کالمز

ملک میں نظامِ اسلام کا قیام کس طرح ممکن ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اسے مختلف جہتوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ صرف اسلامی قوانین کے نفاذ کا نام نفاذِ اسلام نہیں ہے بلکہ زندگی کے اس پورے نظام کو نافذ کرنا ہے جو اسلام نے ہمیں دیا ہے۔ نفاذ اسلام ہے قانون اس پورے نظام کی ایک الگ جہت ہے، جسے اگر اس مجموعۂ (نظامِ اسلام) سے الگ کر کے نافذ کر دیا جائے تو یہ اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوگا۔

لہٰذا اگر ہم زندگی کے پورے نظام کو اسی طرح جاہلیت کی راہ پر چلنے دیں جس طرح وہ چل رہا ہے، اور صرف اسلامی قانون کو عدالتوں کے ذریعے نافذ کر دیں، تو اس کے وہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے جو اسلام کو مطلوب ہیں۔

مثلاً چولہے میں آگ جل رہی ہو، ہنڈیا چولہے پر رکھی ہو، اور ہم اس پر برف رکھ رکھ کر اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں، تو وہ ٹھنڈی نہیں ہوگی، کیونکہ وہ تب ہی ٹھنڈی ہوگی جب اس کے نیچے سے آگ نکال دی جائے۔

معاشرے میں برائیوں کے اسباب جوں کے توں رہیں، اور ہم صرف قانون کے ذریعے اصلاح کرنے کی کوشش کریں، تو آخر اصلاح کس طرح ہوگی؟

آپ (اربابِ اقتدار) ایک سہانی صبح یا کسی تابناک رات کو اسلامی قانون کے نفاذ کا اعلان تو کر سکتے ہیں، مگر اس پر عمل درآمد کرانے والی مشینری تو وہی ہوگی جو اب تک کفر کا قانون نافذ کرتی رہی ہے، اور عوام بھی وہی ہوں گے جن کی اکثریت کو مدتِ دراز سے غیر اسلامی روایات نے بگاڑ رکھا ہے۔

صرف ایک اعلان سے نہ اُن کے سینے ایمان کے نور سے، اُن کے ذہن اسلام کی فکر سے آراستہ عادات و خصائل اسلامی اخلاق سے مزین نہیں کر سکتے

تاریخ پر نظر ڈالنے سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ جب انگریز شاطرانہ طریقے سے برصغیر پاک و ہند میں آئے تو یہاں اسلامی تعلیمات کا دور دورہ تھا۔ مسلمانوں کی اپنی الگ تہذیب، الگ تمدن اور الگ روایات تھیں۔ ان کی اخلاقی اقدار موجود تھیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انگریز نے کس طرح اقتدار پر قبضہ کر کے اس صورتِ حال کو بدلا۔ اُس نے صرف یہ نہیں کیا کہ ہمارے قانون (قانونِ اسلام) کو بدل کر اپنا قانون رائج کیا، بلکہ اس نے ہر طرف سے ہمارے نظامِ زندگی پر حملہ کیا اور ہر پہلو سے ہمارا نقصان کیا۔

اُس نے اسلامی نظامِ تعلیم کی جگہ اپنا نظامِ تعلیم رائج کیا۔ حصولِ معاش اور ذریعۂ ترقی بھی اپنے نظامِ تعلیم کے فارغ التحصیل لوگوں کا مقدر بنا دیا۔ اپنی زبان کو ترجیح دی۔ ہماری تہذیب و تمدن کو فرسودہ اور قدیم کہہ کر جھٹلا دیا اور اپنی تہذیب و تمدن کو جدید کا لیبل لگا کر رائج کیا۔

مسلمانوں کو معاشی طور پر مجبور کر دیا تاکہ ان کی فطری آزادی پروان نہ چڑھے بلکہ وہ فکرِ معاش میں سرگرداں رہیں۔ ہماری گردنوں کو اپنے اقتدار کے آگے جھکا لیا اور ہمیں ضمیر، ایمان، عزت، الغرض سب کچھ بیچ ڈالنے کا خوگر بنا دیا۔ اپنا نظامِ معیشت ہم پر زبردستی مسلط کر دیا۔ کسبِ حلال اور جائز روزی کمانے کے تمام ذرائع محدود کر دیے اور حرام خوری اور فحاشی کے تمام راستے کھول دیے۔

اپنے سیاسی نظام کو اس نے اُجاگر کیا اور ہمارے تصورِ حکومت کو اس طرح ختم کیا کہ ہم یہ سوچنے کے قابل ہی نہ رہے کہ ہمارا بھی کوئی سیاسی تشخص تھا۔

قانون کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ یہ تمام تغیرات جب برپا ہوئے تو انگریز کو کبھی بھی یہ کہنے کی ضرورت پیش نہ آئی کہ اپنا دین بدلو، اپنے اخلاق و کردار بدلو، اپنی تہذیب و تمدن بدلو۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ سب ہم خود بدلتے چلے گئے۔

ہر حرام کام کو حلال سمجھا جانے لگا۔ حلال کی طرف ہماری رغبت مفقود ہوتی چلی گئی۔ انگریزوں کے نظریات ہمارے ذہنوں پر مسلط ہوتے چلے گئے۔ یعنی اس کی زبان، اس کا لباس، اس کی تہذیب و تمدن اور اس کا طرزِ زندگی نہ صرف ہم نے فخر کے ساتھ قبول کیا بلکہ اپنے ماحول میں اسے اولیت دینے لگے۔ ہم میں وہ تمام فواحش وباء کی طرح پھیل گئیں جو انگریزی تہذیب کی خصوصیات میں شامل تھیں۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایک قوم کس طرح بدل سکتی ہے اور کیسے بدلے گی۔

اب ذرا دیکھیے! انگریز کے رخصت ہونے کے بعد آزادی کے پہلے دن سے لے کر آج تک ہم نے ان چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو بدلا ہے؟ تبدیل کرنا تو درکنار، ہم اسی پُرخار وادی کی طرف بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں جس پر انگریز نے ہمیں ڈالا تھا۔ تعلیم وہی، اندازِ تدریس وہی، فکرِ تعلیم وہی، بلکہ اس کے نتائج پہلے سے کہیں زیادہ بدتر دکھائی دے رہے ہیں۔ ہماری درسگاہوں پر ایسے اساتذہ کی ایک پوری کھیپ مسلط ہے جو نئی نسلوں کو بے دین اور بدکردار بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ دہریت اور مرزائیت جیسے زہر مسلمان نسل کو پلائے جا رہے ہیں۔ شراب، رقص اور مخلوط تعلیم کی روز افزوں ترویج اس صورتِ حال کو دو آتشہ بنا رہی ہے۔

معاشی اور سیاسی نظام بھی ہمارے پاس وہی ہے جو انگریز دے گیا، بلکہ ہم اس کے سقموں میں پہلے سے زیادہ الجھے ہوئے ہیں، اور اس نظام کو چلانے والے ذہن اس نظام سے ہٹ کر کسی دوسرے نظام کو رائج کرنے کا سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ زبان، تہذیب و تمدن، فکریات اور نظریات پر آج بھی انگریزیت کی چھاپ نظر آ رہی ہے، بلکہ خود انگریزیت کے دور میں بھی اتنی چھاپ نہ تھی۔ اس پر مزید وہ عام اخلاقی بگاڑ ہے جو ہماری زندگی کے ہر گوشے میں پہلے سے زیادہ پھیل چکا ہے اور پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ (اس بات کے موجودہ ذرائعِ ابلاغ گواہ ہیں۔ اجتماعی عصمت دری کیا ہے؟)

ہماری انتظامیہ کی اکثریت رشوت خوری، خیانت اور فرائض سے غفلت میں مبتلا ہے۔ ہمارے کاروباری طبقے میں کم ہی ایسے لوگ ہیں جو حرام طریقوں سے دولت کمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیتے ہوں۔ اس کی مثال موجودہ دور میں یہ ہے کہ غریب دن بدن غریب اور امیر روز بروز امیر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارے ذرائعِ ابلاغ بڑے پیمانے پر لوگوں میں فواحش، عریانی، بدکرداری اور جرائم پھیلانے پر لگے ہوئے ہیں۔ (حالیہ اخبارات، جرائد و رسائل سے اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔)

الغرض ہمارے معاشرے میں، نظامِ معیشت و سیاست میں اور ملکی نظم و نسق میں ان برائیوں کے محرکات اور مواقع بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر حالات جوں کے توں رہے تو کیا ممکن ہے کہ ہم صرف اسلامی قوانین کو نافذ کر کے وہ مقاصد حاصل کر سکیں جن مقاصد کے لیے اسلام نے یہ قوانین ہمیں دیے ہیں؟

شریعت کا فوجداری قانون آپ چاہیں تو ایک دن میں جاری کر دیں، مگر اس کے تحت مجرموں کو کون پکڑے گا؟ کیا یہی انتظامیہ، جو انصاف کی دشمن، مجرموں کی پشت پناہ اور بے گناہوں پر ظلم کرنے میں حد درجہ بے باک ہے؟

پھر عدالتوں کو وہ صدق پر مبنی، خلوص پر قائم شہادتیں کہاں سے میسر آئیں گی جن سے کسی شخص کے مجرم یا بے گناہ ہونے کا فیصلہ انہیں کرنا ہوگا؟ کیا ان گواہان کا تعلق اس معاشرے سے ہوگا جہاں جھوٹے گواہوں کی کمی نہیں، جہاں گواہی دینے کے لیے سو پچاس روپے کافی ہیں۔ اس سے بڑھ کر یہ سوال ہے کہ کیا اسلام کا منشا پورا ہوگا؟ اس طرح ہرگز نہیں۔

ملک کا معاشی نظام یہی رہے جو ڈاکے اور چوری کے محرکات سے لبریز ہے، ملک میں قانون نافذ کرنے والی مشینری بھی یہی رہے جو جرائم کے لیے پورے مواقع فراہم کرتی ہے، اور عدالتیں ان لوگوں کو شرعی سزائیں دے ڈالیں جو ڈاکہ ڈالیں یا چوری کریں؟

نیز کیا اسلام یہ چاہتا ہے کہ فحاشی کی باقاعدہ تشہیر ہو، عریاں تصاویر کی نمائش جاری رہے، ایسا مواد عام ہو جس سے سفلی جذبات کے منتشر ہونے کا پورا پورا سامان میسر ہو، زیبائش و زینت کر کے عورتیں شارعِ عام پر پھرتی رہیں، کالجوں، یونیورسٹیوں، دفتروں، کلبوں اور سیرگاہوں میں مرد و زن کا اختلاط اسی طرح جاری رہے، اور ان حالات میں جو زنا کا مرتکب ہو، اس کی پیٹھ پر کوڑے برسائے جائیں، اور شراب نوشی کے مجرم کو کوڑے مارے جائیں؟

اگر ان سوالات کے جوابات نفی میں ہیں، اور لازماً نفی میں ہیں، تو پھر اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ اسلام صرف قانون کا نفاذ نہیں چاہتا بلکہ اپنے اس پورے نظام کا نفاذ چاہتا ہے جو اس نے ہمیں دیا ہے، اور زندگی کے اس پورے ڈھانچے کی تبدیلی کا خواہاں ہے جو اس وقت ہمارے ملک میں پایا جاتا ہے۔

یہ جو کچھ اظہارِ خیال کیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ غیر اسلامی قوانین کی جگہ اسلامی قوانین کے نفاذ کا تصور ترک کر دیں، بلکہ جو مافی الضمیر کہنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اسلامی قانون کے نفاذ اور نظامِ زندگی کی ہمہ گیر اور ہمہ جہت تبدیلی کا کام یکساں اور ایک ساتھ کیا جائے۔

جس طرح انگریز نے بیک وقت ہمارے نظامِ حیات پر حملہ کر کے اسے ہر پہلو سے گھیر کر اپنے سانچے میں ڈھال لیا، ٹھیک اسی طرح اب ہمیں اس کی چھوڑی ہوئی پوری وراثت پر بیک وقت، ہر پہلو سے اور ہر جہت سے حملہ کرنا چاہیے، اور ہر شعبۂ زندگی میں اس کا قلع قمع کر کے اسلام کے پورے نظام کو عملاً قائم کرنا چاہیے۔

اس مقصد کے لیے قانون کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ جو اقدامات کرنا ضروری ہیں، ان کی مختصر تفصیل بیان کی جاتی ہے۔

(1) نظامِ تعلیم کو فوراً تبدیل کرنا اور علوم و فنون کے ہر شعبے کا نصاب اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق ترتیب دینا۔ کوئی نظریاتی ملک اپنی درسگاہوں میں نرسری سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کسی مرحلے میں اور کسی بھی گوشے میں اپنے نظریے سے ہٹ کر کسی علم، فن یا ذہنی تربیت کے کسی بھی میدان میں دخل گوارا نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر چین وغیرہ اور دوسرے اشتراکی ممالک کے نظامِ تعلیم کو دیکھ لیا جائے۔ مغربی ممالک میں بھی کہیں ایسا نظامِ تعلیم نہیں پایا جاتا جو ان کی نسلوں کو ان کے بنیادی نظریات اور اصولوں سے منحرف کرنے والا ہو، جبکہ یہ بات، قارئینِ کرام! یاد رکھیں کہ پاکستان بھی ایک نظریاتی ملک ہے، اور یہ ملک محض اسلامی نظریے کی بنیاد پر حاصل ہوا۔

(2) مدارس کے لیے معلم کے انتخاب کے وقت اس بات کو مقدم رکھنا ازحد ضروری ہے کہ ہر معلم اسلامی ذہن کا مالک ہو، کماحقہٗ اسلامی تعلیمات سے آگاہ بھی ہو، اسلامی نظریے میں پختہ ہو، عملاً اسلامی احکام کا پابند ہو اور اخلاقِ اسلامیہ سے مزین ہو۔ ہمارے کسی مدرسے میں کسی ایسے معلم کا وجود ہرگز برداشت نہ کیا جائے جو اسلام کے خلاف نظریات رکھتا ہو، اور اخلاقی لحاظ سے اس کا کردار ناقابلِ برداشت ہو۔

کوئی صاحبِ عقل و دانش قوم دنیا میں ایسی نہیں ہے جو اپنی اولاد کو دشمنوں کے حوالے کر دیتی ہو تاکہ وہ ان کی لوحِ سادہ پر جو نقش چاہے ثبت کر دے، خواہ وہ اس کی موت کا پروانہ ہی کیوں نہ ہو۔

اس قسم کی صورتِ حال موجودہ دور میں کالجوں میں دیکھی جا سکتی ہے کہ آغوشِ علم میں تعلیمِ علم کی بجائے نفرتِ علم جنم لے رہی ہے۔

(3) مخلوط تعلیم کا خاتمہ: اختلاطی تعلیم غیر مسلموں کی نظر میں کتنی ہی پسندیدہ کیوں نہ ہو، اسلام کے نقطۂ نظر سے معاشرے کے لیے تباہ کن ہے اور نوجوان نسل کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ کوئی بھی ادنیٰ سی حس رکھنے والا مسلمان اس کے برے نتائج کا متحمل نہیں ہو سکتا، خواہ وہ خود کتنا ہی برا کیوں نہ ہو۔

جو لوگ اس کی حمایت اور مدد کرنے والے ہوں، اُن سے ہاتھ باندھ کر عرض کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے ہاتھوں سے اپنی نسل کو جہنم میں نہ دھکیلیں۔ ارے! والدین تو اپنی اولاد کی بہترین تعلیم و تربیت کے خواہاں ہوتے ہیں، اور آپ کیسے والدین ہیں جن کو علم بھی ہے کہ اگر مخلوط تعلیم کا زہر ہماری اولاد میں سرایت کر گیا تو پھر ہمارا تشخص کیا ہوگا؟

تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو پتا چلے گا کہ یہود و نصاریٰ نے ہمیشہ مسلمانوں کو پسپا کرنے کے لیے باقاعدہ کوئی جنگ نہیں لڑی، سوائے سفلی جذبات کو بھڑکانے کے، سوائے لڑکیوں کو پیش کرنے کے۔ خدارا، ہوش کے ناخن لیں۔

(4) ملک کے اندر لاء کالجوں کی فراوانی ہے، لہٰذا لاء کالجوں کی تعلیم میں بلاتاخیر عربی زبان، قرآن حدیث اور فقہ کی تعلیم کا پورا لحاظ رکھا جائے، اور مکمل انتظام کیا جائے۔ قانون دانوں کو پرہیزگاری اور تقویٰ کی تربیت دی جائے تاکہ ہماری عدالتوں کو مخلص قاضی، جج اور وکیل دستیاب ہو سکیں۔

(5) تمام اداروں میں، جو ہمارے ہاں مختلف سرکاری ملازمتوں کی ٹریننگ کے لیے قائم ہیں، اسلامی تعلیمات اور اخلاقی تربیت کا مکمل انتظام کیا جائے تاکہ حکومت کو صرف ملازم نہیں بلکہ ایسے اہلکار میسر آئیں جو ایمان دار، خدا ترس، فرض شناس اور دین کا علم رکھنے والے بھی ہوں، اور ان کے اندر خوفِ خدا، توکل علی اللہ، خود اعتمادی اور مستقل مزاجی کوٹ کوٹ کر بھری ہو۔

(6) اس وقت جو سرکاری ملازمین ہیں، ان کے کردار کی چھان بین کی جائے۔ جو لوگ ناقابلِ علاج ہوں، بددیانت ہوں، راشی ہوں اور کاذب ہوں، ان کو فارغ کر کے اچھے سیرت و کردار کے حامل افراد کو ملازمت میں لیا جائے۔

(7) جو ملازم قابلِ اصلاح ہوں، انہیں اسلامی ریفریشر کورس کرائے جائیں جو امورِ مذہبی کے زیرِ اثر ہوں۔

(8) تفتیشی جرائم کے شعبے کو چھوڑ کر سی آئی ڈی کا پورا محکمہ پولیس سے الگ کر لیا جائے، اور اس کو تمام سرکاری محکموں، افسروں اور ملازموں کے طرزِ عمل کی نگرانی پر مامور کیا جائے تاکہ یہ محکمہ حکومت کو ہر قسم کی بدعنوانیوں کے بارے میں درست اطلاع بہم پہنچائے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی دوسری انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی اس نگرانی کے لیے استعمال کی جائیں تاکہ خبر رسانی کا کوئی ایک ذریعہ حکومت کو غلط اور مہمل خبریں نہ پہنچا سکے۔

(9) اسلام کے خلاف نظریات، فواحش اور جرائم کی اشاعت جن جن ذرائع سے بھی ہو رہی ہو، ان کا سدِباب کیا جائے اور آئندہ ایسی بے حیائی کی اشاعت پر متعلقہ افراد کو گرفت میں لیا جائے، کیونکہ کوئی نظریاتی مملکت اس بات کو ہرگز برداشت نہیں کرتی کہ اس کے بنیادی نظریے اور اس کے اخلاقی اصولوں کے خلاف کسی قسم کا پرچار کیا جائے۔

(10) تمام ذرائعِ ابلاغ اور نشر و اشاعت ایک ایسی ہمہ گیر تحریک کے لیے مستعمل ہوں جو عوام کو اسلامی عقائد اور احکام سے آگاہ کرے، ان میں خوفِ خدا اور یومِ حشر میں جواب دہی کا احساس پیدا کرے، اور کے اندر صالح اخلاق کی طرف رغبت اور برائیوں سے نفرت پیدا کرے، اور نہایت معقول و مؤثر طریقوں سے لوگوں کو سمجھائے کہ زندگی میں خدا اور رسول کے احکام سے تجاوز کرنا اور اخلاقی حدود کو توڑنا انسان کو دنیا اور آخرت میں کیسے برے نتائج سے دوچار کرتا ہے۔

(11) ملک کے معاشی نظام میں اسلامی احکام کے مطابق ہی تبدیلیاں لائی جائیں جن سے دولت اور جائیداد کی تقسیم منصفانہ ہو، دولت کمانے اور صرف کرنے کے حرام طریقے بند ہوں، برائیوں کے اڈوں کا مکمل خاتمہ ہو، سینماؤں کو مکمل طور پر مقفل کیا جائے یا ایسی فلموں کی نمائش بند کی جائے جن سے سفلی جذبات کو ابھرنے میں مدد ملتی ہو۔

جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے بینک بیلنس باقاعدہ چیک ہوں، اور زکوٰۃ صحیح معنوں میں وصول کی جائے۔ رزقِ حلال کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ عام آدمی بھی بنیادی ضروریات سے محروم نہ ہو۔ ناجائز ذرائع سے جو لوگ قارون بن چکے ہیں، وہ ذرائع ختم کیے جائیں۔

یہ سب کچھ ہو جائے تو اسلام کو نافذ کرنے کے لیے اسمبلی کے اندر بل پاس کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، بلکہ اسلام خود بخود ہی نافذ ہو جائے گا۔

وما علينا إلا البلاغ

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0