حضرت علامہ مولانا حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ ( پیدائش: ۱۳۸۶ھ / ۱۹۶۶ء، وفات: ۱۴۴۲ھ / ۲۰۲۰ء) عالمِ اسلام کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ آپ نے ایک عالم، خطیب، مدرس اور مصنف کی حیثیت سے کافی شہرت حاصل کی، لیکن جس وصف سے آپ کو شہرتِ عام اور بقائے دوام حاصل ہوا، وہ آپ کا عشقِ رسول ﷺ ہے۔
عشقِ رسالت مآب ﷺ کی دولت آپ کو ماں کی گود سے ملی۔ آپ کی والدہ ماجدہ اٹھتے بیٹھتے ہر بات پر "صدقے یا رسول اللہ ﷺ" کہا کرتی تھیں۔ گویا آپ کو "یا رسول اللہﷺ" کا نعرہ والدۂ ماجدہ سے ورثے میں ملا تھا۔
تحریکِ ختمِ نبوت ۱۹۷۴ء اور ابتدائی تربیت
جب آپ نے قرآنِ کریم حفظ کرنے کے لیے رختِ سفر باندھا اور جہلم پہنچے تو اس دوران ملک میں ختمِ نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے رد میں چلنے والی تحریکِ ختمِ نبوت ۱۹۷۴ء اپنے عروج پر تھی۔ احتجاجی جلسے اور جلوس جاری تھے، حکومت کی جانب سے گرفتاریوں کا سلسلہ بھی زوروں پر تھا۔ آپ کی جہلم آمد کے چند روز بعد یہاں ایک ختمِ نبوت کانفرنس کا اعلان ہوا، جس میں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمتہ اللہ علیہ بھی تشریف لا رہے تھے۔
اگرچہ آپ حفظِ قرآن کے طالب علم تھے، لیکن جذبہ حبِ رسول اللہ ﷺ سے سرشار تھے۔ اسی لیے ایسی کانفرنسوں میں شرکت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ کانفرنس کے دن جب ایک گاڑی مقررہ جگہ پررکی اور اس میں سے ایک وجیہ شخصیت دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ باہر تشریف لائی تو یکایک ساری فضا حق و صداقت کی نشانی"شاہ احمد نورانی! شاہ احمد نورانی!" کے نعروں سے گونج اٹھی۔
یہ سارا منظر آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اور اسی دن سے قائدِ ملتِ اسلامیہ علامہ مولانا حافظ قاری شاہ احمد نورانی صدیقی میرٹھی رحمتہ اللہ علیہ کے ایسے اسیر ہوئے کہ پھر آپ نے ان کے عظیم مشن، یعنی ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالتِ مآب ﷺ پر پہرہ دیتے ہوئے اپنی ساری زندگی گزار دی۔
یہیں آپ نے علامہ عبدالمصطفیٰ ازہری رحمتہ اللہ علیہ، شیخ القرآن علامہ غلام علی اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ اور پروفیسر سید شاہ فرید الحق رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت بھی کی۔ زمانۂ طالب علمی ہی میں آپ نے تحریکِ ختمِ نبوت ۱۹۷۴ء میں بھرپور حصہ لیا۔
آٹھ سال کی عمر میں والہانہ نعرہ
ایک دن جامع مسجد عیدگاہ، جہلم میں نمازِ عشاء باجماعت ادا کر رہے تھے۔ جب سب نمازی سجدے میں گئے تو آپ نے دن بھر تحریک کے دوران جو نعرہ سنا اور لگایا تھا، وہی نعرہ سجدے کی حالت میں بے اختیار بلند آواز سے لگا دیا:
"مرزا قادیانی کافر ہے، مرزا قادیانی کافر ہے۔"
اس وقت آپ کی عمر تقریباً آٹھ سال تھی۔
علمی و قلمی جہاد: فدائیانِ ختمِ نبوت اور مجلہ "العاقب"
آپ نے درس و تدریس اور امامت و خطابت کے دوران ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت ﷺ کے موضوع پر مسلسل دروس دیے۔ شاید ہی آپ کی کوئی تقریر ایسی ہو جس میں ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت ﷺ کا ذکر نہ آیا ہو۔
آپ نے ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالتِ مآب ﷺ کے تحفظ کے لیے ۱۴۲۱ھ / ۲۰۰۰ء میں فدائیانِ ختمِ نبوت کا قیام عمل میں لایا، اور اس کے تحت "العاقب" کے نام سے ایک مجلہ لاہور سے جاری فرمایا۔ ابتدا میں یہ سہ ماہی تھا، بعد ازاں ماہنامہ کی صورت میں مطلعِ صحافت پر طلوع ہوتا رہا۔
"العاقب" کی پیشانی پر حدیثِ خاتم النبیین ﷺ:
أَنَا الْعَاقِبُ، وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ
درج ہوتی تھی۔ سرورق پر کبھی کا یہ شعر درج ہوتا:
لا نبی بعدی از احسانِ خداست
پردۂ ناموسِ دینِ مصطفیٰ است
اور کبھی کا یہ شعر:
فتحِ بابِ نبوت پر بے حد درود
ختمِ دورِ رسالت پر لاکھوں سلام
یہ مجلہ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالتِ مآب ﷺ کے موضوع کے لیے وقف تھا۔ اس میں ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالتِ مآب ﷺ کے حوالے سے مشاہیرِ اہلِ علم و قلم کے رشحاتِ قلم شامل ہوتے تھے۔ اکابرینِ ختمِ نبوت کے احوال اور ان کے قلمی جہاد کی تفصیلات شائع کی جاتی تھیں۔ آپ کے اپنے درجنوں مضامین و مقالات بھی اس مجلے کی زینت بنے۔ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالتِ مآب ﷺ کے حوالے سے "العاقب" کی کئی خصوصی اشاعتیں بھی منظرِ عام پر آئیں۔
اکابرین سے عقیدت کا عجیب واقعہ
اکابرینِ ختمِ نبوت سے آپ کی محبت و عقیدت دیدنی تھی۔ محافظِ ختمِ نبوت کے تو آپ والہ و شیدا تھے ہی، مجاہدِ ختمِ نبوت سے بھی آپ کی محبت و عقیدت کچھ کم نہ تھی، حتیٰ کہ ان کے جوتے بھی اپنے سر پر رکھ لیتے تھے۔
ایک مرتبہ مجاہدِ ملت علامہ محمد عبدالستار خان نیازی رحمتہ اللہ علیہ حضور داتا گنج بخش کے مزار پر حاضر ہوئے۔ انہوں نے اپنے جوتے اتار کر رکھے تو آپ نے ادب سے انہیں اٹھا کر اپنی دستار میں رکھ لیا۔ جب مجاہدِ ملت رحمتہ اللہ علیہ سلام پیش کر کے واپس آئے تو آپ نے اپنی دستار سے جوتے نکال کر انہیں پیش کر دیے۔
علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ ان دونوں بزرگوں، یعنی قائدِ اہلِ سنت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمتہ اللہ علیہ اور مجاہدِ ملت علامہ محمد عبدالستار خان نیازی رحمتہ اللہ علیہ، کی ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت کے لیے گراں قدر خدمات کی بنا پر انہیں اپنا قائد اور ہیرو گردانتے تھے۔
7 ستمبر کی اہمیت اور قادیانیت کے خلاف موقف
7ستمبر1974ء کو مملکتِ خداداد پاکستان نے ختمِ نبوت کے منکرین، یعنی قادیانیوں اور مرزائیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا تھا۔ آپ ستمبر کے مہینے میں اظہارِ تشکر کے طور پر ایوان اقبال لاہور میں یومِ ختمِ نبوت کی مناسبت سے نہایت شان و شوکت کے ساتھ تاجدارِ ختمِ نبوت کانفرنس کا انعقاد فرمایا کرتے تھے، جس میں ملک بھر سے علماء و مشائخ کو مدعو فرمایا کرتے تھے۔
آپ نے اپنے ایک انٹرویو (سہ ماہی العاقب، 2008ء) میں فرمایا:
"سات ستمبر کا فیصلہ عمارت کی تعمیر میں پہلی اینٹ کی مانند تھا، اور ابھی اس پر باقی عمارت تعمیر ہونا تھی، لیکن ہم ابتدائی اینٹ رکھ کر ہی بھول گئے۔ سات ستمبر کے فیصلے کے بعد اب تک قادیانی اتنے چوکنے ہو گئے ہیں کہ انہوں نے پچھلی ساری کسریں نکال دی ہیں۔ مجھے ملکِ عزیز کے کلیدی عہدوں پر فائز کئی افسران نے خود بتایا ہے کہ قادیانیوں نے ہمیں دعوت دی ہے کہ تم مرزائی بن جاؤ۔
آج بھی قادیانی اہلِ ایمان کو گمراہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جبکہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہیں۔
آج بھی اس معاشرے میں کئی ناسمجھ مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے قادیانیوں میں شادیاں کی ہیں، ان سے کاروباری شراکت کی ہے، ان کے حمایتی ہیں، اور وہ لوگ ان تمام امور کو برائی بھی تصور نہیں کرتے۔
مسلم معاشرے میں قادیانیوں کی اثرپذیری کا بنیادی سبب یہ ہے کہ مرزائیت کے خلاف جو نفرت ہونی چاہیے تھی، وہ علماءِ کرام میں باقی نہیں رہی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ خطباء حضرات مسئلہ ختمِ نبوت پر تقریر ہی نہیں کرتے، بلکہ ختمِ نبوت کے موضوع پر انہیں تقریر کرنے کے لیے کہا جائے تو وہ کسی اور عنوان اور موضوع پر بیان کرنے لگتے ہیں۔"
مزید فرماتے ہیں:
"مرزائیت، یہودیت اور نصرانیت کا پاکستان کے خلاف اتحاد ہے، اور اس اتحاد کو اسرائیل اور ہندوؤں کے ذریعے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال اسرائیلی فوج میں بھرتی ہونے والے 600 قادیانیوں کی ہے۔ ہمارے عسکری اور حساس اداروں کو اس جانب ضرور غور کرنا چاہیے کہ اسرائیلی فوج میں قادیانیوں کی بھرتی کس نظریے اور سازش کے تحت ہوئی ہے؟ ان کی بھرتی کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما ہیں، اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟
عقیدۂ ختمِ نبوت دین کی بنیاد ہے۔ جس طرح عقیدۂ ختمِ نبوت کا تحفظ کرنا ایک عام آدمی کی ذمہ داری ہے، اسی طرح ایک فوجی جرنیل کی بھی ذمہ داری ہے۔ افواجِ پاکستان کے ذمہ داران کو سوچنا چاہیے کہ ان کے تمام عہدے اس ملک کی وجہ سے ہیں، اور اس ملک کی بنیاد لا إله إلا الله محمد رسول الله پر رکھی گئی ہے۔ اگر اس بنیاد کو کھوکھلا کر دیا گیا تو اس ملک کا کیا بنے گا، اور تمہارا کیا بنے گا؟"
"مرزائی اور قادیانی، رسول اللہ ﷺ کی ختمِ نبوت کے غدار اور باغی ہیں، جو اسلام کی بنیاد ڈھانے کی ناپاک سعی کر رہے ہیں۔ افواجِ پاکستان کے غیور مجاہدین سے میرا سوال ہے کہ کیا اسلام اور پاکستان کی بنیاد کو کمزور کرنے اور ڈھانے والا شخص کسی رعایت کا مستحق ہے؟
میں میجر (ر) امیر افضل خان صاحب کی اس رائے سے بالکل متفق ہوں کہ جس طرح 10 نمبری بدمعاش کے دروازے پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ 10 نمبری بدمعاش ہے، اسی طرح ہر قادیانی مرزائی کے دروازے پر بھی لکھا ہونا چاہیے کہ یہ قادیانی مرزائی ہے، جس طرح 10 نمبری بدمعاش کے دروازے سے بھی لوگ ہٹ کر گزرتے ہیں یہ دینِ اسلام اور ہمارے آقا و مولا ﷺ کا باغی اور غدار ہے۔" (سہ ماہی العاقب، لاہور، شوال تا ذوالحجہ 1429ھ / 2008ء، ص: 115۔116)
عملی میدان اور احتجاجی تحریکیں
علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ اپنے عہد میں تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت کے روحِ رواں تھے۔ آپ خود بھی ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں رہے، اور جب بھی کسی کے قلم سے ختمِ نبوت کے حوالے سے کوئی تحریری کام دیکھتے تو فرطِ جذبات سے جھوم اٹھتے تھے۔
سن 2013ء میں ناموسِ رسالت ﷺ کے حوالے سے جب آپ شہر حسن ابدال تشریف لائے تو فقیر نے اپنے مرتبہ ماہنامہ الحقیقہ کے تحفظِ ختمِ نبوت نمبر کی پہلی جلد آپ کی خدمت میں پیش کی۔ اسے ہاتھ میں لیتے ہی آپ کی خوشی کی انتہا نہ رہی، اور آپ نے فرمایا:
"شاہ جی! ما شاء اللہ، تساں نے ختمِ نبوت دے موضوع تے بہوں وڈا کم کیتا اے۔"
اکثر لوگ مصلحتوں کا شکار ہو کر حالات کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں، لیکن قبلۂ امیرالمجاہدین علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ نے ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے عزیمت کا راستہ اختیار کیا۔ آپ نے ختمِ نبوت کے تحفظ کا پرچم بلند کیا، "لبیک یا رسول اللہ ﷺ"، "تاجدارِ ختمِ نبوت زندہ باد" اور مَنْ سَبَّ نَبِيًّا فَاقْتُلُوهُ کے نعرے بلند کیے، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحیح سمت کا تعین فرمایا۔
جب بھی ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت ﷺ پر کوئی آنچ آئی، تو آپ نے تحریکِ لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے زیرِ اہتمام ایسی صدائے احتجاج بلند کی کہ مخالفین کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہو جاتا تھا۔
سن 2017ء میں مملکتِ خداداد پاکستان کے اراکینِ اسمبلی کے حلف نامے میں ختمِ نبوت کی شق کو چھیڑا گیا تو آپ نے فقید المثال احتجاج کیا۔ اکیس روز تک مسلسل اسلام آباد کے مقامِ فیض آباد میں سخت سردی کے موسم میں دھرنا دیا۔ بالآخر حکومت کو ختمِ نبوت کی شق بحال کرنا پڑی اور وزیرِ قانون کو بھی مستعفی ہونا پڑا۔
سن 2018ء میں ہالینڈ کے گریٹ وائلڈرز نے توہینِ رسالت پر مبنی کارٹونوں کی نمائش کا اعلان کیا تو آپ نے داتا دربار، لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا۔ بالآخر گیرٹ وائلڈرز کو یہ متنازع نمائش منسوخ کرنی پڑی۔
عمران خان حکومت نے جب اقتصادی مشاورتی کونسل میں عاطف قادیانی کو لگایا تو امیرالمجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک بار پھر اپنی گھن گرج سے حکومت کے درمیان وبام ہلایا تب عاطف قادیانی کو ہٹا۔
فرانسیسی صدر میکرون معلون نے گستاخانہ خاکوں کی سرکاری عمارتوں پر ن
آویزاں کرنے کا اعلان کیا تو امیرالمجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کی دینی غیرت و حمیت نے ایک بار پھر جوش مارا۔ آپ نے فرمایا:
"گستاخانہ خاکوں کی اشاعت امتِ مسلمہ پر حملہ اور اعلانِ جنگ ہے۔ ہم خون کے آخری قطرے تک عزتِ رسول ﷺ پر پہرہ دیں گے۔"
آپ نے بھرپور احتجاج کیا۔ تحریکِ لبیک یا رسول اللہ ﷺ کا ہر کارکن میدانِ عمل میں آیا۔ بالآخر حکومت نے آپ سے تحریری معاہدہ کیا کہ تین ماہ کے اندر قانون سازی کے ذریعے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے گا، پاکستان فرانس میں اپنا سفیر تعینات نہیں کرے گا، اور فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔
اس تحریری معاہدے کے بعد دھرنا اور احتجاج ختم کر دیا گیا، لیکن آہ! افسوس، فرانس نے تو اپنا سفیر واپس نہ بلایا، مگر میرے اللہ نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کا سفیر واپس بلا لیا۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
حکومت اپنے وعدے سے مکر گئی۔ آپ کے جانشین اور تحریکِ لبیک پاکستان کے امیر علامہ حافظ سعد حسین رضوی زید مجدھ کو گرفتار کر لیا گیا۔ احتجاج پر تحریک کے کارکنوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی گئی۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں روزہ داروں پر سیدھی گولیاں ماری گئیں اور درجنوں عاشقانِ رسول ﷺ شہید ہوئے۔
امیرالمجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کے یہ کلمات آج بھی ہم سب کو جھنجھوڑتے ہیں:
"قبر میں حضور ﷺ کو کیا منہ دکھاؤ گے؟ کیا کہو گے کہ ہم ختمِ نبوت کے غداروں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں؟"
آج لے ان کی پناہ، آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا
آج لوگوں نے ختمِ نبوت کے مسئلے کو بچوں کا کھیل سمجھ رکھا ہے۔ جہاں ختمِ نبوت کا انکار ہو، وہاں عبادت خانہ نہیں ہوتا۔ عبادت خانہ تو وہ ہوتا ہے جہاں مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِجَالِكُمْ وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کی آیتیں پڑھی جاتیں ہوں۔
جانشین اور عزمِ مسلسل
ما شاء اللہ! آپ کے جانشین اور تحریکِ لبیک پاکستان کے موجودہ امیر علامہ سعد حسین رضوی زید مجدہ بھی صبر و استقامت کا پہاڑ ثابت ہوئے ہیں۔ آپ نے بھی جامع مسجد داتا دربار لاہور میں امیرالمجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کے ختمِ قرآن کے موقع پر واشگاف الفاظ میں فرمایا:
"میں وعدہ کرتا ہوں کہ ناموسِ رسالت کا تحفظ، ختمِ نبوت کی پاسبانی اور دین کو غالب کرنے کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ظالم کا ہاتھ روکیں گے، مظلوم کو اس کا حق دلوائیں گے۔ زبان اور دھڑ کٹوا سکتے ہیں، لیکن ختمِ نبوت پر کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتے۔"
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب احمدِ مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے طفیل امیرالمجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور کے علم و عمل اور استقامت میں مزید برکتیں عطا فرمائے۔ ہمارے علماء و مشائخ کو غفلت سے بیداری عطا فرمائے۔
آمین، ثم آمین، بجاہ سید المرسلین، خاتم النبیین ﷺ، وعلیٰ آلہ وأصحابہ وأزواجہ وذریتہ وأولیاء أمتہ وعلماء ملتہ أجمعین۔
تاجدارِ ختمِ نبوت زندہ باد۔
تبصرے 0