اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی غزہ کی نسل کشی محض ایک فوجی جارحیت نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جہاں تہذیب، قانون اور اخلاقیات کے تمام تر دعوے بارود کی نذر ہو چکے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق غزہ میں بجلی کی فراہمی مسلسل 1000 دنوں سے بند ہے، جس نے زندگی کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ غزہ کی 80 فیصد سے زائد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، اور 68 ملین میٹرک ٹن ملبے کے ڈھیر کو ہٹانے کے لیے موجودہ سست رفتار سے 140 سال سے زائد کا عرصہ درکار ہوگا۔ یہ 140 سال کا فاصلہ اسرائیل کی کسی ٹیکنالوجیکل برتری کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ اُس استعماری منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت غزہ کی پٹی کو ایک ناقابلِ رہائش قبرستان میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
اس طویل عرصے میں ڈھائے گئے مظالم کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست ہے۔ ہسپتالوں کو قبرستانوں میں بدل دیا گیا، پانی کے نظام کو زہر آلود کیا گیا، اور بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کر کے بچوں کو موت کے منہ میں دھکیلا گیا۔ مگر اس نسل کشی کا سب سے بھیانک پہلو وہ "خفیہ سفارتی گیم" ہے جو اسلام آباد سے لے کر دیگر دارالحکومتوں تک کھیلی جا رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب غزہ پر آگ برسائی جا رہی تھی، تو حکمرانوں کی ترجیح فلسطینیوں کا دفاع نہیں، بلکہ عالمی آقاؤں کے کہنے پر "امن معاہدے" کی رٹ لگانا تھی۔ یہ وہی دور ہے جب ایک طرف نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی کو عالمی فورمز پر قبولیت کے سرٹیفکیٹ دیے جا رہے تھے، اور دوسری طرف پاکستان کے ایوانوں میں وہی اسرائیلی بیانیہ لائیو چلایا جا رہا تھا۔
تحریکِ لبیک پاکستان اس کربناک دور میں ایک نظریاتی قوت کے طور پر سامنے آئی۔ تحریکِ لبیک پاکستان نے مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی، فلسطین کے حق میں بائیکاٹ مہم چلائی اور اپنی بساط کے مطابق امداد بھجوائی۔ تحریکِ لبیک پاکستان نے قومی مفاد میں اپنے احتجاج مؤخر کیے تاکہ ملک دشمن عناصر کو انتشار پھیلانے کا موقع نہ ملے، مگر حکمرانوں نے اس حب الوطنی کو کمزوری سمجھ لیا۔ جب تحریکِ لبیک پاکستان نے حکمرانوں کی اسرائیل نوازی اور ان کے دوغلے پن کو بے نقاب کیا، تو بدلے میں سانحہ مریدکے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ مریدکے ہی تھا جسے (اکتوبر 2025 میں) ریاستی ظلم کے ذریعے ایک دوسرا غزہ بنا دیا گیا؛ جہاں فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اٹھنے والی آواز کو گولیوں سے دبایا گیا۔ ایک طرف اسرائیل غزہ میں خون بہا رہا تھا، اور دوسری طرف پاکستان میں غزہ کے لیے تڑپنے والے پُرامن شہریوں کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ یہ کوئی تضاد نہیں، بلکہ یہ ریاست کی اس پالیسی کا حصہ تھا جس کا مقصد غزہ کے لیے اٹھنے والی آواز کو کچل کر اسرائیل کو خوش کرنا تھا۔
مگر اقتدار کے نشے میں دھت ن لیگ اور صہیونی جارحیت کے ہر سیاسی و سفارتی پشت پناہ یاد رکھیں! کہ "ہم مر جائیں گے مگر ظالم کی حمایت نہیں کریں گے" یہ تحریک لبیک پاکستان کا وہ موقف ہے جو کسی مصلحت یا ڈر کا پابند نہیں، بلکہ تحریکِ لبیک پاکستان کا ایسا نظریاتی عہد ہے جس پر تحریک کے کارکنوں نے اپنے خون سے مہر ثبت کی ہے۔ غزہ کے ملبوں تلے دبے معصوم بچوں کی آہیں، ہزار دن سے تاریکی میں ڈوبے گھروں کی خاموش فریادیں، اور سانحۂ مریدکے کے شہداء کا مقدس لہو ایک ہی سوال کر رہا ہے: جب ظلم اپنے عروج پر تھا تو تم کس صف میں کھڑے تھے؟
تاریخ نہ طاقت سے مرعوب ہوتی ہے، نہ اقتدار سے۔ تاریخ کے صفحات میں صرف یہ محفوظ رہتا ہے کہ کون حق کے ساتھ کھڑا رہا اور کون ظلم کا سہولت کار بنا۔ غزہ کا ہر قطرۂ خون اور شہدائے مریدکے کا لہو حکمرانوں کے اقتدار کے لیے نوشتۂ دیوار بن چکا ہے اور خونِ مظلوم کا یہ سیلاب ظالم کے تخت کو بہا کر ہی دم لے گا۔ یہی حق کی فتح کا حتمی راستہ ہے۔
تبصرے 0