تاريخ کے عظیم اسلاف اور ان کی ماؤں کا نقشِ تربیت
یہ ایک تاریخی اور سماجی حقیقت ہے کہ مردوں میں رجولیت، فکری استقامت اور دینی مزاج پیدا کرنے میں عورت کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ امت کے عظیم علماء، محدثین، مجددین اور قائدین کی فکری تشکیل میں ان کی ماؤں اور قریبی خواتین کا کردار نہایت مؤثر اور فیصلہ کن رہا ہے۔ ان کی زندگی کے ابتدائی مراحل کسی نہ کسی باخبر، باعمل اور صاحبِ شعور خاتون کی نگرانی میں گزرے، جس نے ان کے فکر و کردار کی بنیاد رکھی۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ : بچپن میں بینائی سے محروم ہوگئے، مگر ان کی والدہ نے ہمت نہ ہاری۔ دعا، توجہ اور بہترین تربیت کے ذریعے انہوں نے ایسے عظیم محدث کی پرورش کی، جن کی کتاب صدیوں سے امتِ مسلمہ کی رہنمائی کر رہی ہے۔
امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ :آپ کی والدہ نے تنہائی، غربت اور سفر کی سختیاں برداشت کیں تاکہ ان کا بیٹا علم و فضل کے ماحول میں پروان چڑھ سکے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ:آپ کی والدہ سرد راتوں میں فجر سے پہلے بیدار ہوتیں، پانی گرم کرتیں، اپنے بیٹے کو تیار کرتیں اور خود پردے میں اس کے ساتھ مسجد تک جاتیں۔ یہ صرف ماں کی محبت نہیں بلکہ مقصد کے ساتھ کی گئی ایک عظیم تربیت تھی۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ :آپ کی زندگی میں ان کی بہن نے وہ خلا پُر کیا جو والدین کے بعد پیدا ہوا۔ نگہداشت، رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی صورت میں ایک عورت کا کردار ان کی شخصیت سازی میں نمایاں رہا۔
امیر المجاھدین علامہ خادم حسین رضوی رحمہ اللہ:آپ کی فکری و دینی تشکیل میں ان کی والدہ کی تربیت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ گھر کے دینی ماحول میں ماں کی “صدقے یا رسول اللّٰه ﷺ” جیسی محبت بھری لوری نے ان کے عشقِ رسول ﷺ کو غیر معمولی تقویت بخشی، جس نے ان کے اندر ناموسِ رسالت ﷺ اور عقیدۂ ختمِ نبوت سے گہری وابستگی پیدا کی۔ یہی روحانی و فکری بنیاد آگے چل کر تحفظِ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت ﷺ کے دفاع کے مضبوط نظریاتی مؤقف کی صورت میں ظاہر ہوئی۔
یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ عورت محض گھر کی منتظم نہیں بلکہ نسلوں کی فکری معمار ہوتی ہے۔ اگر عورت دین دار، صاحبِ فکر اور نظریاتی ہو تو اس کے اثرات گھر سے نکل کر پورے معاشرے تک منتقل ہوتے ہیں۔
سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کا تربیتی نظام
اسی تسلسل کی سب سے بلند مثال حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللّٰه تعالیٰ عنہا کی تربیت ہے، جس نے امام حسین علیہ السلام جیسی عظیم شخصیت کو جنم دیا۔ قرآن سے تعلق، حق کے ساتھ وابستگی اور باطل کے سامنے عدمِ مفاہمت، یہ سب اسی ابتدائی تربیت کا تسلسل تھا جو بعد ازاں واقعۂ کربلا میں عملی صورت میں ظاہر ہوا۔
اس پس منظر میں یہ کہنا بجا ہے کہ: اگر مرد تاریخ بناتے ہیں، تو عورتیں وہ مرد بناتی ہیں جو تاریخ بناتے ہیں۔
لہٰذا خواتین کا کردار محض نجی یا گھریلو دائرے تک محدود نہیں بلکہ وہ نظریاتی بقا، دینی تسلسل اور اجتماعی شعور کی تشکیل میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔
عورت کو چاہیے کہ وہ اسلام کا درد محسوس کرے، اپنی زندگی کو محض گھریلو تنازعات، سطحی دنیاوی فیشن یا بے مقصد خواہشات کے پیچھے ضائع نہ کرے بلکہ اپنے کردار، فکر اور شعور کو مضبوط بنائے، کیونکہ اس کی گود میں ایک پوری نسل کی تقدیر پروان چڑھتی ہے۔
اسی تناظر میں نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے تصور کو سمجھنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ملک کے قوانین اور اجتماعی نظام، نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے مطابق ہوں، تو یہ محض سیاسی نعروں یا ریاستی اعلانات سے ممکن نہیں۔ نظام پہلے معاشرے میں زندہ ہوتا ہے، اور معاشرہ سب سے پہلے گھر میں تشکیل پاتا ہے۔
وہ گھر جہاں سچ، امانت، حیا، عدل، صبر اور ذمہ داری روزمرہ زندگی کا حصہ ہوں، درحقیقت نظامِ مصطفیٰ ﷺ کی ابتدائی اکائی ہوتا ہے۔ اور یہ اقدار گھر میں خود بخود منتقل نہیں ہوتیں بلکہ ایک باخبر، باکردار اور صاحبِ شعور عورت انہیں نسل در نسل منتقل کرتی ہے۔
اگر گھروں میں تربیت اسلامی اصولوں پر نہ ہو، اور مائیں خود فکری انتشار، سطحی ترجیحات اور غیر ضروری تنازعات میں الجھی رہیں، تو معاشرتی بگاڑ کی ذمہ دار وہ خود ہوتی ہیں ہے۔
بانی اخوان المسلمون حسن البنا کا تاریخی قول
مصر کے مذہبی رہنما اور اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا سے ایک بار سوال کیا گیا:
ہم دن رات کام کرتے ہیں، اسلام کب غالب آئے گا؟
انہوں نے جواب دیا:
“جب ہم ماؤں کو شعور دیں گے، اور وہ اپنے بچوں کی پرورش درست اور مثبت انداز میں کریں گی، تب ہی اسلام دنیا پر غلبہ پائے گا۔”
یہ بات عورت کے اصل مقام اور اس کی عظیم ذمہ داری کو واضح کرتی ہے۔
اس لیے علمی اور سماجی دونوں اعتبار سے یہ بات درست ہے کہ اگر ہم نظامِ مصطفیٰ ﷺ کو ریاستی سطح پر نافذ دیکھنے کا خواب رکھتے ہیں، تو ہمیں سب سے پہلے اسی نظام کو اپنے گھروں میں عملی طور پر نافذ کرنا ہوگا، کیونکہ ریاست کی اصلاح کا سفر ماں کی گود سے شروع ہوتا ہے۔
تبصرے 0