کالمز

تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت 1974ء میں علماءِ اہلِ سنت کا کردار

تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت 1974ء میں علماءِ اہلِ سنت کا کردار
تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت 1974ء میں علماءِ اہلِ سنت کا کردار

تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت 1974ء میں علماءِ اہلِ سنت کا کردار

عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کی اساس اور وہ بنیاد ہے جس پر دینِ اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو جسدِ اسلام کی روح ہے۔ محبوبِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے آخری نبی ہونے پر قرآنِ پاک کی آیاتِ کثیرہ اور بے شمار احادیثِ نبویہ شاہد و دال ہیں۔ خصوصاً آیتِ کریمہ: وَلٰكِنْ رَسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَﷺ قرآن کی نصِ قطعی ہے، جس میں انکار، شک، احتمال اور وہم کی بالکل گنجائش نہیں۔

عقیدۂ ختمِ نبوت: قرآن، حدیث اور اقوالِ ائمہ کی روشنی میں

خداوندِ قدوس نے قرآنِ پاک میں جہاں دیگر انبیاءِ کرام علیہم السلام کے بعد نبوت جاری رہنے کی خبر دی، جیسا کہ کئی آیات سے ظاہر ہے، وہاں اپنے لاڈلے حبیب ﷺ کے متعلق وَلٰكِنْ رَسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ فرما کر حضور سیدِ دو عالم ﷺ پر بابِ نبوت مسدود فرما دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس امت میں بڑی بڑی عظیم المرتبت ہستیاں گزریں، مگر کوئی بھی منصبِ نبوت پر فائز نہ ہو سکا، اور ہوتا بھی کیسے؟ جبکہ خود نبیِ آخر الزمان علیہ التحیۃ والثناء نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی شخصیت کے متعلق فرمایا:

«لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» (مشكاة المصابيح)

ترجمہ: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتا۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی نہیں ہوئے، کیونکہ حضور ﷺ کے بعد نبی ہو ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح مولا علی شیرِ خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو بھی سیدِ دو عالم ﷺ نے فرمایا:

«أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» (بخاری و مسلم)

ترجمہ: اے علی! تم میری نیابت میں ایسا ہے جیسے موسیٰ کے لیے ہارون، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

یعنی حضور ﷺ نے اپنے بعد نبی ہونے کے وہم و گمان کو بھی ختم فرما دیا، کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہارون علیہ السلام تو نبی تھے۔ تھے، مگر کوئی یہ سمجھ لے کہ نبی کے بعد علی نبی ہیں، اس وہم و گمان اور احتمال کو بھی ختم فرما دیا کہ میرے بعد کسی کا نبی ہونا تو سوچنا بھی نہیں، قیامت تک کے جھوٹے دجالوں اور کذابوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

«لَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ ﷺ نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهُ، وَلَكِنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ» (بخاری)

ترجمہ: اگر مقدر ہوتا کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو، تو حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہتے، مگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں امت کا اجتماعی اور اتفاقی عقیدہ ہے کہ سرورِ عالم ﷺ کے بعد مدعیِ نبوت دجال، کذاب، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ وہ اور اس کے ماننے والے جہنم کا ایندھن ہیں۔ بلکہ نبوت کا دعویٰ کرنا تو الگ رہا، حضور ﷺ کے بعد نبوت کی تمنا کرنا بھی کفر ہے۔ ائمۂ دین کے صریح ارشادات اس بارے میں موجود ہیں۔

چنانچہ "اعلام بقواطع الإسلام" میں ہے:

قَالَ الحَلِيْمِيُّ: لَوْ تَمَنَّى فِي زَمَنِ نَبِيِّنَا أَوْ بَعْدَهُ أَنْ لَوْ كَانَ نَبِيًّا، فَيَكْفُرُ فِي جَمِيْعِ ذٰلِكَ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ لَا فَرْقَ بَيْنَ تَمَنِّي ذٰلِكَ بِاللِّسَانِ أَوْ بِالْقَلْبِ.

ترجمہ: امام حلیمی علیہ الرحمہ نے فرمایا: ہمارے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں یا حضور ﷺ کے بعد کسی شخص کا یہ تمنا کرنا کہ کاش وہ نبی ہوتا، ان تمام صورتوں میں وہ کافر ہو جائے گا۔

ظاہر ہے کہ اس میں کچھ فرق نہیں کہ وہ تمنا زبان سے ہو یا دل سے۔ جب صرف تمنا پر کافر ہو جاتا ہے تو دعویٰٔ نبوت کس درجے کا کفرِ خبیث ہوگا۔ العیاذ باللہ رب العالمین۔

مدعیِ نبوت پر ایمان لانا تو درکنار، حضور ﷺ کے بعد کسی مدعیِ نبوت سے معجزہ طلب کرنا بھی کفر ہے۔

اسی "اعلام بقواطع الإسلام" میں ہے:

مدعیِ نبوت کی تکفیر تو خود ہی واضح ہے، اور جو اس سے معجزہ مانگے اس کا بھی کفر ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس مطالبے میں اس مدعی کے صدق کو محتمل مان رہا ہے، حالانکہ دینِ متین سے بالضرورت معلوم ہے کہ نبیِ اکرم ﷺ کے بعد دوسرا نبی ممکن نہیں۔

خدا، یکتا الوہیت میں،تو یکتا رسالت میں کسی کو اب نبی ہونے کا دعویٰ ہو نہیں سکتا۔ (از افاداتِ نباضِ قوم)

فتنۂ قادیانیت کے خلاف اکابرینِ اہلِ سنت کی ابتدائی جدوجہد

حضور ختمیِ مرتبت ﷺ کی حیاتِ مبارکہ سے لے کر آج تک ہر دور میں دنیا کے حریص اور طالع آزماؤں نے جھوٹ، فریب، مکر و دجل اور شعبدہ بازیوں سے قصرِ نبوت میں نقب لگانے کی کوشش کی، مگر امتِ مسلمہ اس جعل سازی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیشہ مستعد و منظم رہی۔ مسیلمہ کذاب، طلیحہ بن خویلد، اسود عنسی سے لے کر مرزا قادیانی تک، امتِ مسلمہ نے ہر دور میں ان نقب زنوں کا بھرپور تعاقب کیا۔

1901ء میں جب سے مرزا غلام احمد قادیانی ملعون نے اپنے خود ساختہ نبی ہونے کا اعلان کیا، تو علماء و مشائخِ اہلِ سنت نے اس فتنے کے سدِ باب کے لیے ہر میدان میں قادیانیت کا محاسبہ جاری رکھا۔

تاجدارِ گولڑہ اور اعلیٰ حضرت بریلوی کا تاریخی کردار

اس وقت تاجدارِ گولڑہ، سیدنا پیر مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ اور اعلیٰ حضرت سیدنا امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی علیہ الرحمہ جیسی عظیم روحانی و علمی شخصیات نے دجالِ قادیان کا ناطقہ بند کیا۔

حضرت پیر مہر علی شاہ بیسویں صدی کے آغاز میں مشائخِ پنجاب کے سلسلے کی سب سے بڑی روحانی شخصیت تھے۔ آپ 1890ء میں حج کے لیے حرمین شریفین حاضر ہوئے، تو آپ نے دیارِ رسول ﷺ میں رہنے کا فیصلہ کر لیا، لیکن حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ نے اپنے کشف کی بنا پر آپ سے فرمایا کہ آپ کے ہاں ایک بہت بڑا فتنہ ظاہر ہونے والا ہے، اس کا سدِ باب آپ کی ذات سے متعلق ہے۔ آپ وہاں خاموش بھی بیٹھے رہے تو بھی ملک کے علماء اس فتنے کی زد سے محفوظ رہیں گے اور عامۃ المسلمین بھی اس فتنے سے بچ جائیں گے۔

قادیانی دجال کے مقابلے اور اس کی جھوٹی نبوت کے تاج محل کو مٹی میں ملانے کے لیے سیدنا امام احمد رضا خان بریلوی، سیدنا پیر مہر علی شاہ، حضرت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری، علامہ اقبال، سفیرِ اسلام شاہ عبد العلیم صدیقی، پروفیسر محمد الیاس برنی، مولانا سید دیدار علی شاہ الوری، مولانا قاضی عبد الغفور قادری (پنجہ شریف)، مولانا غلام قادر بھیروی، حضرت خواجہ ضیاء الدین سیالوی، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا، حضرت مفتیِ اعظم ہند مولانا محمد مصطفیٰ رضا خان بریلوی، ابوالحسنات مولانا سید احمد قادری، ابوالبرکات مولانا سید محمد احمد قادری، بابوجی حضرت خواجہ پیر سید غلام محی الدین گیلانی گولڑوی، حضرت سلطان محمود قادری اعوان شریف، حضرت مولانا محمد ذاکر مدنی (محمدی شریف، جھنگ)، حضرت پیر عبدالعزیز چاچڑوی، مولانا انوار اللہ حیدرآبادی (دکن)، مفتی عبد اللہ ٹونکی، مولانا نواب الدین رامداسی، مولانا اصغر علی روحی، مولانا کرم دین دبیر، پیر محمد کرم شاہ ازہری، مفتی غلام جان ہزاروی، مولانا لطف اللہ حیدرآبادی، قائدِ اہلِ سنت مولانا شاہ احمد نورانی، شارحِ بخاری علامہ سید محمود احمد رضوی، مجاہدِ ملت مولانا عبد الحمید بدایونی، مولانا عبد الستار خان نیازی، اور مولانا غلام دستگیر قصوری سمیت ہزاروں علماء و مشائخِ اہلِ سنت نے مختلف ادوار میں بھرپور انداز میں اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کیا۔

پنجاب میں سب سے پہلے مولانا غلام قادر بھیروی نے مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف کفر کا فتویٰ صادر فرمایا۔

1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت اور علماءِ حق کی قربانیاں

1953ء کی تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت میں شیخ القرآن مولانا عبد الغفور ہزاروی، مولانا عبد الحمید بدایونی، شیخ الاسلام خواجہ محمد قمر الدین سیالوی، ابوالحسنات مولانا سید احمد قادری، مولانا شاہ محمد عارف اللہ میرٹھی اور پیر سید جماعت علی شاہ علی پوری نے قیادت فرمائی۔

مولانا سید محمد خلیل قادری اور مجاہدِ ملت مولانا عبد الستار خان نیازی سمیت تین شخصیات کو اسی تحریک میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلانے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی، جس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

مولانا سید ابوالحسنات قادری، جو سیدنا امام احمد رضا خان کے خلیفۂ مجاز تھے، 1953ء کی تحریک کے قافلہ سالار تھے، اور ان کی مسجد وزیر خان اس تحریک کا مرکزی صدر مقام تھی۔ ان زعماء نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

حضرت پیر سید جماعت علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے 27 اکتوبر 1904ء کو سیالکوٹ میں مرزا قادیانی کو مناظرے کے لیے چیلنج کیا۔ مرزا قادیانی موجود تھا، مگر میدان چھوڑ کر بھاگ گیا، اور پھر اس کے بعد اسے ساری زندگی سیالکوٹ آنے کی جرأت نہ ہوئی۔

تاجدارِ گولڑہ، نائبِ غوثِ اعظم حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ نے 1908ء میں مرزا قادیانی کا چیلنجِ مناظرہ و مباہلہ قبول کیا اور بادشاہی مسجد لاہور تشریف لائے، مگر مرزا قادیانی ملعون میدان میں آنے کی جرأت نہ کر سکا، اور بالآخر اسی مباہلے کے نتیجے میں اپنے انجام کو پہنچا۔مرزا قادیانی ملعون کی زندگی سراپا شرمندگی تھی۔

علامہ شاہ احمد نورانی اور 1974ء کی آئینی و پارلیمانی جدوجہد

قیامِ پاکستان کے بعد علماء و مشائخِ اہلِ سنت نے 1953ء میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلائی، لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کے باوجود علماءِ حق اہلِ سنت و جماعت نئی حکمتِ عملی سے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دیتے رہے اور ہر محاذ پر قادیانیوں کے سامنے سینہ سپر رہے۔

وہ علماء جنہوں نے تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت 1953ء کی ناکامی کے بعد دوبارہ حق کی آواز بلند کی، ان میں ایک روشن و تابندہ نام مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی کا ہے، جنہوں نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے بھرپور طریقے سے عملی جدوجہد جاری رکھی۔

قادیانیوں کے خلاف تحریک چلائی اور ان کی ہر موڑ پر مخالفت کرتے رہے۔ مولانا نورانی نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قادیانیوں کی مخالفت کی اور ہمیشہ ان کے آگے آہنی چٹان کی مانند کھڑے رہے۔ (ماہنامہ پیامِ حرم، کراچی، نومبر 2005ء)

علامہ شاہ احمد نورانی مارچ 1971ء میں پہلی بار جمعیت علماء پاکستان کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

قومی اسمبلی میں "مسلمان کی تعریف" کی منظوری (1972ء-1973ء)

15 اپریل 1972ء کو قومی اسمبلی کا سہ روزہ افتتاحی اجلاس شروع ہوا تو علامہ نورانی نے اجلاس کے پہلے ہی روز جمعیت علماء پاکستان کے پارلیمانی قائد کی حیثیت سے عبوری آئین کے حوالے سے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کو اپنا موضوعِ گفتگو بنایا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں قومی اسمبلی کے فلور پر عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ میں بلند ہونے والی سب سے پہلی آواز تھی۔

علامہ شاہ احمد نورانی پاکستان کی پارلیمانی اور آئینی تاریخ میں پہلے سیاست دان تھے جنہوں نے سب سے پہلے آئین میں مسلمان کی تعریف شامل کرنے کا مطالبہ کیا اور آئین سازی کے لیے قائم کمیٹی میں سب سے پہلی ترمیم مسلمان کی تعریف اور اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب قرار دینے سے متعلق پیش کی۔

قومی اسمبلی میں اپنے اولین خطاب میں علامہ شاہ احمد نورانی نے آئین کے اندر مسلمان کی تعریف شامل کرنے کا پُرزور مطالبہ کیا اور کہا کہ جو لوگ حضور اکرم ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے، ہم انہیں مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔

آپ کے اس مطالبے کا مقصد لپاکستان کے اعلیٰ ترین عہدوں پر عقیدۂ ختمِ نبوت کے مخالف قادیانیوں اور غیر مسلموں کے فائز ہونے کے امکانات کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ تھا۔ دراصل علامہ نورانی کا آئین میں مسلمان کی تعریف شامل کرنے کا مطالبہ قادیانیوں کو کافر اور غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک کا نقطۂ آغاز اور 1974ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کی بنیادی اساس تھا۔

17 اپریل 1972ء کو جمعیت علماء پاکستان اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے مسلمان کی جامع تعریف پہلی بار اسمبلی میں پیش کی گئی، جسے بعد میں 1973ء کے آئین میں شامل کر لیا گیا۔ آئین میں اس تعریف کی شمولیت نے قادیانیوں کو ایک ایسی غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تھا، جس کا مستقبل میں صرف اعلان ہونا باقی رہ گیا تھا۔ اس سے قادیانیوں کو بھی یقین ہو چلا تھا کہ وہ غیر اعلانیہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار پا چکے ہیں۔ مولانا نورانی صدیقی نے تحفظِ ختمِ نبوت اور عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کو مملکت کا قانون بنانے اور آئینی تحفظ دینے کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔

اس سفر کی کامیاب ابتدا آئین میں مسلمان کی تعریف کی شمولیت، ریاست کا سرکاری مذہب اسلام، دیگر اسلامی دفعات کو آئینی تحفظ دینے، عائلی قوانین کی تنسیخ، تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کے لیے مسلمان ہونے کی شرط، فتنۂ ارتداد کو روکنے کی ضمانت حاصل کرنے، اور پاکستان کے دستور کو دو قومی نظریے سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں سے ہو چکی تھی، اور آپ اپنے اہداف پر نظر رکھے ہوئے مرحلہ وار اس منزل کی جانب رواں دواں تھے۔

آپ 29 اپریل 1973ء کو آزاد کشمیر اسمبلی میں میجر (ر) محمد ایوب کی متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد سے بھی اچھی طرح واقف تھے، اور محسوس کر رہے تھے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پاکستان کی نیشنل اسمبلی کو بھی منظور کر کے پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ میجر (ر) محمد ایوب کی قرارداد کا اصل محرک اور اس کی بنیاد 17 اپریل 1972ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کردہ مسلمان کی تعریف تھی، جسے علامہ شاہ احمد نورانی اور آپ کے رفقاء نے تیار کیا تھا۔

30 جون 1974ء کی تاریخی قرارداد اور قومی اسمبلی میں جرح

آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ایک نئی تاریخ ہی رقم نہیں کی بلکہ پاکستان کی نیشنل اسمبلی کے اراکین کے لیے بھی آئندہ کا لائحۂ عمل متعین کر دیا تھا۔ مرزائی، آئین میں مسلمان کی تعریف کی شمولیت سے پہلے ہی سخت پریشان تھے کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف قرارداد نے ان کے تمام خدشات کو یقین میں بدل دیا، اور انہیں محسوس ہونے لگا کہ عنقریب پاکستان کی قومی اسمبلی میں موجود علماءِ حق اہلِ سنت و جماعت ان کے مستقبل کے بارے میں قرارداد پیش کر کے ان کے لیے بچنے کے راستے بھی بند کر دیں گے۔

اس صورتِ حال نے مرزا ناصر کو اس قدر سیخ پا کر دیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہذیان بکنے لگا۔ اتفاق سے اسی دوران سانحۂ ربوہ پیش آ گیا، جس نے قادیانیوں کے خلاف عوامی نفرت کو مزید گہرا کر دیا اور جو تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت 1974ء کی اصل بنیاد بنا۔

علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی، جو کہ تمام حالات کا نہایت ہی باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے، نے محسوس کیا کہ اب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لیے آئینی اور قانونی جنگ لڑنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ چنانچہ 30 جون 1974ء کو آپ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے تاریخ ساز قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی، جس پر ابتدا میں 22 (بائیس) ارکانِ اسمبلی نے فوری دستخط کیے۔ بعد ازاں بھی ارکانِ اسمبلی شامل ہوتے رہے اور بالآخر ان کی تعداد 37 ہو گئی، جبکہ بہت سے اراکین اس عظیم سعادت سے محروم رہے۔

مرزا قادیانی کی زندگی میں مولوی اشرف علی تھانوی سمیت کئی علماء اس کے خلاف فتویٰٔ کفر صادر کرنے کے سلسلے میں سوچتے رہے، مگر یہ فتویٰ جاری نہ کر سکے۔ یونہی اسمبلی میں 1974ء کی اس تاریخی قرارداد پر دستخط کرنے کے لیے اصرار اور بھرپور کوشش کے باوجود مولوی غلام غوث ہزاروی اور مولوی عبد الحکیم دستخط کرنے سے محروم رہے، جبکہ کتنے ہی سعادت مند افراد نے اپنے پیارے نبی ﷺ کی ناموس کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور ہمیشہ کے لیے شہادت کا عظیم تمغہ و مرتبہ حاصل کر لیا۔

ایں سعادت بہ زورِ بازو نیست

تا نہ بخشد خدایِ بخشندہ

اس تحریک میں علامہ شاہ احمد نورانی کے ساتھ ان کی جماعت کے دیگر تین اراکین، حضرت محمد ذاکر محمدی شریف (جھنگ)، شیخ الحدیث مولانا عبد المصطفیٰ ازہری، اور مولانا سید محمد علی رضوی نے بھرپور کردار ادا کیا۔

اس وقت قومی اسمبلی میں جمعیت علماء پاکستان ہی کی پارلیمانی پارٹی تھی۔

علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے قومی اسمبلی میں قادیانیت کے خلاف قرارداد پیش کرنے سے لے کر اس کی منظوری تک نہایت ہی محنت و جانفشانی سے کام کیا۔ اس دوران آپ نے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کے ساتھ، اراکینِ اسمبلی کو اعتماد میں لیا، انہیں مسئلۂ ختمِ نبوت ﷺ کی اہمیت و حیثیت سے روشناس کرایا، رات گئے تک اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کے ساتھ قادیانیوں سے پوچھے جانے والے سوالات کی تیاری کے ساتھ ساتھ، اور مرزا ناصر قادیانی اور صدر الدین لاہوری قادیانی کے محضرنامے کے جواب میں 75 سوالات پر مشتمل سوال نامہ کی تیاری میں بھی بھرپور حصہ لیا۔

آپ نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی اور اس کی ذیلی کمیٹی کے رکن ہونے کے باوجود عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے ملک بھر کے طوفانی دوروں میں چالیس ہزار میل کا سفر طے کیا اور ڈیڑھ سو سے زائد شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں عوامی جلسوں سے خطاب کر کے مسلمانوں کو قادیانیوں کے گمراہ کن عقائد اور شرانگیزیوں سے آگاہ کیا۔

اس سے پہلے بھی علماء موجود تھے، مگر یہ سعادت ماضی میں کسی کے حصے میں نہیں آئی۔ تاریخِ پاکستان میں پہلی بار ایک مردِ حق، پیکرِ صدق و صفا، کوہِ استقامت اور حاملِ جرأت و شجاعت، علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی اسمبلی میں پہنچے اور فتنۂ انکارِ ختمِ نبوت ﷺ کے بارے میں قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

تاریخِ اسلام میں ریاست و ملت کی سطح پر فتنۂ انکارِ ختمِ نبوت ﷺ کو کفر و ارتداد قرار دینے اور اس کے خلاف علمِ جہاد بلند کرنے کا اعزاز جانشینِ رسول، خلیفۂ اول، خلیفۂ بلا فصل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل ہوا، اور ان کے بعد یہ اعزاز انہی کی اولادِ امجاد میں علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی کو نصیب ہوا۔ (ماہنامہ کاروانِ قمر، کراچی، نومبر۔دسمبر 2004ء)

قادیانی مسئلے پر غور و خوض کے لیے قومی اسمبلی کے پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے دو ماہ میں 28 اجلاس اور 96 نشستیں منعقد کیں۔ اس دوران قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے روبرو قادیانی گروہ کے سرخیل مرزا ناصر ملعون، لاہور گروپ کے امیر صدر الدین ملعون، اور انجمنِ اشاعتِ اسلام لاہور کے عبد المنان اور محمود بیگ پر ان کے عقائد و نظریات، ملک دشمنی اور یہودی و سامراجی گٹھ جوڑ کے حوالے سے جرح ہوئی۔ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی فرماتے ہیں:

مسلسل گیارہ روز تک مرزا ناصر ملعون پر جرح ہوتی رہی، پُرجرح، سوال اور جوابی سوال کیے جاتے رہے۔ مرزا ناصر ملعون کو صفائی پیش کرتے کرتے پسینہ چھوٹ جاتا، اور آخر تنگ آ کر کہہ دیتا کہ: "بس! میں تھک گیا ہوں۔"

اسے گمان بھی نہیں تھا کہ اس طرح عدالتی کٹہرے میں بٹھا کر اس پر جرح کی جائے گی۔ وہ اپنا عقیدہ خود اراکینِ اسمبلی کے سامنے بیان کر گیا اور اس بات کا اعلان کر گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی حضور ﷺ کے بعد مسیحِ موعود اور امتی نبی ہے۔

جن اراکینِ اسمبلی کو حقائق معلوم نہیں تھے، انہیں بھی معلوم ہو گیا اور انہیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ مولانا نورانی جنہیں اقلیت قرار دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ لوگ واقعی کافر، مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔

قادیانی مسئلے پر فیصلہ کرنے کے لیے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلے کو جانچنے اور پرکھنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا، اور طویل جمہوری و پارلیمانی کارروائی کے بعد قومی اسمبلی نے پورے تدبر سے کام لیتے ہوئے بالآخر 7 ستمبر 1974ء کو وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی موجودگی میں آئین کی واحد ترمیم منظور کی، جس کی مخالفت میں ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔

یوں ملکی آئین کے مطابق قادیانی اور لاہوری، تمام مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا، اور علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی کی قیادت میں علماء و مشائخِ اہلِ سنت کی جہدِ مسلسل سے پاکستان کے دونوں ایوانوں نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔

اس طرح علامہ شاہ احمد نورانی اور دیگر علماءِ اہلِ سنت کی مشترکہ کوششوں سے نیا فتنۂ قادیانیت اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔

(مجلہ انتظامیہ، لاہور، ستمبر 2001ء، ملخصاً)

نبیِ کریم، تاجدارِ ختمِ نبوت ﷺ کے وسیلۂ جلیلہ سے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ختمِ نبوت کا عرفان عطا فرمائے اور تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ مل کر تحفظِ ختمِ نبوت و ناموسِ رسالت کے سلسلے میں گراں قدر خدمات سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

لا نبي بعدي از احسانِ خدا است

قوم را سرمایۂ قوت از او

پردۂ ناموسِ دینِ مصطفیٰ ﷺ است

حفظِ سرِ وحدتِ ملت از او

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0