پاکستان میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 کے حوالے سے ایک بل پاس ہوا ہے جس کا مقصد کم عمر لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کی روک تھام ہے۔
پاکستان کے صوبوں میں عمر کی شرائط بھی مختلف ہیں: پنجاب اور بلوچستان میں لڑکی کی عمر 16 سال جبکہ لڑکے کی عمر 18 سال مقرر ہے۔ سندھ اور اسلام آباد میں لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے عمر 18 سال ہے۔
قانون:
اگر اس عمر سے پہلے کوئی شادی کرے گا تو قانون حرکت میں آئے گا۔
سزا: 50,000 روپے جرمانہ اور 6 ماہ قید۔
نکاح معاشرے کو پاکیزہ رکھتا ہے اور معاشرے میں استحکام کی فضا قائم کرتا ہے۔ ہم ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں، لہٰذا ہمارا نظام بھی اسلامی معاشرت پر مبنی ہونا چاہیے۔ اسلام میں نکاح کے لیے عمر کی کوئی حد بندی نہیں ہے، بلوغت شرط ہے۔ آپ صرف مغربی ایجنڈے کے تحت اسلام کی پاکیزہ فضا کو مجروح نہ کریں۔ کم عمری میں شادی کا حق اسلامی نے دیا ہے۔ دنیا کی کسی عدالت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ صرف چند افراد کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسلامی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہوئے، لڑکے یا لڑکی کو اس کے اسلامی حقوق سے محروم کرے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ صرف چند ٹکوں کی خاطر اس ضابطے کی فضا کو انتشار کا شکار نہ بنایا جائے۔
اسلام کی روشنی میں اس کا جائزہ:
حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: "جب کسی کے گھر کوئی لڑکا پیدا ہو تو اس کا اچھا سا نام رکھو، جب وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کا نکاح کر دو۔ اگر لڑکا بلوغت کی عمر کو پہنچ گیا اور نکاح نہ کیا، پھر کسی گناہ میں مبتلا ہو گیا تو اس گناہ کا وبال اس کے والدین پر ہو گا۔"
مغربی ایجنڈے پر کام کرنے والو! اگر آپ شادی کے لیے عمر کو مدنظر رکھتے ہو تو اس تناظر میں برائی زیادہ پھیلے گی اور ہمارا معاشرہ مزید برائی کی طرف گامزن ہو گا، جس کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے۔
آج بابا جان کی وہ بات بڑی شدت سے یاد آتی ہے جو کہا کرتے تھے: "یہ بات مسجد کے اسپیکرز تک نہیں رہنی، بات بڑی دور تک جائے گی۔"
واقعی یہ بات بڑی دور تک جائے گی۔ مغربی ایجنڈا یہی ہے کہ پاکستان میں اس قانون کو پاس کر کے برائی کو مزید فروغ دیا جائے، جو نکاح کی صورت میں کمی کا باعث بنتی ہے۔
آخری بات:
اسلام ہر آئین سے بلند، ہر قانون سے بالاتر اور ہر فرد سے مقدم ہے۔ چند سکوں کی خاطر مغربی آقاؤں کی خوشنودی مول نہ لو۔ شریعت کے سنہرے اصولوں کو قانون کی زنجیروں میں نہ جکڑو۔ یاد رکھو: جب نکاح کا دروازہ بند ہوتا ہے، تو گناہ کی سو کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔
تبصرے 0