کالمز

تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی اہمیت اور صحابۂ کرام کے طرزِ عمل

تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی اہمیت اور صحابۂ کرام  کے طرزِ عمل
تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی اہمیت اور صحابۂ کرام کے طرزِ عمل

ناموسِ رسالت کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم

ناموس اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو بادشاہ کا رازدار اور معتمد علیہ ہو۔

نبی اور رسول چونکہ اللہ تعالیٰ کے رازوں سے واقف ہوتے ہیں، اس لیے انہیں اس راز کی وجہ سے ایک خاص مقام حاصل ہوتا ہے، لہٰذا ان کی آبرو، عزت، شہرت، عظمت، شان اور حفاظت کو بھی ناموس کہا جاتا ہے۔

یعنی ناموسِ رسالت سے مراد کسی بھی رسول کی آبرو، عزت، شہرت اور عظمت کی حفاظت کرنا ہے، اور ہر قسم کی عیب جوئی یا بے ادبی پر مبنی کلام سے پرہیز کرنا ہے۔

اصطلاحی مفہوم

  • پچھلے تمام انبیاء علیہم السلام کے برحق ہونے پر ایمان لانا۔

  • آقائے دو جہاں، خاتم النبیین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اور وصالِ ظاہری کے بعد بھی آپ ﷺ کے ہر پہلو کی عزت، آبرو، عظمت اور شان پر ایک حرف بھی نہ آنے دینا۔

قرآنِ مجید کی روشنی میں تعظیم و تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنے حبیب ﷺ کی عزت و تکریم کے احکام نازل فرمائے ہیں:

  1. عزت کا حقیقی مستحق:

    ﴿يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ۚ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾

    (سورۃ المنافقون: 8)

  2. عام آدمیوں کی طرح پکارنے سے منع:

    لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (سورۃ النور: 63)

  3. حجروں کے باہر سے آواز دینے کی ممانعت:

    ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ۝ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾(سورۃ الحجرات: 4، 5)

  4. آپ ﷺ کے سامنے آواز پست رکھنے کا حکم:

    ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ﴾(سورۃ الحجرات: 2)

  5. آہستہ بولنے والوں کے لیے اجرِ عظیم:

    ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ ۚ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ﴾

    (سورۃ الحجرات: 3)

  6. درود و سلام کا حکم:

    ﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (سورۃ الأحزاب: 56)

  7. اطاعتِ رسول ﷺ، محبتِ الٰہی کی شرط:

﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾(سورۃ آل عمران: 31)

گستاخیِ رسول کے متعلق قرآنی وعید اور احکام

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی شان میں کمی یا بے ادبی کرنے والوں کے بارے میں سخت وعیدیں نازل فرمائی ہیں:

  • اعمال کا ضائع ہونا: آپ ﷺ کے سامنے اونچی آواز سے بولنے والے کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ﴾(سورۃ الحجرات: 2)

  • ایمان کی نفی: آپ ﷺ کے فیصلوں کو دل و جان سے تسلیم نہ کرنے والا مومن نہیں ہو سکتا

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾(النساء: 65)

  • فاسق قرار دیا جانا: اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ کسی رشتے یا مال کو محبوب رکھنا فسق ہے

﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ﴾(التوبہ: 24)

  • جہنم کا عذاب: آپ ﷺ کی مخالفت کرنے والے اور اذیت دینے والے کے لیے دردناک عذاب اور جہنم کا ٹھکانہ ہے

  1. ﴿وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾(النساء: 115)

  2. ﴿وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ ۚ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾(التوبہ: 61)

  3. أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَن يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ (التوبہ: 63)

  • شدید سزا کا حکم: اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے اور زمین میں فساد پھیلانے والوں کے لیے قتل اور عبرتناک سزا کا حکم ہے

  1. إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ (المائدہ: 33)

  2. ﴿أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ أَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۝ قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ ۝ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ ۗ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ (سورۃ التوبہ: 13 تا 15)

ناموسِ رسالت اور احادیثِ مبارکہ

محبتِ رسول ﷺ کی اہمیت

  1. ایمان کی بنیادی شرط:

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

    «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّىٰ أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» (صحیح البخاری: 3) ترجمہ: تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

  2. د رود شریف کی فضیلت:

    «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا» (صحیح مسلم: 408)

گستاخانِ رسول کے متعلق نبوی اسوہ اور تاریخ

اگرچہ حضور ﷺ ذات کے اعتبار سے رحمة للعالمین، نرم دل اور شفیق تھے، لیکن اشاعت، تحفظ اور نصرتِ دین کی خاطر آپ ﷺ نے ان گستاخوں کے قتل کا حکم دیا جنہوں نے آپ ﷺ کو ایذا پہنچائی اور اسلام کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا۔

  1. کعب بن اشرف کا واقعہ: نبی کریم ﷺ کے حکم پر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کعب بن اشرف یہودی کو جہنم واصل کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دے گا، وہ مارا جائے گا (صحیح البخاری: 4037)

  2. گستاخ عورت کا انجام: آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والی عورت کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے قتل کیا (مصنف عبدالرزاق: 9705)

  3. ابو رافع کا واقعہ: حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ کی قیادت میں صحابہ نے ابو رافع یہودی کو ایذا رسانی کے جرم میں قتل کیا (صحیح البخاری: 4039)

  4. حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت: آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے کسی نبی کو گالی دی، اسے قتل کیا جائے گا..."

  5. فتحِ مکہ کا دن: عام معافی کے باوجود گستاخانِ رسول (مثلاً عبداللہ بن خطل) کے بارے میں حکم تھا کہ اگر وہ کعبہ کے پردوں سے بھی لپٹے ہوں تو انہیں سزا دی جائے (صحیح البخاری: 1846)۔

قصاص یا دیت کی نفی اور صحابہ کی تحسین

تمام تاریخی واقعات سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ناموسِ رسالت پر پہرہ دینے والے کسی صحابی کو سزا نہیں دی، نہ دیت یا قصاص دلوایا، بلکہ ان کے عمل کی تحسین فرمائی۔ مثلاً نابینا صحابی حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے اندھا نہ کہو، یہی درحقیقت بصارت والا ہے" اور فرمایا کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کی ہے۔

اسوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور حفظِ ناموسِ رسالت

قرآن و سنت کی انہی تعلیمات کا نتیجہ تھا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اپنی جان، مال، اولاد اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر پہرہ دیتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی محبت کرتے تھے کہ آپ علیہ السلام کا پسینہ، بال، ناخن، یہاں تک کہ لعابِ دہن بھی زمین پر نہ گرنے دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننا اور ان پر عمل کرنا، ان کے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ عزیز تھا۔ اور اگر کوئی بدبخت اگر آپ علیہ السلام کی ناموس پر وار کرتا تھا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اسے برداشت نہ کرتے تھے، بلکہ اسے جان سے مار دیتے تھے۔ چنانچہ احادیث سے ہمیں مندرجہ ذیل گستاخوں کے قتل کے واقعات ملتے ہیں۔

1۔ نابینا صحابی حضرت عمیر بن عدی خطمی رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلہ بنو خطمہ کی ایک عورت کو اس حالت میں قتل کر دیا جب وہ رات کے وقت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی، کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سبّ و شتم کرتی تھی۔

2۔ ایک نابینا صحابی نے اپنی بیوی (اُمِّ ولد، یعنی بچوں کی ماں لونڈی) کو قتل کر دیا، کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخ تھی۔

3۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو قتل کر دیا جو ایک مقدمے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی نہ ہوا اور فریقِ ثانی کو لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلے کے لیے آیا۔ اور وحی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کی تصویب فرمائی۔

سیرت نگاروں، محدثین، مفسرین اور مؤرخین نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے تحفظِ ناموسِ رسالت اور گستاخانِ رسول کے قتل کے دوسرے بھی ایسے کئی واقعات نقل کیے ہیں، لیکن ہم ان چند اہم اور ثقہ واقعات کے ذکر پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔

دورِ صحابہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی محبت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے امت کو منتقل ہوئی، اور مسلمان صرف اس لیے ایک امت ہیں کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں۔ دنیا کا ہر گناہ گار سے گناہ گار مسلمان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر جان نچھاور کرنا اپنے لیے اعزاز اور افتخار سمجھتا ہے۔

چنانچہ جب بھی اور جہاں بھی کسی بدبخت نے توہینِ رسالت کا ارتکاب کیا، یا تو اسے مسلم حکومت نے موت کی سزا دی یا کسی مسلمان نے اسے مار دیا، اور اس دوسری صورت میں کبھی کسی مسلم حکومت نے ناموسِ رسالت پر وار کرنے والے کو مارنے والے کو سزا نہیں دی۔

اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ امت نے کبھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے کسی نبی کاذب کو بھی برداشت نہیں کیا۔ ایسا دعویٰ کرنے والے کو یا تو مسلم حکومت نے کیفرِ کردار تک پہنچا دیا یا کسی مسلمان نے۔ یہی وجہ ہے کہ جب برصغیر میں علامہ اقبال نے علمائے کرام کی حمایت میں غلام قادیانی کی نبوت کی مذمت کی تو پنڈت نہرو نے علامہ اقبال پر طنز کرتے ہوئے کہا:

"میں تو تمہیں یورپ پلٹ، روشن خیال مسلمان سمجھتا تھا، تم بھی روایتی مولویوں کی طرح انتہا پسند نکلے؟"

اقبال نے جواب دیا:

"ہاں، میں انتہا پسند ہوں، اس لیے کہ یہ امت کی بقا کا مسئلہ ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی دوسرے کو نبی ماننے سے امت ٹوٹتی ہے، لہٰذا میں اسے کیسے برداشت کر سکتا ہوں۔"

جب تک مسلمانوں کی حکومت رہی، توہینِ رسالت کے حوالے سے امت کا یہی رویہ رہا۔ ائمہ اربعہ، اہلِ حدیث، اہلِ تشیع، سب کا یہی متفقہ موقف رہا کہ گستاخِ رسول مباح الدم ہے۔ چنانچہ ہمیشہ گستاخِ رسول کا سر قلم ہوتا رہا۔ بعض اوقات لوگ جوشِ ایمانی میں اشتعال آ کر حکومت اور عدالت سے سبقت لے کر بھی گستاخِ رسول کو جہنم واصل کر دیتے تھے تو حکومت انہیں کچھ نہ کہتی تھی۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ حضور نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر آپ کی حیاتِ مبارکہ میں بھی اور وصالِ مبارک کے بعد بھی لازم ہے۔

رسالتِ محمدیہ ﷺ کی اصل امتیازی حیثیت

قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

  • ﴿مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ﴾ (سورۃ الفتح: 29)

  • ﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ...﴾ (سورۃ الأحزاب: 40)

  • ترجمہ: (مسلمانو!) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

بس یہی اصل تعارف ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں۔

یعنی بلا شبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی خوش اخلاق تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے معاملہ فہم تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت اچھے منتظم (ایڈمنسٹریٹر) تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بہترین سپہ سالار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت مدبر سیاست دان تھے، اور بلا شبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شفیق والد تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شفیق شوہر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مخلص دوست بھی تھے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ پر ہیں، لیکن وہ بات جسے مان کر ہم دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے ہیں، وہ کیا ہے؟ وہ ہے:

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔

قصۂ مختصر! حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری رسول ماننا ہی اصل تقاضائے رسالتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام ہے۔

نظامِ تعلیم اور میڈیا کی غفلت

ایمان اور عقائد کی کتابوں میں ایمان کی تعریف کچھ یوں ہے:

الإيمانُ تصديقٌ بما جاءَ بهِ النَّبِيُّ ﷺ

یعنی ایمان نام ہے ہر اس بات کو سچا مان لینے کا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی حیثیت، جو نظامِ تعلیم سے نکالی جا رہی ہے

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر اللہ کے رسول ہونے کا تذکرہ ہی نہ ہو تو "آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل" والی بات ہے۔ ہمارا نظامِ تعلیم اسی طرح ترتیب دیا گیا ہے۔ آج ماہِ مبارک ربیع الاول میں ہمارے ملک میں بھی ٹی وی چینلز پر اگر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر پروگرام کر بھی لیے جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی حیثیتوں پر تبصرے ہوں گے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل حیثیت کا ذکر تک نہیں ہوگا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حیثیت نگاہوں سے اوجھل ہو گئی ہے، اور ہمارے مسلمان بڑی آسانی سے دجالی میڈیا کی سازشوں کا شکار ہو چکے ہیں۔

مثال سے سمجھاتا ہوں۔ اگر قرآنِ مجید کو ہم اللہ تعالیٰ کا کلام نہ مانیں بلکہ یہ کہیں کہ قرآنِ مجید بڑی معلوماتی (انفارمیٹو) کتاب ہے، اور بلا شبہ ہے؛ سائنس کے ماہرین کے نزدیک اس میں بہت سی سائنسی معلومات ہیں، اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اس کتاب کو ہدایت کی کتاب بھی مان لیں، کیونکہ اس میں ہدایت بھی بہت ہے، تو بھی یہ کافی نہیں ہوگا، بلکہ قرآنِ مجید کا اصل تعارف اللہ جل شانہ کی نازل کردہ کتاب ہونا ہی ہے۔ اسی طرح ہم دو چار کی طرح مانیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ جب آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے رسول مانیں گے تو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات سے نہ ہم اختلاف کر سکتے ہیں، نہ ہی اس بات کو جھوٹا قرار دے سکتے ہیں، اور نہ ہی ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کو اپنی انسٹرکشن کے مطابق موڑ سکتے ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال سے سمجھ لیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے رسول ماننے کا تقاضا کیا ہے؟ ایک شخص ان کے پاس بڑا خوش خوش آیا اور کہا: "بھئی! یہ بتاؤ، اگر کوئی آ کر یہ کہے کہ میں راتوں رات فلسطین گیا اور سات آسمانوں کی سیر کر کے آیا تو تم مان لو گے؟"

انہوں نے کہا: "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟"

تو اس شخص نے کہا: "اچھا! تمہارے دوست محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ کہہ رہے ہیں۔"

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "واقعی انہوں نے ایسا فرمایا ہے؟"

اس شخص نے کہا: "ہاں۔"

تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: "مجھے اس میں کوئی شک ہی نہیں ہے، اس لیے کہ میں ان کو اللہ کا رسول مانتا ہوں۔"

یہی آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی حیثیت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور آخری رسول ہیں۔

ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے جداگانہ مسئلہ ہے۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور تکریم ہر مسلمان کے لیے سرمایۂ حیات ہے، اور اس کے بغیر کوئی مسلمان ایمان کا تصور ہی نہیں کر سکتا۔ یہی چیز اہلِ اسلام کو دنیا کی دیگر مذہبی روایات سے ممتاز کرتی ہے۔ اہلِ اسلام کا یہ تہذیبی سرمایہ ہمیں اندھیروں میں روشنی دکھاتا ہے اور مایوسیوں سے نجات دلاتا ہے۔ جب تک مسلمان کا دل اس جذبے سے سرشار اور آباد رہتا ہے، وہ کبھی اغیار سے مغلوب نہیں ہوتا۔

اسی تہذیبی دولت و سرمایہ کی تپش و حرارت سے مسلمانوں نے ہزار برس سے زائد عرصے تک دنیا کے سامنے علمی، عملی، معاشی، ریاستی اور فکری و فنی محیر العقول کارنامے سرانجام دیے۔ عالمِ کفر نے اسی بات کو مسلمانوں کی کمزوری بنانا چاہا ہے، اور پچھلے دو سو سال میں ایسے ایسے فتنے اور فرقے عالمِ اسلام میں پھیلا دیے جن کی کاوشوں کا مقصدِ اولین یہ ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کے قلوب و اذہان سے عشق و ادبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے والہانہ جذبات کو کم کیا جائے۔

حکیم الامت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی اس بدنیتی کو یوں بے نقاب کیا:

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا

روحِ محمد ﷺ اس کے بدن سے نکال دو

ناموسِ رسالت: امتِ مسلمہ کا اصلی سرمایہ اور نفاذِ اسلام کی قوت

مغربی دنیا کے ناموسِ رسالت پر بھونکنے یا قانونِ توہینِ رسالت کے خلاف ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ناموسِ رسالت کی اہمیت جانتے ہیں۔ مغربی تہذیب کے بنیادی نظریات مذہب اور خصوصاً اسلام مخالف ہیں۔ یہ بات اس وقت آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے جب بندہ سمجھ لے کہ کسی بھی نظام کو لانے کے لیے ایک منہج چاہیے، جو ہمیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ سے ملتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ واحد رسول ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں اپنی شریعت کا نفاذ کر کے دکھایا۔ اس لیے ہمیں اسلام کے نظام کے نفاذ کے لیے جو بھی تحریک ملتی ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسولُ اللہ مان لینے سے ملتی ہے، اور اس نظام کے نفاذ کے خواہاں ہم تبھی ہوں گے جب عشقِ مصطفیٰ ﷺ پر، ناموسِ رسالت ﷺ پر کٹ مرنے کا جذبہ پیدا ہو جائے گا اور ہم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو اپنا مشن بنا لیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ تمام مغربی تہذیب اپنی تمام تر طاغوتی قوتوں کے ساتھ میدانِ عمل میں اتری ہوئی ہے اور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر کاری ضرب لگانے کی اپنی ناکام کوششوں میں مصروفِ عمل ہے، لیکن پھر خود ہی منہ کی کھاتی ہے اور نامرادی اس کا مقدر بنتی ہے۔

حاصلِ کلام (Conclusion)

ناموسِ رسالت کا مسئلہ سب سے جداگانہ ہے۔ اس کا اندازہ ہم اس سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ ناموسِ رسالت کے لیے آواز بلند کرنے کی وجہ سے آج ایک کرکٹر، محترم خالد لطیف صاحب حفظہ اللہ، کے لیے پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں میں محبت، عقیدت اور مودّت کے جذبات کا سمندر امنڈ آیا ہے، اور وہیں تمام یہود و ہنود کی خالد لطیف صاحب سے نفرت بھی سامنے آئی ہے۔ ثابت ہوا کہ "گل وچ ہور اے" اور ناموسِ رسالت کا مسئلہ بے شک سب سے جداگانہ مسئلہ ہے۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0