کالمز

تحفظِ ختمِ نبوت و شعائرِ اسلام: آئینِ پاکستان، شرعی احکام اور قانونی حیثیت

تحفظِ ختمِ نبوت و شعائرِ اسلام
تحفظِ ختمِ نبوت و شعائرِ اسلام

تحفظِ ختمِ نبوت و شعائرِ اسلام: آئینِ پاکستان، شرعی احکام اور قانونی حیثیت

کیا کسی ریاست کے اندر متوازی ریاست قائم کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ کیا کسی مخصوص گروہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی دوسرے مذہب کی مخصوص علامات، شناخت اور عبادات کی چوری کرے؟

دنیا کا کوئی بھی مہذب آئین اور قانون اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ جب دنیاوی قوانین میں کسی بھی برانڈ، شناخت یا علامات کی نقل کرنا ایک سنگین اور قابلِ سزا جرم ہے، تو پھر کائنات کے سب سے سچے اور آخری دین، دینِ اسلام کے شعائر پر کسی غیر مسلم گروہ کی جانب سے ڈاکہ ڈالنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟

عیدالاضحیٰ کے مقدس موقع پر غیر مسلم اقلیت کی جانب سے جانور خریدنے، علامتی طور پر قربانی کرنے اور خود کو مسلمانوں کی طرح پیش کرنے کی کوشش محض ایک عبادتی نقالی نہیں، بلکہ یہ آئینِ پاکستان، مسلمہ اسلامی قوانین اور مسلمانوں کی ایمانی حمیت پر ایک کھلا حملہ ہے۔

قربانی اور شعائرِ اسلام کی شرعی و فقہی حیثیت

"قربانی صرف مسلمان کا حق ہے"۔امت مسلمہ کا اس بات پر روزِ اول سے کامل اجماع اور اتفاق ہے کہ قربانی ایک خالص اسلامی عبادت اور دین کا عظیم الشان شعار ہے۔ یہ عبادت صرف اور صرف اس شخص کے لیے خاص ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید اور حضور نبی کریم ﷺ کی آخری اور کامل نبوت پر غیر متزلزل ایمان رکھتا ہو۔

قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾

"اور جو اللہ کی نشانیوں (شعائر) کی تعظیم کرے، تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔"(سورة الحج، پارہ نمبر 17، آیت نمبر 32)

اس آیت مبارکہ سے یہ اصول روز روشن کی طرح واضح ہوتا ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم اور ان کا مروجہ طریقہ صرف اہل ایمان کا حق ہے۔ فقہائے اسلام نے صراحت کی ہے کہ غیر مسلم یا مرتد کی جانب سے اسلامی عبادات کی نقالی مسلمانوں کو فریب دینے اور کفر کو اسلام کا لبادہ اوڑھانے کی ناپاک جسارت ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

آئینِ پاکستان اور تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی متعلقہ دفعات

پاکستان کا دستور اس معاملے میں بالکل دو ٹوک اور غیر مبہم ہے۔ 1974ء کی تاریخی دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں (خواہ وہ لاہوری گروپ سے ہوں یا قادیانی گروپ سے) کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔

آئینی آرٹیکل 260(3) اور امتناعِ قادیانیت آرڈیننس 1984ء

آئین پاکستان کا آرٹیکل 260(3) اس بات کی وضاحت کرتا ہےکہ مسلمان کون ہے اور دائرہ اسلام سے خارج کون۔ اس آئینی اساس کو تحفظ دینے کے لیے امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ء کے ذریعے تعزیرات پاکستان (PPC) میں دفعہ 298-B اور 298-C کا اضافہ کیا گیا۔ ان دفعات کے تحت ق۔ادیانی۔وں پر قانوناً یہ سخت پابندیاں عائد ہیں:

  1. وہ خود کو براہِ راست یا بالواسطہ مسلمان نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔

  2. وہ مسلمانوں کی مخصوص اصطلاحات، القابات اور شعائر اسلام کا استعمال نہیں کر سکتے۔

  3. وہ زبانی، تحریری، اشارتاً یا کنایۃً کوئی ایسا عمل نہیں کر سکتے جس سے مسلم معاشرے میں ان کے مسلمان ہونے کا مغالطہ پیدا ہو۔

چنانچہ، نماز عید الاضحی کی طرز پر اجتماع کرنا، مسنون خطبہ دینا، یا عید کے تین دنوں میں قربانی کا اہتمام کرنا صریحاً تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298-C کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس پر تین سال قید اور جرمانے کی سزا مقرر ہے اور یہ جرم پولیس کے لیے قابلِ دست اندازی (Cognizable) ہے۔

عدالتی نظائر: سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے

قادیانی وکلاء اکثر یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ چار دیواری کے اندر انہیں اپنی رسومات کی آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان کا 1993ء کا تاریخی فیصلہ (ظہیر الدین بنام ریاست - 1993 SCMR 1718) اور حالیہ عدالتی نظائر بشمول (سرکار بنام مبارک ثانی - PLJ 2026 SC Cr 152) اس مغالطے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں۔

عدالتِ عظمیٰ نے واضح طور پر یہ اصول طے کیا ہے کہ:

"قادیانیوں پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 298-B اور 298-C کا اطلاق چار دیواری کے اندر اور باہر، ہر دو صورتوں میں یکساں طور پر نافذ العمل ہے۔ انہیں چار دیواری کے اندر بھی مسلمانوں کے شعائر چوری کرنے یا ان کی نقالی کرنے کی کوئی اجازت نہیں ہے۔"

قادیانیوں کا قربانی کرنا کوئی معصومانہ عمل یا مذہبی آزادی کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کا مقصد سادہ لوح مسلمانوں کو یہ تاثر دینا ہے کہ ق۔ادی۔انی بھی مسلمانوں کی طرح ہی ایک فرقہ ہیں۔ یہ سراسر تلبیسِ حق اور دھوکہ دہی ہے۔

مسلمانوں کی بیداری اور انتظامیہ کی آئینی ذمہ داری

شعائر اسلام کی حرمت کا تحفظ اور ملکی قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ملک کے ہر مسلمان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین شرعی و آئینی ذمہ داری ہے۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر انتظامیہ اور پولیس کو قانون پر سختی سے عمل درآمد کروانا چاہیےتاکہ آئین اور قانون کی پاسداری قائم رہے۔

عوامی اطلاع اور قانونی لائحہ عمل

اگر آپ اپنے علاقے میں کسی قادیانی کو عید الاضحیٰ کے موقع پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث دیکھیں:

  • مسلمانوں کی طرز پر نمازِ عید کا اجتماع یا خطبہ دیتے ہوئے۔

  • قربانی کا جانور خریدتے یا ذبح کرنے کی تیاری کرتے ہوئے یا گوشت سازی اور اس کی تقسیم کے ذریعے خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے۔

    تو فوری طور پر قانون کو ہاتھ میں لیے بغیر اپنے قریبی تھانے کو مطلع کریں، امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت ایف آئی آر (FIR) درج کروائیں یا فوری مدد کے لیے 15 پر رابطہ کریں۔

حاصلِ کلام (Conclusion)

آئین پاکستان کی پاسداری اور شعائر اسلام کا تحفظ ہی معاشرے میں امن و امان کا ضامن ہے۔ ہم کٹ تو سکتے ہیں لیکن ظالم اور شعائر اسلام پر ڈاکہ ڈالنے والوں کی حمایت یا خاموشی اختیار نہیں کر سکتے۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0