ولادتِ باسعادت
اعلٰی حضرت ، اِمامِ اَہْلسُنّت، ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شَمْعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِ سنّت ، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن کی ولادتِ باسعادت بریلی شریف کے مَحَلّہ جَسولی میں۱۰ شَوّالُ المُکرّم ۱۲۷۲ھ بروزِ ہفتہ بوقتِ ظُہر مطابق 14جون1856ء کو ہوئی۔ سَن ِ پیدائش کے اِعتبار سے آپ کا نام اَلْمُختار ہے۔(حیاتِ اعلٰی حضرت ج۱ ص۵۸ مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)
اعلٰی حضرت کا سنِ ولادت
میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اپنا سَنِ ولادت پارہ28 سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر22 سے نکالا ہے۔ اِس آیتِ کریمہ کے عِلمِ اَبْجَد کے اعتبار کے مطابِق 1272عَدَد ہیں اور ہجری سال کے حساب سے یِہی آپ کا سنِ ولادت ہے۔
سیِّدی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے) ارشاد فرمایا: بِحَمْدِ اللہِ تعالٰی میری وِلادت کی تاریخ اس آیۃ کریمہ میں ہے.:
اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ -(پ، ۲۸، المجادلہ: ۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی۔
اعلیٰ حضرت کا اسم گرامی
آپ کا نامِ مُبارَک محمد ہے اور آپ کے دادا نے احمد رضا کہہ کر پکارا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔
بچپن کی خارقِ عادت حکایت
بچپن کی ایک حِکایت جنابِ سیِّدایوب علی شاہ صاحِب رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ بچپن میں آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو گھر پر ایک مولوی صاحِب قراٰنِ مجید پڑھانے آیا کرتے تھے۔ ایک روز کا ذِکر ہے کہ مولوی صاحِب کسی آیتِ کریمہ میں بار بار ایک لفظ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو بتاتے تھے مگر آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی زَبانِ مبارَک سے نہیں نکلتا تھا وہ ’’زَبَر‘‘ بتاتے تھے آپ ’’زیر‘‘ پڑھتے تھے یہ کیفیت جب آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے دادا جان حضرتِ مولانا رضا علی خان صاحب رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے دیکھی توحُضُور (یعنی اعلیٰ حضرت) کو اپنے پاس بُلایا اور کلامِ پاک منگوا کر دیکھا تو اس میں کاتِب نے غَلَطی سے زیر کی جگہ زَبر لکھ دیا تھا، یعنی جو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی زَبان سے نکلتا تھا وہ صحیح تھا ۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے دادا نے پوچھا کہ بیٹے جس طرح مولوی صاحب پڑھاتے تھے تم اُسی طرح کیوں نہیں پڑھتے تھے؟ عرض کی: میں ارادہ کرتا تھا مگر زَبان پر قابو نہ پاتا تھا۔(حیاتِ اعلٰی حضرت ج ۱ ص ۶۸)
حکام کی خوشامد سے اجتناب اور نعت گوئی
ایک مرتبہ رِیاست نان پارہ ( ضِلع بہرائچ یوپی ہند) کے نواب کی مَدح (یعنی تعریف) میں شُعَرا نے قصائد لکھے ۔ کچھ لوگوں نے آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ سے بھی گزارِش کی کہ حضرت آپ بھی نواب صاحِب کی مَدح (تعریف) میں کوئی قصیدہ لکھ دیں۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اس کے جواب میں ایک نعت شریف لکھی جس کا مَطلَع یہ ہے:
وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گُمانِ نَقص جہاں نہیں
یِہی پھول خار سے دُور ہے یِہی شَمع ہے کہ دُھواں نہیں
کروں مَدحِ اَہلِ دُوَل رضاپڑے اِس بَلا میں مِری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا مِرا دین ’’پارئہ ناں ‘‘نہیں
بیداری میں دیدارِ مُصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
بیداری میں دیدارِ مصطفٰے ﷺ کی سعادت
جب اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ دوسری بار حج کے لیے حاضِر ہوئے تو مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں نبیِّ رَحمتِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت کی آرزو لیے روضۂـ اَطہر کے سامنے دیر تک صلوٰۃ وسلام پڑھتے رہے، مگر پہلی رات قسمت میں یہ سعادت نہ تھی۔ اِس موقع پر وہ معروف نعتیہ غَزَل لکھی جس کے مَطلَع میں دامنِ رَحمت سے وابَستگی کی اُمّید دکھائی ہے۔ ؎ وہ سُوئے لالہ زار پھرتے ہیں تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں شَرحِ کلامِ رضا: ؔاے بہار جھوم جا! کہ تجھ پر بہاروں کی بہار آنے والی ہے۔ وہ دیکھ! مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سُوئے لالہ زار یعنی جانِب گلزار تشریف لا رہے ہیں ! مَقطَع میں بارگاہِ رسالت میں اپنی عاجِزی اور بے مایَگی (بے ما۔یَہ۔گی یعنی مِسکینی ) کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضاؔ
تجھ سے شَیدا ہزار پھرتے ہیں
(اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے مِصرعِ ثانی میں بطورِ عاجِزی اپنے لیے ’’کُتّے ‘‘ کا لفظ اِستِعمال فرمایا ہے مگر اَدَباً یہاں ’’شیدا‘‘ لکھا ہے)
شَرحِ کلامِ رضا
اِس مَقطَع میں عاشقِ ماہِ رسالت سرکارِ اعلیٰ حضرت کمالِ انکساری کا اظہار کرتے ہوئے اپنے آپ سے فرماتے ہیں : اے احمد رضا! ؔتو کیا اور تیری حقیقت کیا! تجھ جیسے تو ہزاروں سگانِ مدینہ گلیوں میں یوں پھر رہے ہیں ! یہ غَزَل عَرض کرکے دیدار کے اِنتظار میں مُؤَدَّب بیٹھے ہوئے تھے کہ قسمت انگڑائی لیکر جاگ اُٹھی اور چشمانِ سر (یعنی سر کی کھلی آنکھوں ) سے بیداری میں زیارتِ محبوبِ باری صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مُشرَّف ہوئے۔
( ایضاًص۹۲ )
وصالِ باکمال اور دربارِ رسالت سے بشارت
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اپنی وفات سے4ماہ22 دن پہلے خود اپنے وِصال کی خبر دے کر پارہ29 سورۃ الدھر کی آیت15 سے سالِ انتِقال کا اِسْتِخْراج فرمادیا تھا۔اِس آیتِ شریفہ کے علمِ اَبجَد کے حساب سے 1340عَدَد بنتے ہیں اور یِہی ہجری سال کے اعتبار سے سنِ وفات ہے۔
وہ آیتِ مبارَکہ یہ ہے
: وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ (پ۲۹، الدہر: ۱۵)
ترجَمۂ کنزالایمان : اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کُوزوں کا دَور ہوگا۔ (سوانحِ امام احمد رضا ص۳۸۴ )
وصال رضا
25 صفر المظفَّر۱۳۴۰ھ مطابِق28 اکتوبر 1921ء کو جُمُعَۃُ الْمُبارَک کے دن ہندوستان کے وَقت کے مطابِق2 بجکر 38 مِنَٹ (اور پاکستانی وقت کے مطابِق 2بجکر8مِنَٹ) پر ، عَین اذانِ جُمعہ کے وَقتاعلٰی حضرت، اِمامِ اَھلسنّت ، ولیِ نِعمت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حامیِ سُنّت، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْرو بَرَکت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافظ القاریشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن نے داعیٔ اَجل کو لبیّک کہا۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ (۱۵۶)
مزار مبارک
آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کا مزار پُرانوارمدینۃ المرشد بریلی شریف میں آج بھی زیارت گاہِ خاص وعام ہے
بیت المقدس کے شامی بزرگ کا خواب
25صفر المظفَّر1340ھ کو بیتُ المقدَّس میں ایک شامی بُزُرگ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے خواب میں اپنے آپ کو دربارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں پایا۔ صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان دربار میں حاضِر تھے، لیکن مجلس میں سُکوت طاری تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی آنے والے کا اِنتِظار ہے،
شامی بُزُرگ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں عَرض کی:
حضُور !(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کس کا اِنتِظار ہے؟
سیِّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ہمیں احمد رضا کا اِنتظار ہے۔
شامی بُزُرگ نے عَرض کی: حضُور ! احمد رضا کون ہیں؟
ارشاد ہوا: ہندوستان میں بریلی کے باشِندے ہیں۔ بیداری کے بعد وہ شامی بُزُرگ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ مولانا اَحمدرَضا رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی تلاش میں ہندوستان کی طرف چل پڑے اور جب وہ بریلی شریف آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ اس عاشقِ رسول کا اسی روز
(یعنی 25 صفر المظفّر1340ھ) کو وصال ہوچکا ہے۔جس روز اُنہوں نے خواب میں سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ کہتے سنا تھا کہ ’’ہمیں احمد رضا کا انتِظار ہے۔‘‘ (سوانحِ امام احمد رضا ص۳۹۱)
تبصرے 0