ ربیع الاول ان کے لیے ایسا ہی غم کا مہینہ ہوتا ہے جیسے شیعوں کے لیے محرم۔

یہ لوگ ذکرِ رسول سے جلتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد منانے سے سخت پریشان ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس طبقے کے اخبار و رسائل کے اداریے، جو ماہِ ربیع الاول سے متعلق ہوتے ہیں، جلی کٹی سنانے پر ہی مشتمل ہوتے ہیں۔ چنانچہ لائل پور کے وہابی اخبار المنبر سے نہ رہا گیا اور اس نے لکھا:

"آج جب کہ ہماری قوم کی اکثریت غیر مسلم اقوام کی نقالی میں جلوسوں، نعروں، چراغاں کرنے اور دکانوں و بازاروں کو سجانے سے حضور کا یومِ ولادت منا رہی ہے، یہ سوال اور بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے اور ہم سب کے لیے خدا کے حضور پیش ہونے سے پہلے سوچنے اور اپنے طرزِ عمل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا محرک بن رہا ہے۔ کیا ہے کوئی جو اس جانب توجہ دے؟"

(المنبر، 11 اکتوبر 1957ء)

غور کیجیے! ماہِ ربیع الاول کی چہل پہل اور سیرتِ پاک کے جلسوں، جلوسوں اور "یا رسول اللہ" کے نعروں سے کس کو دکھ پہنچ رہا ہے؟ کسی یہودی، عیسائی یا ہندو کو نہیں، بلکہ کلمہ پڑھنے والے جریدہ "المنبر" کے ایڈیٹر کو۔ پھر غلو کی انتہا یہ ہے کہ جلوس میں جو نعرے لگائے جاتے ہیں، ان کو بھی غیر مسلموں کی نقالی قرار دیا جا رہا ہے۔ گویا ان کے نزدیک یہودی، سکھ اور ہندو بھی "اللہ اکبر" اور "یا رسول اللہ" کے نعرے لگاتے ہیں۔ بہرحال، یہ تو ان کی ذہنیت ہے جس میں تبدیلی اب ناممکن ہی نظر آتی ہے۔ اپنا اپنا نصیب ہے، کسی کو اللہ کے محبوب کے ذکر میں اور اُن کا چرچا کرنے میں مزا آتا ہے اور کوئی جل بھن کر خاک ہو جاتا ہے۔

تخلیقِ کائنات کا سبب اور بے مثل ذات

اولین و آخرین کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ رب العزت جل مجدہٗ کی تمام مخلوقات میں سب سے افضل و اکرم حضور سید المرسلین، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ ہے۔ آپ تمام کمالاتِ دینی و دنیوی کے جامع ہیں اور اللہ عزوجل نے آپ کو وہ مرتبہ و مقام عطا فرمایا ہے جو انسان کی سرحدِ عقل سے باہر ہے۔

بیاں ہو کس سے کمالِ محمدِ عربی

ہے بے مثال جمالِ محمدِ عربی

حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہستی کے نقشِ اوّل ہیں، روحِ کائنات ہیں، فضل و شرف کے سورج اور حسن و خوبی کے چاند ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہیں جن کے لیے کائنات معرضِ وجود میں آئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا، حتیٰ کہ اللہ عزوجل اپنا رب ہونا بھی ظاہر نہ فرماتا۔ اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے:

ہے انہیں کے دم قدم سے باغِ عالم میں بہار

وہ نہ تھے، عالم نہ تھا، گر وہ نہ ہوں، عالم نہیں

یوں تو دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار یا اس سے کم و بیش پیغمبر مبعوث ہوئے، مگر ان میں سے چند ہستیاں بھی ایسی نہیں ہیں جن کے مکمل حالات اور صحیح خدوخال تاریخِ عالم یا ذہنِ انسانی میں محفوظ ہوں، مگر یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی خصوصیت ہے کہ آپ کی حیاتِ اقدس کا ایک ایک گوشہ صفحاتِ تاریخ پر ہی نہیں بلکہ ہزاروں ذہنوں میں محفوظ ہے۔

شک نہیں کہ آپ کی ذاتِ گرامی حسنِ سیرت کا پیکر تھی۔ آپ کا ہر ہر عضو قدرتِ خداوندی کا مظہر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے مثل و بے نظیر بنایا تھا اور ایسے حسین سانچے میں ڈھالا تھا جس کی نظیر ناممکن ہے۔ انسان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و صورت اور فضل و کمال کو الفاظ کا جامہ پہنا کر بیان کرنے سے قاصر ہے۔ الفاظ مجبور ہیں۔ کائنات اپنی تمام وسعتوں اور رعنائیوں کے ساتھ محدود ہے اور آپ کے فضائل و کمالات غیر محدود ہیں۔ تاہم اپنی طاقت و وسعت کے مطابق آپ کے اوصافِ جمیلہ بیان کیے جاتے ہیں، لیکن اعتراف سب یہی کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نہ دیکھا، نہ دیکھا گیا، نہ دیکھا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ نے حضورِ سرورِ عالم، نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو ساری کائنات کے لیے روشنی کا مینار بنایا تھا۔ جب ساری دنیا میں تاریکی و جہالت کی حکمرانی تھی، اخلاقی قدریں دم توڑ رہی تھیں، تمدن و تہذیب کا کوئی ضابطہ نہ تھا، تو اس جہانگیر تاریکی میں اخترِ برجِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحنِ عالم میں قدم رکھا۔ آپ کی ذاتِ ستودہ صفات کی برکت سے سنگلاخ زمین علم و معرفت کا خزینہ بن گئی۔ تشنہ لبوں کو جامِ حقیقت سے سیرابی کے مواقع میسر آ گئے اور آپ کی سیرتِ طیبہ، اخلاقِ کریمہ و فضائلِ جمیلہ سے متاثر ہو کر تاریک دل روشن، پھوٹی آنکھیں بینا، بہرے کان شنوا اور ٹیڑھی زبانیں سیدھی ہونے لگیں۔

آپ کے اخلاق کی پاکیزگی، کردار کی بلندی، معاملات کی صفائی، صداقت و دیانت کا شہرہ ہوا، حتیٰ کہ اعلانِ نبوت سے قبل ہی زبانِ خلق نے آپ کو صادق اور امین کا لقب دے دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ حضورِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگیِ پاک کا ہر دور سراپا اعجاز تھا اور آپ کی سیرتِ مقدسہ کا ہر گوشہ ہدایت و موعظت کا بحرِ بیکراں تھا۔

اکابرینِ امت کی روایات: شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا واقعہ

امام المحدثین حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ میرے والدِ محترم حضرت شاہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے بتایا کہ وہ ہر سال حضورِ سرورِ عالم، نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلادِ مبارک کی خوشی میں کھانا پکوایا کرتے تھے۔ ایک سال تنگ دستی کی وجہ سے وہ ایسا اہتمام نہ کر سکے اور عیدِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریب پر بھنے ہوئے چنے (ان پر فاتحہ دے کر) تقسیم کر دیے۔ شب کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے خواب میں مشرف ہوئے۔ انہوں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہی بھنے ہوئے چنے رکھے ہوئے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بہت شاد و بشاش ہیں۔ (دُرِّ ثمین)

فیض ہے یا شہِ تسنیم نرالا تیرا

آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0