قومی خبریں

عالمی ترجیحات اور قومی بے اعتنائی

جب شہباز شریف واشنگٹن کے ایک واقعے پر گہری تشویش اور دعاؤں کے پیغامات دیتے ہیں تو یہ محض ایک بیان نہیں رہتا بلکہ ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔

13 اکتوبر کو مریدکے میں پیش آنے والے سانحے پر یہی ریاست کیوں خاموش رہی یا خاموش نہیں رہی بلکہ خود کردار ادا کرتی رہی؟

مریدکے میں جو کچھ ہوا، وہ نہ حادثہ تھا، نہ کسی ہجوم کی بدنظمی، اور نہ ہی کوئی غیر واضح واقعہ۔ یہ ایک پرامن مارچ تھا جو فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان کی نہتی عوام نے اپنے دینی، اخلاقی اور قانونی فریضے کے طور پر کیا۔ لیکن اس کے جواب میں ری.ا.س.تی غ.ن.ڈہ گر.د.ی کے تحت اپنی ہی عوام کو نشانہ بنایا گیا اور جانی نقصان ہوا۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس پر آج تک کوئی واضح جواب موجود نہیں۔

وزیر اعظم کا امریکی قیادت کے محفوظ رہنے پر اطمینان ظاہر کرنا ان خاندانوں کے لیے گہرے دکھ کا باعث بنتا ہے جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے۔ ان کے لیے نہ کوئی واضح انصاف ہے، نہ مؤثر آواز، اور نہ ہی ریاستی سطح پر سنجیدہ جواب دہی، متاثرہ خاندان آج بھی دربدر ہیں۔ یہ پورا طرز عمل ایک ناقابل تردید حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔

آج مسئلہ صرف ایک واقعے کا نہیں، بلکہ ریاستی ترجیحات کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ہے۔ جب اقتدار کی بقا اور اپنی سیاسی طوالت کے لیے امریکہ کی خوشنودی کو ریاستی پالیسی بنا لیا جائے، تو پھر قومی وقار، عوامی جانیں اور داخلی انصاف خود بخود غیر اہم قرار دے دیے جاتے ہیں۔ ایسی ریاست اپنے عوام کو جواب دہ ہونے کے بجائے بیرونی طاقتوں کے سامنے سر جھکانا ریاستی دانش مندی سمجھنے لگتی ہے۔

جب حکمران بیرونی طاقتوں کے تحفظ اور دفاع میں حد سے آگے نکل جائیں، اور اس کے بدلے اپنے ہی ملک کی اخلاقی، آئینی اور انسانی بنیادوں کو گروی رکھوا دیں تو پھر ریاست ایک زندہ نظام نہیں رہتی صرف ایک خالی جغرافیہ بن جاتی ہے، جس میں اقتدار تو ہوتا ہے مگر انصاف نہیں۔ اسی نظام میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں رہتی بلکہ یہ قیمت مفادات، جغرافیے اور سیاسی ترجیحات کے حساب سے طے کی جاتی ہے، اور ہر بار عام پاکستانی شہری کی بنیادی ضرورتوں کو ہی پسِ پشت ڈالا جاتا ہے۔

خود کو عالمی سطح پر امن کا علمبردار، ثالث اور اخلاقی اتھارٹی کے طور پر پیش کرنا اس وقت تک محض ایک کھوکھلا دعویٰ ہے جب تک اپنے ملک کے اندر انصاف کا نظام فعال نہ ہو۔ جو ریاست اپنے ہی شہریوں کے قتل یا جانی نقصان کے سوالات پر جواب دہ نہ ہو، اس کی اخلاقی ساکھ نہیں رہتی، صرف سوالات رہ جاتے ہیں۔

آپ کا ردِعمل:

تبصرے 0