عصرِ حاضر میں اثر و نفوذ کا اصل ذریعہ طاقت نہیں بلکہ بیانیہ ہے۔ جدید میڈیا محض خبر رسانی نہیں کرتا بلکہ یہ طے کرتا ہے کہ معاشرہ کن چیزوں کو ناقابلِ قبول، کن کو قابلِ بحث اور کن کو معمول سمجھے۔
اسی تناظر میں مذہبی توہین یا گستاخانہ مواد کو الگ الگ واقعات کے طور پر نہیں، بلکہ میڈیا وارفیئر کے ایک منظم عمل کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کیا نشر ہوا، بلکہ یہ ہے کہ تکرار، فریمِنگ اور ردِعمل کے نظم کے ذریعے سماجی حساسیت کو کیسے بدلا جا رہا ہے۔
میڈیا وارفیئر وہ حربہ ہے جس میں معاشرے کی نفسیات کو براہِ راست نشانہ بنا کر اس کی حساسیت پر حملہ کیا جاتا ہے اور cognitive boundaries کو آہستہ آہستہ کاٹا جاتا ہے۔ مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر ناموسِ رسالت ﷺ اور مقدس ہستیوں سے متعلق ایسا مواد سامنے آتا ہے جو امت کے جذبات کو مجروح کرتا ہے، اور پھر حسبِ روایت اسے ادارتی کوتاہی یا تکنیکی و کلیریکل غلطی قرار دے کر معذرت کے ذریعے معاملہ سمیٹ دیا جاتا ہے یوں امت کی غیرتِ ایمانی کا Threshold ناپا جاتا ہےاور عوام کو رفتہ رفتہ desensitise کرنا ہوتا ہے، یہاں تک کہ ایک مقام پر یہ سوچ جڑ پکڑ لے کہ ہر بات پر ردِعمل ضروری نہیں۔
یہ مسئلہ کسی ایک کلپ یا ایک لمحے تک محدود نہیں رہا؛ یہ ایک مسلسل process ہے۔ حالیہ مثال میں Geo News پر نشر ہونے والا متنازع مواد اسی پیٹرن کی تازہ کڑی ہے جسے سماجی نظریات میں Overton Window کہا جاتا ہے
یہ وہ فریم ہے جس کے ذریعے کسی معاشرے میں ناقابلِ قبول چیز کو پہلے قابلِ بحث، پھر قابلِ قبول اور آخرکار نارمل بنا دیا جاتا ہے۔ ناموسِ رسالت ﷺ کے معاملے میں یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اور میڈیا اس کا مرکزی آلہ ہے۔
اوورٹن ونڈو کے پہلے دو مرحلوں کی کلاسیکل مثال ہے:
* Shock: ایسا مواد جو ایمان کو جھنجھوڑ دے۔
* Aftershock: پھر اس کا ردعمل
اور اب سوال یہ نہیں رہتا کہ یہ غلط تھا یا نہیں، بلکہ بحث یہ بن جاتی ہے کہ ردِعمل مناسب تھا یا نہیں۔
یوں اصل جرم پس منظر میں چلا جاتا ہے، اور ردِعمل کٹہرے میں آ جاتا ہے اور یہ ذہنی سرحدوں کی خاموش ری-ڈیزائننگ ہوتی ہے پھر جو کل تک ناقابلِ برداشت تھا، آج قابل بحث بنا دیا گیا اور جو آج قابل بحث ہے، کل اسے برداشت نہ کرنے والا “شدت پسند” قرار پاتا ہے یوں ایک بری چیز کو معاشرے میں normalise کیا جاتا ہے۔
اسلامی تاریخ اس ہتھکنڈے سے ناواقف نہیں، مسلمانوں کو کبھی ایک دن میں مغلوب نہیں کیا گیا۔ ہر بڑے زوال سے پہلے ایک فکری حملہ ہوا۔ جس کا پہلا ہدف ایمان کی حساسیت تھی۔
اندلس اس کی کلاسیکل مثال ہے۔
جب عیسائی طاقتیں عسکری طور پر فتح حاصل نہ کر سکیں تو انہوں نے تہذیبی یلغار شروع کی۔ مساجد کے مقابل تہذیبی مراکز کھولے گئے، اسلامی علامات کو “پسماندگی” کہا گیا، اور مسلم نوجوانوں کو یہ باور کرایا گیا کہ عزت، ترقی اور قبولیت اپنی شناخت سے دستبردار ہونے میں ہے۔
پہلے حیا کمزور کی گئی، پھر غیرت، اور آخرکار وہ قوم جس نے آٹھ سو سال حکومت کی تھی
اپنی تہذیب پر خود شرمندہ ہو گئی۔
یہ زوال تلوار سے نہیں، Normalisation سے آیا۔
عباسی دور کے آخری مراحل میں بھی یہی پیٹرن دکھائی دیتا ہے۔ بیت الحکمت جیسے ادارے علم کے نام پر قائم ہوئے، مگر یونانی فلسفے کی آمیزش اس انداز میں کی گئی کہ وحی کو “ایک رائے” اور عقلِ محض کو “حتمی معیار” بنا دیا گیا۔ ابتدا میں یہ صرف علمی مباحث تھے، پھر دینی مسلمات کو “قابلِ بحث” کہا گیا، اور بالآخر وہ چیزیں جو ایمان کا حصہ تھیں۔ انہیں اختلافی موضوع بنا دیا گیا۔
یہ فکری انتشار بھی Desensitisation کا نتیجہ تھا۔
برصغیر میں نوآبادیاتی دور میں یہی حربہ ایک نئے انداز سے استعمال ہوا۔
انگریز نے شریعت کو براہِ راست ختم نہیں کیا۔ اسے Primitive کہا، قانون کو “سیکولر” اور دین کو “ذاتی معاملہ” بنا دیا۔ پہلے اسلامی عدالتیں ختم ہوئیں، پھر حدود کو “غیر مہذب” کہا گیا، اور آخرکار مسلمان خود اپنے قانون کے دفاع میں معذرت خواہ بن گئے۔
یہ بھی ایک دن کا عمل نہیں تھا،
بلکہ نسل در نسل چلنے والی نفسیاتی Conditioning تھی۔
خلافتِ عثمانیہ کے آخری دور میں
مغربی اصلاحات کے نام پر یہی عمل دہرایا گیا۔
پہلے لباس بدلا،
پھر زبان،
پھر نصاب،
اور آخرکار خلافت کو “غیر متعلق” قرار دے دیا گیا۔
جب شناخت کمزور ہو جائے تو اقتدار خود بخود گر جاتا ہے۔
ان تمام مثالوں میں ایک قدرِ مشترک ہے: کہیں یہ اعلان نہیں کیا گیا کہ “ہم تمہارا دین مٹانا چاہتے ہیں”، سب کچھ ترقی اور اصلاح کے نام پر ہوا۔
آج یہی ماڈل میڈیا کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے؛ فرق صرف یہ ہے کہ اب ڈرامے، سیریز، ٹی وی پروگرامز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اس کے اوزار ہیں۔ میڈیا وارفیئر کا بنیادی ہدف قانون سے ناموس رسالتﷺ اور دینی غیرت کو نکالنا نہیں، بلکہ ذہنوں سے بے دخل کرنا ہے۔ جب کسی قوم کو یہ سکھا دیا جائے کہ
غیرت = انتہاپسندی
دفاع = عدم برداشت،
تو دشمن کو آگے بڑھنے کے لیے اجازت نامے کی ضرورت نہیں رہتی.
یہ جنگ اسکرین پر لڑی جا رہی ہے اور اس کا نشانہ ایمان ہے، مقصد عوام کو مشتعل کرنا نہیں بلکہ آہستہ آہستہ بے حس کرنا ہے، تاکہ جو کل جان دینے اور جان لینے کو تیار تھے، آج “opinion” اور کل “normal” بن جائے۔ اسے محض “غلطی” کہنا خود سب سے بڑی غلطی ہے۔ جب ایک ہی طرزِ عمل، ایک ہی معذرت اور ایک ہی پیٹرن بار بار دہرایا جائے تو وہ حادثہ نہیں رہتا؛ وہ ایک منظم، شعوری پالیسی بن جاتا ہے اور یہی عمل میڈیا وارفیئر کہلاتا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستانی میڈیا کی جانب سے حالیہ گستاخی کو محض "غلطی" کہنے والوں کے لیے دو ٹوک پیغام ہے کہ ان تمام سازشوں، فکری یلغاروں اور کفر کے حربوں کا اصل چہرہ امیرُ المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی نور اللّٰه مرقدہ پہلے ہی بے نقاب کر چکے ہیں، جب ن لیگ کے دور حکومت میں ختم نبوت ﷺ پہ ڈاکہ ڈال کر اسے "غلطی" کا نام دیا گیا تو قبلہ امیر المجاہدین نور اللّٰه مرقدہ نے حقیقت کو آشکار کیا کہ "یہ محض غلطی نہیں ایک سازش ہے" بعد ازاں راجہ ظفر الحق کی رپورٹ نے بھی اس مؤقف کی تائید کی۔
جیو نیوز کفر کا آلۂ کار ہے۔ ہمارے امام نے برسوں پہلے اس حقیقت سے قوم کو آگاہ کر دیا تھا، اور آج جیو کی حالیہ سنگین گستاخی اُن کے مؤقف کی واضح تصدیق ہے۔ اب جیو اس حد تک آگے بڑھ چکا ہے کہ جانِ کائنات ﷺ کی دانستہ گستاخی کو محض "غلطی" قرار دے کر اس سنگین جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی غلطی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے، جس کا مقصد تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کو نارملائز کرنا اور عوام کی توجہ اصل جرم سے ہٹانا ہے۔
ایسی ہر سازش کے خلاف تحریک لبیک پاکستان اپنے امام کے واضح اور دوٹوک مؤقف پر ثابت قدم رہتے ہوئے آہنی دیوار کی طرح کھڑی ہے، اور ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کرے گی
تبصرے 0