انگریزوں نے جب برصغیرِ پاک و ہند میں اپنے قدم جما لیے اور سارے ملک پر قابض ہو جانے کے امکانات بھی انہیں نظر آنے لگے تو انہوں نے اپنے بعض پادریوں کو اس امر کا جائزہ لینے کی دعوت دی کہ مسلمانانِ ہند کے اندر داخلی طور پر مستقل اور پائیدار انتشار و افتراق کس طریقے سے پیدا کیا جا سکتا ہے۔
پادری حضرات نے جائزہ لے کر جو رپورٹ پیش کی، وہ علامہ خالد محمود سیالکوٹی کے الفاظ میں ملاحظہ ہو:
"یہاں کے باشندوں کی ایک بہت بڑی اکثریت پیری مریدی کے رجحانات کی حامل ہے۔ اگر اس وقت ہم کسی ایسے غدار کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں جو ظلی نبوت کا دعویٰ کرنے کو تیار ہو جائے تو اس کے حلقۂ نبوت میں ہزاروں لوگ جوق در جوق شامل ہو جائیں گے، لیکن مسلمانوں میں اس قسم کے دعوے کے لیے کسی کو تیار کرنا ہی بنیادی کام ہے۔ یہ مشکل حل ہو جائے تو اس کی نبوت کو حکومت کے زیرِ سایہ پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ ہم اس سے پہلے برصغیر کی تمام حکومتوں کو غدار تلاش کرنے کی حکمتِ عملی سے شکست دے چکے ہیں۔ وہ مرحلہ اور تھا، اس وقت فوجی نقطۂ نظر سے غداروں کی تلاش کی گئی تھی، لیکن اب جبکہ ہم برصغیر کے چپہ چپہ پر حکمران ہو چکے ہیں اور ہر طرف امن و امان بھی بحال ہو گیا ہے تو ان حالات میں ہمیں کسی ایسے منصوبے پر عمل کرنا چاہیے جو یہاں کے باشندوں کے داخلی انتشار کا باعث ہو۔"
برطانوی منصوبہ بندی اور تاریخی پس منظر
اس رپورٹ کے بعد، یا اس سے بھی پہلے، انگریزوں نے یہ منصوبہ ضرور بنایا ہوگا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ صراطِ مستقیم نامی کتاب، سید احمد صاحب بریلوی (المتوفی 1246ھ/1831ء) کے دعویٰ نبوت کی تمہید ہی تھی۔ اس میں وحیِ باطنی، عصمتِ باری تعالیٰ جل شانہٗ تک صعود، اور اس سے ہم کلامی تک کے دعوے بھرے پڑے ہیں، لیکن دستِ قضا نے انہیں منزلِ مقصود پر پہنچنے کی مہلت نہ دی۔ ( بیس بڑے مسلمان، ص 6)
اس کے بعد تحذیر الناس نامی کتاب بھی کچھ ایسے ہی منصوبے کی تکمیل کا ساتھ دیتی ہوئی نظر آتی ہے، لیکن اس کے مصنف مولوی محمد قاسم نانوتوی (المتوفی 1297ھ/1879ء) بھی اس بنیاد پر عمارت تعمیر کرنے یا تعمیر کروانے سے پہلے ہی راہیِ ملکِ عدم ہو گئے، اور مرزا غلام احمد قادیانی (المتوفی 1908ء) ہی ایسا نکلا جو برٹش گورنمنٹ کے اس ناپاک منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچا سکا۔
مرزا قادیانی کے مذہبی رجحانات اور ہم خیال شخصیات
مرزا قادیانی کے مذہبی خیالات و رجحانات کے بارے میں شیخ محمد اکرام صاحب کا خیال ہے کہ مولوی چراغ علی صاحب سے مرزا صاحب کی خط و کتابت تھی، اور جہاد کے متعلق وہ مولوی صاحب کے ہم خیال تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق انہوں نے بیشتر سر سید احمد خان کے خیالات کی پیروی کی، لیکن باوجود اس کے کہ ان کی تعلیمات میں کئی باتیں معتزلہ کے خیالات سے قریب تھیں، وہ اکثر اصولی باتوں میں قدامت پسند تھے، اور عام مسلمانوں سے ان کے معتقدین، بالخصوص قادیانی گروہ، کا اختلاف بیشتر مرزا صاحب کے اپنے دعوؤں کے متعلق ہے۔
انہوں نے مسیحِ موعود، مہدیِ منتظر اور کرشن اوتار ہونے کا دعویٰ کیا، اور یہ ایسے دعوے ہیں جن کو عام مسلمان غلط سمجھتے ہیں۔ نبوت کا دعویٰ کر کے اور ایک نیا فرقہ کھڑا کر کے انہوں نے مسلمانوں میں جو اختلاف پیدا کیا، اسے بھی اکثر مسلمان ناپسند کرتے ہیں۔
مولوی رشید احمد گنگوہی سے عقیدت کا معمہ
مرزا غلام احمد قادیانی جہاں سر سید احمد خان اور ان کے دستِ راست مولوی چراغ علی صاحب کا متبع یا ہم خیال تھا، وہاں اسے مولوی رشید احمد گنگوہی (المتوفی 1323ھ/1905ء) سے بھی بڑی عقیدت تھی۔ چنانچہ دیوبندی عالم مولوی عبدالرشید ارشد نے اس سلسلے میں یوں وضاحت کی ہے:
"مرزا غلام احمد قادیانی جس زمانے میں براہین لکھ رہے تھے اور ان کے اخبارات میں چرچا ہو رہا تھا، اس وقت ان کو حضرت امام ربانی (یعنی گنگوہی صاحب) سے عقیدت تھی۔ اُس طرف جانے والوں سے پوچھا کرتے تھے کہ مولانا اچھی طرح ہیں؟ گنگوہ کتنے فاصلے پر ہے؟ راستہ کیسا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس زمانے میں حضرت (گنگوہی) نے ایک دفعہ یوں فرمایا تھا کہ: کام تو یہ شخص اچھا کر رہا ہے، مگر پیر کی ضرورت ہے، ورنہ گمراہی کا احتمال ہے۔" (حوالہ جات: موجِ کوثر، ص 178 / بیس بڑے مسلمان، ص 223)
بہرحال، یہ راز و نیاز کی باتیں ہیں جنہیں ہمارے جیسے نااہل افراد سمجھ ہی نہیں سکتے کہ مرزا صاحب کو مولوی رشید احمد گنگوہی سے عقیدت کیوں ہوئی؟ گنگوہی نے مرزا کو مردِ صالح کیوں قرار دیا تھا؟ اُس کے کاموں کو کس بنا پر سراہا جا رہا تھا؟ نہیں معلوم کہ موصوف کو مرزا صاحب کے بے پیر رہنے اور پیر کی ضرورت ہونے کا کس طرح علم ہوا، یا خود اُن کے پیر ہونے کا شرف حاصل کرنے کے خواہش مند تھے؟
ہم یہ عقدہ بھی حل کرنے سے عاجز ہیں کہ ادھر تو گنگوہی صاحب اپنی روحانیت سے قادیان کے ایک فرد کی گمراہی کا احتمال بھی دیکھ لیا کرتے تھے، لیکن دوسری طرف انہیں وہ لوگ بھی نظر نہیں آتے تھے جو گنگوہ، انبیٹھ، سہارنپور اور دیوبند میں بیٹھ کر باری تعالیٰ جل شانہٗ کو جھوٹا بتاتے رہتے تھے۔ اس راز کو دیوبندی حضرات تو یقیناً سمجھتے ہوں گے۔
عالمی اہلِ علم کا تجزیہ: پروفیسر ابو زہرہ مصری کی رائے
پروفیسر ابو زہرہ مصری نے مرزا غلام احمد قادیانی کا تعارف یوں کروایا ہے:
"انگریز، جو مغربی تہذیب و ثقافت کو دیارِ ہند میں لائے تھے، مغربی تہذیب کے دلدادہ مسلمانوں سے بڑا لگاؤ رکھتے، انہیں تقربِ بارگاہ سے مشرف کرتے اور بڑے بڑے عہدوں سے نوازتے تھے۔ اس قسم کے مسلمان حاکمِ دیارِ غیر میں مسلمانوں کی نمائندگی کرتے تھے۔ یہی وجوہات تھیں جن کی بنا پر سرزمینِ ہند گمراہ فرقوں کی قرارگاہ بن گئی۔ غالباً قلتِ تعداد کے علی الرغم ان فرقوں میں زیادہ نمایاں، قوی تر اور ترقی یافتہ قادیانی گروہ تھا۔ قادیانی فرقہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔ اس کا بانی و مؤسس مرزا غلام احمد قادیانی تھا، جس کی وفات 26 مئی 1908ء میں ہوئی۔ اس کی نسبت قادیان کی طرف ہے، جو ایک قصبہ ہے اور لاہور سے ساٹھ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ مرزا غلام احمد وہاں مدفون ہے۔ اس کی قبر پر 'مرزا غلام احمد موعود' کے الفاظ مرقوم ہیں۔ موعود سے مراد یہ ہے کہ مرزا صاحب وہی مہدی ہیں جن کا انتظار کیا جاتا تھا کہ وہ آ کر شریعت کی احیا و تجدید کریں گے۔"
مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیمات کے بارے میں مذکورہ مصری فاضل کی رائے قابلِ غور ہے۔ فرماتے ہیں کہ حق بات یہ ہے کہ آپ کا قریبی تعلق ائمۂ شیعہ سے ہے۔ شیعہ کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کے ائمہ معصوم ہیں اور اُن کے ہاتھوں معجزات کا صدور ہوتا ہے، تاہم وہ یہ نہیں کہتے کہ ان پر وحی نازل ہوتی ہے۔ ( اسلامی مذاہب، ص 305)
ہے یا وہ خدا سے شرفِ ہم کلامی حاصل کرتے ہیں۔ بہرحال، مرزا صاحب کی تعلیمات کا اسلام سے کوئی سروکار نہیں۔
قارئینِ کرام! جن حضرات کے ذریعے برٹش گورنمنٹ نے تخریبِ دین اور افتراقِ بین المسلمین کا منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچایا تھا، اُن میں سے بعض حضرات کا گزشتہ سطور میں مختصر سا تذکرہ کر دیا ہے۔ یہی تھے وہ حضرات جنہیں پُراسرار طریقے سے پروپیگنڈا مشینری کے بل بوتے پر پورے برطانوی دور میں مسلمانوں کے رہنما منوایا جاتا رہا، اور آج تک انگریزوں کی اسی سنت پر کمالِ سعادت مندی سمجھ کر عمل کیا جا رہا ہے۔ حقیقت تو ہر چشمِ بینا کے سامنے واضح ہے، لیکن حالات کی ستم ظریفی نے الٹی گنگا بہا رکھی ہے۔
راہزن خضرِ راہ کی قبا چھین کر
رہنما بن گئے، دیکھتے دیکھتے
حبِّ دنیا اور فتنوں سے خبردار کرنے والی حدیثِ مبارکہ
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے اُحد کے قبرستان تشریف لائے۔ آپ نے شہدائے اُحد کے لیے (اُن کی شہادت کے تقریباً سات سال بعد) وہی دعا پڑھی جو جنازے میں پڑھی جاتی ہے۔ پھر آپ منبر کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے (منبر پر تشریف فرما ہو کر) فرمایا:
"میں تمہارا پیش رو ہوں، میں تم پر گواہ ہوں۔ اللہ کی قسم! میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں اس بات کا خوف نہیں کرتا کہ تم میرے بعد اجتماعی طور پر (یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح) کفر میں مبتلا ہو جاؤ گے، لیکن مجھے یہ خوف ہے کہ تم دنیا کو حاصل کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے۔"( اسلامی مذاہب، ص 315)
تبصرے 0