تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان کا عام انتخابات آزاد جموں و کشمیر 2026 کے حوالے سے 12 نُکاتی انتخابی منشور
1. ناموسِ رسالت و ختم نبوت ﷺ، ناموسِ صحابہ کرام و اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین اور حرمتِ قرآن کے تحفظ کو ریاست کی اولین ذمہ داری کے طور پر یقینی بنایا جائے گا، اس حوالے سے کسی قسم کی مصالحت یا سمجھوتہ ہرگز نہیں ہوگا۔ اس متعلق ضروری مواد ریاست کے تعیلمی نصاب میں شامل کیا جائے گا تاکہ آنے والی نسلیں خطرناک فتنوں بالخصوص الحاد اور قادیانیت کے شر سے ہر صورت محفوظ رہیں۔
2. مسئلہ کشمیر کو اہلِ کشمیر کی امنگوں کے عین مطابق حل کروانے کے لیے ہر ممکن کوشش بروئے کار لائی جائے گی۔ ریاستی پالیسی، کشمیری عوام کی خواہشات کی ترجمانی کرے گی اور مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیری بھائیوں کے تحفظِ جان و مال، بنیادی حقوق اور حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔ اسی طرح خطے کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ، جو ظلم و جبر کا شکار ہیں، بھرپور تعاون اور یکجہتی یقینی بنائی جائے گی۔
3. ریاست آزاد جموں و کشمیر میں سودی معیشت کا سرے سے خاتمہ کیا جائے گا اور اسلامی نظامِ معیشت کا بتدریج نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔ سود کی ہر شکل میں لین دین کو جامع قانون سازی کے ذریعے سنگین جرم قرار دیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب ہوگا۔ نیز کاروبار کرنے کے خواہش مند افراد، بالخصوص نوجوانانِ کشمیر کو بلاسود، آسان اقساط پر قرضے فراہم کیے جائیں گے، تاکہ ریاست میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور نوجوان نسل ریاست کی معاشی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکے۔
4. آزاد جموں و کشمیر کے قدرتی حسن، پہاڑی مقامات اور تاریخی ورثے کو بروئے کار لاتے ہوئے سیاحت کو معیشت کا اہم ستون بنایا جائے گا۔ سیاحتی مقامات تک رسائی کے لیے سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی بہتری، ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے گی۔ نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی سے ہوٹل انڈسٹری اور ماحول دوست سیاحتی منصوبوں کو فروغ دیا جائے گا جبکہ ماحولیاتی تحفظ کو ہر ترقیاتی منصوبے کا لازمی حصہ بنایا جائے گا۔ مقامی ثقافت، دستکاری اور روایتی مصنوعات کو فروغ دے کر سیاحت کو مقامی معیشت سے براہِ راست جوڑا جائے گا۔
5. نظامِ عدل کے لیے دورِ فاروقی کو مثالی نمونہ بنایا جائے گا۔ انصاف تک رسائی امیر و غریب کے لیے یکساں ہوگی اور عدالتیں مکمل خود مختار ہوں گی۔ میرٹ پر سماعت کے لیے عدالتی امور میں سیاسی مداخلت کا قلع قمع کیا جائے گا۔ مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور بروقت فیصلوں کے لیے اہلیت کی بنیاد پر دیانت دار ججز کا تقرر کیا جائے گا تاکہ برسوں سے زیرِ التوا مقدمات پر منصفانہ عدالتی فیصلے ہو سکیں۔ نیز کم آمدنی والے افراد کو مفت وکلاء کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ غربت انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔
6. تعلیم کو دینی و خلاقی اقدار سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ یکساں و مفت نصاب، دور دراز علاقوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا قیام اور عرصہ دراز سے تباہ حال اسکولوں کی تعمیرِ نو ہوگی۔ جدید ٹیکنالوجی اور AI کو نصاب میں شامل کیا جائے گا اور فنی و تکنیکی تعلیم کے فروغ کے لیے ووکیشنل سینٹرز قائم ہوں گے۔ اساتذہ کی میرٹ پر تقرری اور تربیت پر زور دیا جائے گا، جبکہ ذہین و مستحق طلبہ کے لیے وظائف کا اجراء کیا جائے گا۔
7. اسلامی حکومت نظامِ صحت پر خصوصی توجہ دے گی۔ دور دراز پہاڑی علاقوں میں جدید بنیادی مراکزِ صحت قائم کیے جائیں گے۔ ادویات کی قیمتوں پر موثر نگرانی ہوگی تاکہ کوئی بھی مافیا عوام کو علاج کی سہولت سے محروم نہ کرسکے۔ ضلعی ہسپتالوں کو جدید آلات اور تربیت یافتہ عملے سے آراستہ کیا جائے گا بالخصوص MRI اور CT مشینوں کی کمی کو فوری دور کیا جائے گا۔ ہر ڈویژن میں کینسر ہسپتال، ٹراما سینٹر اور کارڈیالوجی سینٹر تعمیر اور فعال کیے جائیں گے، تاکہ کسی بھی شہری کو علاج کے لیے ریاست سے باہر نہ جانا پڑے۔
8. بیروزگاری کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں نوجوانانِ کشمیر کے لیے IT اور ڈیجیٹل شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ فری لانسنگ، سافٹ ویئر ہاؤسز اور آئی ٹی پارکس کا قیام کیا جائے گا۔ نیز ریاست بھر میں 5G انٹرنیٹ مہیا کیا جائے گا اور کسی بھی صورت انٹرنیٹ بندش نہیں ہونے دی جائے گی۔ نئے کاروبار یعنی اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی فنڈز مختص ہوں گے تاکہ نوجوان معاشی طور پر خودمختار ہو سکیں۔
9. صدر، وزیر اعظم، وزراء و مشیران، ممبرانِ قانون ساز اسمبلی، بیوروکریسی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران سمیت کسی بھی با اختیار عہدےدار کو حاصل تمام غیر ضروری مراعات اور پروٹوکول کا خاتمہ ہوگا اور تنخواہوں میں زمین اور آسمان کے فرق کو ختم کیا جائے گا۔ نیز تمام حکومتی و سرکاری ذمہ داران کو حقیقی معنوں میں دین، ریاست اور عوام الناس کا خادم بنایا جائے گا۔
10. رشوت، سفارش، سیاسی مداخلت اور اقرباء پروری کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور انہیں سنگین جرائم تصور کیا جائے گا۔ سرکاری اداروں بالخصوص پولیس اور حکومت کے ترقیاتی منصوبوں میں کسی بھی قسم کی کرپشن کی اجازت نہیں ہوگی، مالی بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف میرٹ پر مقدمات کا اندراج ہوگا اور آئین و قانون کے عین مطابق، آزاد عدلیہ سزا کا تعین کرے گی۔
11. بیوروکریسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اسلامی تعلیمات اور آئینی حدود کے عین مطابق اختیارات تفویض کیے جائیں گے۔ عوام الناس کو محض اپنے آئینی و بنیادی حقوق، بالخصوص پرامن احتجاج اور اظہار رائے کے حق کے استعمال پر تشدد یا زیادتی کا نشانہ بنانے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی چارہ جوئی یقینی بنائی جائے گی۔ سیاسی اثر و رسوخ کا خاتمہ کیا جائے گا۔ اہلکاروں کو قانونی تربیت، پیشہ ورانہ آگاہی اور اخلاقی تربیت کی فراہمی کے ذریعے اُن کا سماجی و انسانی رویہ بہتر بنایا جائے گا، تاکہ یہ ادارے عوام کے لیے خوف کی بجائے اعتماد کی علامت بن سکیں۔
12. آزاد جموں و کشمیر کے وسائل کشمیری عوام کی ملکیت ہیں اور صرف اُن کے فائدے کے لیے استعمال ہوں گے۔ معدنی و آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے گی اور بیرونی و اندرونی استحصال کا مکمل طور پر سدباب کیا جائے گا۔ نیز غیر قانونی جنگلات کی کٹائی کو سختی سے روکا جائے گا اور بڑے پیمانے پر شجرکاری مہمات چلائی جائیں گی۔
تبصرے 0